پاناما کیس کا درست فیصلہ ہی پاکستان کے روشن مستقبل کا تعین کرے گا !

احمد سلمان انور

احمد سلمان انور


 

پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے مقدمے پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ آنے والا ہے۔ پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے کی جانب سے ہوشرباءانکشافات افشا کرنےوالی ایک کروڑ دس لاکھ دستاویزات میں دنیا بھر کے سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کی خفیہ دولت، تعلقات، آف شور کمپنیوں اور اکاو¿نٹس کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ان تمام شخصیات میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی فیملی بھی شامل ہے۔پانامہ لیکس کا مقدمہ کئی حوالوں سے تاریخی اور منفرد مقدمہ ہے جس کی مثال گزشتہ کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔ پانامہ لیکس کی روشنی میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے پانچ محترم باوقار، نیک نام اور سینئر ترین جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے شریف خاندان کی تین نسلوں کے اثاثوں کا جائزہ لینے کیلئے طویل، صبر آزما اور شفاف سماعت کی جس کے دوران فریقین کو اپنا مو¿قف ثابت کرنے کیلئے پورا موقع دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ پاکستان کا کوئی اہل دانش اور ماہر قانون اس امکان کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ پانامہ لیکس کے مقدمے میں وزیراعظم کو کلین چٹ مل جائیگی۔ ماہرین قانون ججوں کے ان ریمارکس کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ فیصلہ تاریخ ساز ہوگا اور بیس سال گزرنے کے بعد بھی اس فیصلے کی اہمیت، انفرادیت، جامعیت، شفافیت اور آئینیت کو تسلیم کیا جائیگا۔پاکستان کے معروف صحافی اور کالم نگار رو¿ف کلاسراءاپنی نئی تحریر میں لکھتے ہیں کہ” سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران جو ایک جھوٹا بھرم تھا وہ بھی ٹوٹ گیا، اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پاکستان کی بیورو کریسی کیسے مردہ گھوڑا بن چکی ہے اور یہ ملک کے حکمرانوں کی ذاتی غلام بن چکی ہے۔ سپریم کورٹ کو بھی یہ سن کر سخت مایوسی ہوئی کہ کوئی بھی ادارہ پاکستان میں نہیں بچا جو پاناما اسکینڈل کی سماعت کر سکتا، سب نے اپنے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے، نیب چیئرمین قمر الزمان چوہدری کے جوابات نے جہاں عدالت کو سخت مایوس کیا وہاں یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ اس ملک میں سب ادراے اب تقریباً کام کرنے کا قابل نہیں رہے“۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے عدالت اعظمیٰ ، اعلیٰ سیاسی قیادتیں ، ساری قوم اور میڈیا کرپشن کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود کرپشن کے خلاف حکومتی ادارے کوئی بھی اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں۔حکمرانوں کی لوٹ مار اور بندر بانٹ کے باعث مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور عام لوگوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ ایک طرف بڑے بڑے عہدوں پر فائز سرکاری افسر اور حکمران گروہ قومی دولت کی لوٹ مار کے باعث عیش و عشرت میں مگن ہیں اور دوسری طرف غریب اور فاقہ کش لوگ خود سوزی اور خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا اپنے حالیہ ایک بیان میں کہنا تھا کہ دودھ کی رکھوالی پر بلے بیٹھے ہیں،ملک کا وزیراعظم قوم کے پیسے کا امین ہوتا ہے،پہلی بار طاقتور شخص کی تلاشی ہوئی،جائیداد ان کی ہے ہمیں کہا جارہا ہے دستاویزات لے کر آئیں،ملک کا سربراہ ایماندار نہیں تو وہ وزیراعظم رہنے کا حق کھودیتا ہے،اسحاق ڈار کا اعترافی بیان ہی اصل میں منی ٹریل ہے۔اسی طرح امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ مسلح دہشت گرد پہاڑوں پر اور مالی دہشت گرد ایوانوں میں ہوتے ہیں، مالی دہشت گردوں کے خلاف بھی قومی ایکشن پلان کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف عدالتیں کر سکتی ہیں،قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ، قوم واضح فیصلہ چاہتی ہے تاکہ ملک میں کرپشن کے راستے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں۔کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جس سے معاشرے میں ترقی نہیں ہوتی بلکہ تنزلی ہوتی ہے، کوئی بھی کرپٹ قوم اقوام عالم میں وہ اہمیت حاصل نہیں کر پاتی جو ایک شفاف معاشرے کےلئے بہت ضروری ہے۔ دنیا بھر میں کرپشن کےخلاف موثر اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تاکہ ملک و قوم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکے لیکن پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے۔ہمیں بحیثیت مخلص پاکستانی یہ سوچنا ہو گا کہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کےلئے ہمارا اپنا کردار کیا ہے، ہمیں اس کےلئے خود آگے بڑھ کر انفرادی طور پر بھی کوشش کرنی چاہئے ہمیں خود میں یہ شعور اجاگر کرنا ہو گا جوپاکستان کے مستقبل کا تعین کرے ۔ باکردار اور دیانتدار قیادت کو ملک کی بھاگ دوڑ اور مستقبل سونپ سکے۔ یقینا ہر پاکستانی کی یہ فطری خواہش ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔اس تاریخی مقدمے کے بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے ہیں۔جونہایت نیک نام اور قابل جج ہیں۔ دیکھنا ہے کہیہ بنچ اس اہم ترین کیس کے فیصلے کو کس طرح تاریخی حیثیت دیتا ہے۔یقینا بہت سے حوالوں سے پاکستان کے مستقبل کا تعین اور وطن عزیز سے اعلیٰ سطحی کرپشن کے خاتمہ کا اختیار قدرت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو دے دیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عدالت عظمیٰ کے ہاتھوں پانامہ کیس کا ایسا درست فیصلہ صادر فرمائے جو نہ صرف انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ہو بلکہ عوامی امنگوں کا بھی آئینہ دار ہو تاکہکرپشن، لاقانونیت اور دہشتگردی جیسے عفریت کے پنجوں میں جکڑے وطن سے منافقت ،مفاد پرستی ،جھوٹ اور کرپشن پر مبنی سیاست کاخاتمہ ممکن ہواور ہماری آنے والی نسلوں کو ایک ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں امیر اور غریب کے لیئے ایک ہی طرح کا قانون ہو۔اور وطن عزیز ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

Scroll To Top