ان بدبختوں کو واصل بہ جہنم کرنا ہمارا بھی فرض ہے 16-11-2010

یہ لوگ جہنمی ہیں۔ محمدﷺ کے رب کے منکر اور خود آپﷺ کے باغی ہیں ۔ انہیں دوزخ کی آگ سے پناہ نہیں ملے گی۔ لیکن ان کے ” اعمال بد“ کی سزا اس دنیا میں ان لوگوں کے ہی ہاتھوں کیوں نہ ملے جو خود کو اللہ کے بندے اور آقائےﷺ دو جہاں کے پیروکار سمجھتے ہیں؟
آپ یقینا سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا اشارہ کن بدبختوں کی طرف ہے۔
گزشتہ کافی دنوں سے حجاج کرام کے ساتھ کئے گئے دھوکے کے بارے میں خبریں شائع ہورہی تھیں۔ ان خبروں کا ماحصل یہ تھا کہ شیطان کے ایک پجاری ٹولے نے مل کر حجاج کرام کے حقوق پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالا ہے۔ ابتداءمیں تو متعلقہ وزارت اور اس کے حکام نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا مگر اب سابق ڈائریکٹر حج کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے۔
پاکستان کے لئے زیادہ شرم کامقام یہ ہے کہ جس ٹھیکیدار کو حجاج کے لئے ٹرانسپورٹ اور منیٰ میں رہائش وغیرہ کا انتظام کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا اسے سعودی انتظامیہ نے گرفتار کرلیا ہے۔جو کام ہماری حکومت کو سرانجام دینا چاہئے تھا وہ سعودی انتظامیہ انجام دینے پر مجبور ہوگئی ہے۔
اب ہمارے وزیر برائے مذہبی امور بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کہیں نہ کہیں بدانتظامی اور گڑ بڑ ضرور ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے گی۔ مگر خود استعفیٰ دینے کا ارادہ انہوں نے ظاہر نہیں کیا۔ حالانکہ ساری ذمہ داری ان کی اپنی اور ان کی وزارت کے سیکرٹری کی ہے۔
اگر اربوں روپے کے اس سکینڈل پر کچھ بڑی اور موٹی گردنوں میں جلد پھندے نہ پڑے تو اہل پاکستان ہاتھ اٹھا کر بارگاہ الٰہی میں یہ دعا مانگنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ اے رب کعبہ ہمیں ان شیطانوں سے رہائی دلا جو تیری ذات کو ماننے کا دم بھرنے کے باوجود تیرے قہر سے نہیں ڈرتے۔۔۔

Scroll To Top