شاہین اور عصرِ حاضر

  • محمد ارسلان شید اعوان

ایک دہائی سے تدریسی فرائض کی انجام دہی کے بعد مجھے یہ بخوبی اندازہ ہوا کہ اقبال کا شاہین کہیں ابدی نیند سوچکا ہے۔ مجھے آج عرب کی وہ تاریخ یاد آتی ہے کہ عربوں کے پاس کچھ نہ تھا سوائے ان 7قصیدوں کے جووہ گنگناتے اور سناتے رہتے تھے اور وہ سات قصیدے تھے بھی صرف عورتوں کے بارے میں ۔ ان عربوں نے عورت کی ناک کے 70نام اور عورت کی آنکھوں کے بے شمار نام اپنی غزلوں میں اتاررکھے تھے ان کے پاس نہ فلسفہ تھا ، نہ طب تھی ، نہ حکمت تھی اور نہ جغرافیہ ۔ انہوں نے اپنی ساری کی ساری چالبازیاں بس اپنی باتوں میں چھپا رکھی تھیں ان کو فخر بھی تھا تو صرف اس بات پر کہ ہم لسالن العرب ہیں ہمیں بولنا آتا ہے۔
لیکن پھر نبی اکرم ﷺ نے ان عربوں کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالا تو یہ وہی مسلمان تھے جنہوں نے باتوں سے نہیںبلکہ عمل سے شرق تاغرب اسلام کا علم لہرادیا۔یہ وہی باتونی عرب تھے کہ علم کی روح بیدا ر ہوئی تو پھر دنیا کے خطوں سے پہلی بار جابر بن حیان، البیرونی اور بوعلی سینا جیسے سائنسدان مسیحا بن کر سامنے آئے۔ اور مسلمانوں میں ایک جنون پیدا ہو اکہ ہم نے دنیا کا علم اپنے پاس اکٹھا کرنا ہے تو خلیفہ ہارون الرشید نے زمانے میں کتابوں کو اپنی زبان میں ترجمہ کرانے کے لیے ایک ایک مترجم کی تنخواہ 30،30 ہزار دینار مقرر کی گئی۔یونان کے سقراط کو کون نہیں جانتا اس کے مقبرے کے پاس پتا چلا کہ کچھ کتابیں پڑی ہیں ۔مسلمان وہاں پہنچ گئے یونانیوں کو خبرہوئی کہ مسلمان مہنگے داموں کتابیں خرید لیتے ہیں تو یونانیوں نے اعلان کردیا کہ ہم کتابیں سونے کے برابر تول کردیں گے اور تاریخ آج بھی فخر کرتی ہے کہ مسلمانوں نے یہ اعلان کردیا کہ کتابیںلاﺅ سونے میں تولو اور ہمارے حوالے کردو ہم لینے کو تیار ہیں۔پھر چھ صدیاں ایسی گرزی کہ تاریخ گواہ ہے پھر مسلمانوں نے علم کے دروازے پر اپنے مقابل کسی کو کھڑے نہیںہونے دیا۔
اس کے بعد دور شروع ہوتا ہے انگریز کا۔ انگریز کے پاس بھی کچھ نہیں تھا سوائے باتوں اور شاعروں کے ۔انگریزوں کے پاس مسلمانوں کے عروج کی چھ صدیاں گز ر جانے کے بعد بھی صرف شیکسپئیر کے ڈرامے اور گوئٹے (جرمنی کا شاعر) کی نظمیں تھیں۔انگریز کے پاس بھی نہ علم فلکیات تھا ۔نہ حکمت تھی نہ فلسفہ نہ حساب تھا۔ یہ انگریزی زبان جس کو آج کا نوجوان بڑی خوشدلی سے اپنے فقروں میں سمو سمو کر ظرف سے خالی فلسفے پیش کرتا ہے اس انگریزی کا دو سو سال پہلے نام و نشان بھی نہ تھا۔پھر وہی کام ہوا کہ انگریزوں نے کبھی دھوکے سے تو کبھی طاقت سے مسلمانوں کی لائبریریاں اپنے قبضے میں کی یہی وجہ ہے کہ آج جابر بن حیان عربی میں ملے نہ ملے انگریزی میں ضرور ملے گا۔ گوئٹے جرمن زبان میں ملے نہ ملے انگریزی میں ضرور ملے گا۔بو علی سینا عربی میں ملے نہ ملے انگریزی زبان میں ضرور ملے گا۔
مسلمانوں کا وہ علم جب قطربہ اور غرناطہ کی یونیورسٹیوں سے نکل کر ہاورڈ اور آکسفورڈ کی یونیورسٹیوں میں پہنچا تو ایک عظیم ظلم کیاانگریزوں نے ۔انہوں نے میرے آباﺅ اجداد کے علم کو یوں اپنے سانچے میں ڈھالا کہ میرے آباﺅ اجداد کا نام تک بدل ڈالا۔ آ ج بھی طفل انگریز اپنی انگریزی کی کتاب میں جب بوعلی سینا کو (AVICENNA) پڑھتا ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ میری اسلامی دنیا کا باتونی نوجوان کل کہیں بو علی سینا کو انگریز کے آباﺅ اجداد سے نہ سمجھ لے۔ کیا خوب کہا علامہ اقبال نے کہ۔
شور ہے ہوگئے دنیاسے مسلمان نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضع میںتم ہو نصاریٰ تو تمدن میں نہود
یہ مسلمان ہیں کہ جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
آج اگر نوجوان کا کامیابی چاہتا ہے تو اسے یاد رکھنا ہوگا کہ انسان زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کتنے جتن کرتا ہے کتنی بھی کوششیں کرتا ہے کہ سخت محنت کرتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ کامیابی کسی ایک واحد عنصر کا نام نہیںبلکہ یہ ایک مرکب ہے۔ اللہ کی رضا، والدین کی دعاﺅں ، اور پھر اپنی محنت ، لگن ، جذبے اور قوی ارادوںکا۔
کامیابی ممکن ہے صرف اس صورت میں جب عزم پختہ اور ارادے غیور ہوں اور جذبے قوی ہوں اور درپیش مصائب و مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا جذبہ موجود ہو۔ایک مومن کو تباہی تو قبول ہوسکتی ہے مگر شکست کسی صورت نہیں۔ ہماری آج کی نوجوان نسل میں یہی ساری خوبیاں دیکھنے کے لیے ہی شاعر مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال ؒ نے نوجوان کو شاہین کا لقب دیااورکیا خوب کہا کہ عقابی روح جب بیدا ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
علامہ اقبال نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں اگر حقیقی مقام کو جان لیں اپنی منزل کا تعین کرلیں تو ان کی منزل بہت بلندیوں پر ہے اور مقام عام دنیا کی نسبت اونچا ئیوں پر ہے۔ فرماتے ہیں کہ نوجوان اپنی خودی کو فولاد کی مانند سخت بنائیں وہ زندگی کی او ر تہذیب کی آسائیشوں اور عیاشیوں سے اجتناب کریں اور اپنے اندر شاہین کا وہ جذبہ قوت اور خصوصیات پیدا کریں ۔ کمزوری اور ضعیفی ایسا جرم ہے ۔جسکی سزا صرف موت ہے اور پھر قسمت بھی صرف انہی لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو محنت کی عظمت اور پختہ ارادوں پر یقین رکھنے والے بہادر انسان ہوں۔صرف ایسا نہیں ہے کہ بہادر لوگوں کو ہمیشہ کامیابی ہی ملتی ہے مگر ناکامی کے ڈرسے آگے نہ بڑھنا بھی بہت بڑی وقوفی ہے۔
خود عمل تیرا ہے صورت گر تیری تقدیر کا
شکوہ کرنا ہے تو اپنا کر مقد ر کانہ کر
آج نوجوانوں کے فرائض منصبی میںیہ شامل ہے کہ آگے بڑھیں اور وطن کی تعمیرو ترقی اور وطن کی شان بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالیںنہ کہ اس دھرتی پر بوجھ بن کر رہیں اگر کی ملت کی تقدیر بدلی ہوتو صرف صورت میں بدل سکتی ہے جب باغ عالم میں اپنے لہو کے چراغ روشن کیے جائیں ۔تقدیر کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر تقدیر کا منہ دیکھتا رہے اور کہے کہ جو میری تقدیر میں مل جائے گا کیوںکہ تقدیر پہ بھروسہ کرنا راہبوں کا شیوہ ہے لیکن ہمت سے تقدیر کو بدل جاسکتاہے۔
علامہ قبال ؒ نوجوانوں کو واضح طور پر یہ پیغام دے چکے ہیں کہ فرنگی نظام کو اپنانے کی بجائے اپنے اسلاف کی اقدار کو بچانے میں عمل پیرا رہو ۔ اس نظام کو مت اپنے اوپر لاگو کرو جو نقل ہے ہمارے آباﺅ اجداد کی۔آج فرنگی نظام کی چمک و دمک صرف ایک فریب ہے ہمارے اصل نظام کو کچلنے کے لیے۔اللہ آپکا اور ہم سب کا حامی وناصر ہو۔(آمین)

 

Scroll To Top