تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_bحضرت علیؓ نے فرمایا کہ واللہ ! یہ تم لوگوں کی سازش ہے اور تمہاری نیت نیک نہیں ہے۔ ان لوگوں نے کہا خیر جو کچھ بھی ہو اس خلیفہ کو قتل کرنا ضروری ہے۔ آپ اس کام میں ہماری مدد کریں۔ حضرت علیؓ نے برہم ہو کر فرمایا کہ میں بھلا تمہاری مدد کیسے کر سکتا ہوں۔ یہ سن کر ان لوگوں نے کہا کہ پھر آپ نے ہم کیوں لکھا تھا؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں نے تم کو کبھی کچھ بھی نہیںلکھا۔ یہ سن کر وہ آپس میں حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ حضرت علیؓ اس کے بعد مدینہ سے باہر احجاز الزیت میں تشریف لے گئے اور بلوائیوں نے حضرت عثمان غنیؓ کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ اب تک بلوائی لوگ حضرت عثمان غنیؓ کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے۔ اب انہوں نے ان کے پیچھے نمازیں پڑھنی چھوڑ دیں اور دوسرے لوگوں کو بھی زبردستی حضرت عثمان ؓ کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکنا شروع کیا۔
حضرت عثمان غنیؓ نے یہ رنگ اور مدینہ کی گلیوں کو بلوائیون سے پر دیکھ کر مختلف ممالک کے والیوں کو خطوط لکھے اور امداد طلب کی۔ یا یہ خبریں خود بخود ہی ان ممالک میں پہنچیں ۔ چنانچہ مصر، شام ، کوفہ، بصرہ سے نیک دل لوگوں اور صحابہ کرام نے مدینہ کی طرف لوگوں کو روانہ ہونے اور خلیفہ وقت کی مدد کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت معاویہؓ نے حبیب بن مسلمہ فہری کو اور عبداللہ بن سعدؓ نے معاویہ بن خدیج کو روانہ کیا۔ کوفہ سے قعقاع بن عمروؓ ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اسی طرح بصرہ سے بھی ایک جماعت روانہ ہوئی۔ ان خبروں کے پہنچنے اور ان امدادی جمعیتوں کے روانہ ہونے میں ضرور کچھ نہ کچھ تامل واقع ہوا کیونکہ ان میں سے کوئی بھی حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت سے پہلے مدینہ میں نہ پہنچ سکا۔ سب نے راستہ ہی میں واقعہ شہادت کا حال سنا اور راستہ ہی سے اپنے اپنے صوبون کی طرف واپس روانہ ہوگئے۔ تیس دن تک حالت محاصرہ میں حضرت عثمان غنیؓ نمازوں کے لئے مسجد میں آتے رہے۔ اس کے بعد بلوائیوں نے ان کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی کا جانا بند کر دیا۔ حضرت عثمان ؓ نے ہر چند کہا کہ تم عینی شاہد پیش کرو کہ میں نے یہ خط لکھا ہے جس کو تم نے بہانا بنایا، یا مجھ سے قسم لے لو، مجھ کو اس کا کوئی علم نہیں ہے۔ بلوائیون نے کسی کی کوئی معقول بات پسند نہ کی۔ ایک عام افراتفری کا زمانہ تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ پر بلوائیوں نے پانی کا جانا بند کر دیا تو ان کو بڑی تکلیف ہوئی، پھر ایک ہمسایہ کے ذریعہ پوشیدہ طور پر پانی گھرمیں پہنچتا رہا۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی امامت: حضرت عثمان غنیؓ جب خود مسجد میں نہ آسکے تو انہوں نے نمازوں کی امامت کے لئے ابو ایوب انصاریؓ کو مقرر فرمایا لیکن چند روز کے بعد بلوائیوں کے سردار غافقی بن حرب مکی نے خود نمازوں کی امامت شروع کر دی۔ مصر میں جس طرح محمد بن ابی بکرؓ حضرت عثمانؓ کے خلاف کوشش کرتے تھے، اسی طرح محمد بن حذیفہ بھی مخالفت عثمانی میں مصروف تھے۔ جب مصر سے عبدالرحمن بن عدیس کی سرکردگی میں قافلہ روانہ ہوا تو محمد بن ابی بکرؓ ان لوگوں کے ساتھ ہی مدینہ منورہ میں آئے تھے لیکن محمدبن حذیفہ وہیں مصر میں رہ گئے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ کے محاصرہ کی خبر جب مصر میں پہنچی تو عبداللہ بن سعدؓ وہاں سے خود ایک جمعیت لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب مقام رملہ پہنچے تو ان کے پاس خبر پہنچی کہ محمد بن حذیفہ نے مصر پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ سن کر وہ واپس آگئے۔ فلسطین ہی میں تھے کہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر پہنچی گئی۔محاصرہ کی خبر چالیس روز تک ممتد رہی۔ اس عرصہ میں حضرت علیؓ کئی مرتبہ حضرت عثمان غنیؓ کے پاس آئے اور انہوں نے بلوائیوں کے سمجھانے اور واپس چلے جانے کی کوششیں بھی کیں لیکن حضرت عثمان غنیؓ کے میر منشی مروان بن الحکم نے جوان کا چچازاد بھائی بھی تھا۔
(جاری ہے….)12300965386_2a143d63b4_b

Scroll To Top