تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b

فتنہ پر داز قافلوں کی روانگی: سب سے پہلے ایک ہزار آدمیوں کا ایک قافلہ مشہور کر کے کہ ہم حج کرنے جاتے ہیں۔ مصر سے روانہ ہوا، اس قافلہ میں عبدالرحمن بن عدیس، کنانہ بن بشر یمنی، سودان بن عمران وغیرہ شامل تھے۔ اس قافلے کا سردار غافقی بن حرب مکی تھا۔ تجویز کی گئی تھی کہ مصر سے یہ ایک ہزار آدمی سب کے سب ایک ہی مرتبہ ایک ساتھ روانہ نہ ہوں بلکہ مختلف اوقات میں یکے بعد دیگرے چار چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں روانہ ہوں اور آگے کئی منزل کے بعد مل کر سب ایک قافلہ بن جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایک ہزار کا قافلہ مقام کوفہ سے مالک اشتر کی سرداری میں اسی اہتمام کے ساتھ یعنی چار حصوں میں منقسم ہو کر روانہ ہوا، اس قافلہ میں زید بن صفوان عبدی، زیادہ بن النضر حارثی، عبداللہ بن اماسم عامری بھی شامل تھے۔ اسی طرح ایک ہزار کا قافلہ حرقوس بن زہیر سعدی کی سرداری میں بصرہ سے روانہ ہوا جس میں حکیم بن جبلہ عبدی، بشر بن شریح قیسی وغیرہ شامل تھے۔ یہ تمام قافلے ماہ شوال سنہ۔۵۳ھ میں اپنے اپنے شہرون سے روانہ ہوئے اور سب نے یہ مشہور کیا کہ ہم حج ادا کرنے جاتے ہیں۔ ان سب نے آپس میں پہلے ہی سے یہ تجویز پختہ کر لی تھی کہ اس مرتبہ امیر املومنین عثمان بن عفان ؓ کو ضرور معزول یا قتل کریں گے۔ اپنے اپنے مقاموں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر روانہ ہوئے، پھر سب یکجا ہوئے۔اس کے بعد چند منزلیں طے کر کے تینوں صوبوں کے قافلے مل کر ایک ہوئے اور سب کے سب مل کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب مدینہ منورہ تین منزل کے فاصلے پر رہ گیا تو وہ لوگ جو طلحہؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے،آگے بڑھ کر زوخشب میں ٹھہر گئے، جو لوگ زبیر العوام کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے، مقام اعوص میں آکر مقیم ہوگئے، جو لوگ حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے اور دو المروہ میں مقیم ہوگئے۔ طلحہؓ کے حامیوں میں زیادہ تعداد بصرہ کے لوگوں کی، زبیر بن العوامؓ کے طرفداروں میں زیادہ تعداد کوفہ کے لوگوں کی تھی، جو لوگ حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے، ان میں زیادہ تر مصر کے لوگ شامل تھے۔
حضرت علیؓ نے اپنے پروردہ کی سفارش کی:حضرت علیؓ نے اور دوسرے صحابہؓ نے بن ابی بکرؓ کا نام لیا۔ وہ پہلے ہی سے حضرت علیؓ کے حامی اور عبداللہ بن سبا کے فریب میں آئے ہوئے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے محمد بن ابی بکرؓ کو مصر کی امارت کا فرمان لکھ کر دے دیااور حضرت علیؓ نے بلوائیوں کے سرداروں کو رخصت کیا اور کہا کہ جاو¿، اب تمہاری ضد پوری ہوگی۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بھی بہت کچھ سمجھا بجھا کر لوگوں کو رخصت کر دیا۔ تیسرے یا چوتھے روز کیا دیکھتے ہیں کہ باغیوں کی ساری کی ساری جماعت تکبیر کے نعرے بلند کرتی ہوئی مدینہ میں داخل ہوئی اور حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت علیؓ نے کہا کہ تم لوگ یہاں سے چلے گئے تھے، پھر کیسے واپس آگئے انہوں نے کہا کہ خلیفہ نے اپنے غلام کے ہاتھ عبداللہ بن سعدؓ کے پاس مصر کی جانب ایک خط روانہ کیا تھا کہ ہم جب وہاں پہنچیں تو ہم کو قتل کر دے۔ ہم نے وہ خط پکڑ لیا ہے۔ اس کو لے کر آئے ہیں۔ ساتھ ہی مصری وکوفی قافلے بھی واپس آگئے ہیں کہ اپنے بھائیوں کے ساتھ رنج و راحت میں شرکت کریں۔ (جاری ہے….)

Scroll To Top