تاریخِ اسلام

12300965386_2a143d63b4_b


ان سے سینکڑوں کوس پر بیٹھے ہوئے عامل ان کی پیش خدمت غلام سے اور بھی زیادہ ڈرتے تھے اور خائف رہتے تھے۔ لوگون کے ساتھ نرمی صرف اسی حد تک برتنی چاہئے، جہاں تک کہ فساد کے پیدا ہونے کا اندیشہ تک نہ ہو۔ آپ جن لوگوں کو جانتے ہیں کہ وہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کو قتل نہیں کرا دیتے حضرت عثمان غنی(رضی اللہ عنہ) نے حضرت عمرو (رضی اللہ عنہ) کے اس مشورے کو سنا اور خاموش ہو گئے۔
سنہ۔۵۳ھ کے واقعات:مدینہ منورہ میں جن صوبوں کے والی حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ) کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے آئے تھے وہ سب یکے بعد دیگرے اپنے اپنے صوبوں کی طرف رخصت ہوگئے۔ آخر میں حضرت معاویہ(رضی اللہ عنہ) بھی رخصت ہونے کے لئے حضرت عثمان غنی(رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھ کو اندیشہ معلوم ہوتا ہے کہ کہیں آپ پر حملہ نہ ہو اور آپ اس کی مدافعت نہ کرسکیں۔ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ میرے ساتھ ملک شام کی جانب چلیں۔ وہاں تمام اہل شمام میرے فرماں بردار اور شریک کار ہیں۔ حضرت عثمان غنی(رضی اللہ عنہ) نے جواب دیا کہ کسی حالت میں بھی آنحضرتﷺ کا قرب وہمائیگی ترک نہیں کر سکتا ۔ یہ سن کر حضرت امیر معاویہ(رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ اچھا اجازت دیجئے کہ میں ایک زبردست لشکر ملک شام سے آپ کی حفاظت کے لئے یہاں بھیج دوں کہ وہ مدینہ میں مقیم رہے۔ حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ میں آنحضرتﷺ کے پڑوسیوں یعنی مدینہ والوں کو تنگ کرنا نہیں چاہتا۔ یہ سن کر حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ آپ ضرور دھو کہ کھائیں گے۔ حضرت عثمان غنی(رضی اللہ عنہ) اس کے جواب میں (حسبی اللہ و نعم الوکیل) کہہ کر خاموش ہوگئے۔ حضرت معاویہ(رضی اللہ عنہ) پھر وہاں سے اٹھ کر حضرت علی، طلحہ، زیبر(رضی اللہ عنہ) کی خدمتوں میں حاضر ہوئے اور بوقت ضرورت حضرت عثمان غنی(رضی اللہ عنہ) کی امداد کی سفارش و فرمائش کر کے شام کی جانب روانہ ہوگئے۔
عبداللہ بن سبا کی سازش: عبداللہ بن سبا نے مصر میں بیٹھے بیٹھے اپنے تمام انتظامات خفیہ طور پر مکمل کر لئے تھے۔ حضرت عمار بن یاسر(رضی اللہ عنہ) اور ورقابن رافع انصاری(رضی اللہ عنہ) جیسے صحابیوں کو بھی اس نے اپنے دام تزویر میں لے رکھا تھا لیکن اس کی اصل تحریک اور مقصود حقیقی کا حال سوائے اس کے چند خاص الخاص مسلمان نما یہودیوں کے کسی کو معلوم نہ تھا۔ بظاہر اس نے جب علی(رضی اللہ عنہ) اور جب اہل بیت کو خلافت عثمانی کے درہم براہم کرنے کے لئے ایک ذریعہ بنایا تھا۔ مذکورہ بالا فوجی مقاموں سے بہت سے سادہ لوح عرب اس کے فریب میں آچکے تھے۔ چنانچہ عبداللہ بن سبا کی تحریک و اشارے کے موافق ہر ایک مقام پر مہم عثمان(رضی اللہ عنہ) کے لئے تیاریاں کیں۔ ہر مقام اور ہر گوہ کے آدمی اس بات پر متفق تھے کہ حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ) کو معزول یا قتل کر دیا جائے لیکن اس کے بعد خلیفہ کس کو بنایا جائے، اس میں اختلاف تھا۔ کوئی حضرت علیؓ کا نام لیتا تھا ، کوئی زبیر بن العوام (رضی اللہ عنہ) کو بہتر سمجھتا تھا اور کوئی حضرت طلحہ(رضی اللہ عنہ) کو خلافت کے لئے سب سے موزوں سمجھتا تھا۔ چونکہ عبداللہ بن سبا کو اسلام سے کوئی ہمدردی تو تھی ہی نہیں۔ اس کا مقصد صرف عثمان غنی(رضی اللہ عنہ) کی مخالفت تھی۔ لہٰذا اس نے حضرت علی(رضی اللہ عنہ) کی حمایت و محبت کے بہانے کو اس موقت پر زیادہ استعمال کرنا ترک کر دیا اور لوگوں کوآئندہ خلافت کے انتخاب میں مختلف الخیال دیکھ کر ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ (جاری ہے….)

Scroll To Top