پی ایس ایل اور عام آدمی کی سیکورٹی

  • ظہیر الدین بابر

اہل وطن کے لیے اس خبر میں تشویش اور خوشی دونوں موجود ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میںہوگا ۔ ادھر دونوں ٹیموں کو لاہور میں منعقدہ فائنل مقابلے کیلئے کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے اعلی معیاری پانچ سطحی سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ماہ فروری میں دہشت گردی کے پہ درپہ واقعات کے نتیجے میں شہریوں میں خدشات کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔وطن عزیز میں کئی مہینوں سے دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی واقعہ ہوئی جس کے نتیجے میں تاثر ابھرا کہ شائد عفریت پر قابو پالیاگیا مگر یقینا ایسا نہ تھا۔ کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد خاموشی سے ملک بھر میں خود کو منظم کرتے رہے اور پھر پہ درپہ خودکش حملوںکے نتیجے میں درجنوں پاکستانیوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کردیا۔ معاملہ کا یہ پہلو تکلیف دہ ہے کہ آخر کیوں نہیں زمہ دارن اس بات کا ادراک کرسکے کہ انھیں جس دشمن کا سامنا ہے اس کے پاس وقت کی کمی نہیں ۔ وہ واضح ہار یا جیت کی بحث سے قطع نظر ہمہ وقت اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے کوشاں ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہونا منتخب حکومتوںکی ایسی ناکامی ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ یہ کم نہیںکہ ہمارا دشمن ایک بار پھر خوف کی فضا قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ان مقامات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نشانہ بنایا جارہا جہاں معصوم اور نہتے شہری روزمرہ کے امور نمٹانے کے لیے آموجود ہوتے ہیں۔
پی ایس ایل کا فائنل لاہور میںہونا خوش آئند ہے مگر اس کے نتیجے میں ایسے اقدمات اٹھانے ہونگے جو اس دن کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے پوری طرح معاون بنیں۔ بین الاقوامی کھلاڈیوں کی پاکستان آمد بارے دو آرائے واضح طور پر سامنے آئی ہیں۔ مثلا ایک خیال یہ ہے کہ دہشت گردی کے بدترین واقعات کے بعد حکومت کو پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانے کا رسک کسی صورت نہیںلینا چاہے ۔ اس دن صوبائی درالحکومت میں کہیں بھی کسی بھی شکل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا تو پاکستان کی عالمی سطح پر سبکی ہوسکتی ہے۔ دوسرا نقطہ نظر بالکل ہی مختلف ہے۔ ان امید افزاد حلقوں کے بقول حکومت پی ایس ایل کے فائنل کا انعقاد کرکے دلیرانہ فیصلہ کیا ہے ۔ لاہور میں بین الاقوامی کرکٹ کا میچ کرواکر ہم بین الاقوامی برداری کو یہ پیغام دے سکیں گے کہ پاکستان میں دہشت گرد ہرگز اتینے طاقتور نہیں جتنا کہ سمجھا جارہا مزید یہ کہ اس کے نتیجے میں ملک کا سافٹ امیج دنیا بھر میں جائیگا۔
وفاقی اور صوبائی حکومت میچ کے لیے فول پروف سیکورٹی اقدمات کو یقینی بنانے کے لیے اقدمات اٹھا رہی ہے۔ امکان ہے کہ اس دن لاہور میں عام تعطلیل کا اعلان کردیا جائے۔ صوبائی درالحکومت میں موبائیل فون سروس بند ہونے کا بھی روشن امکان ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلی شہباز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ پی ایس ایل فائنل میں شریک ٹیموں کو سربراہ مملک کی سطح کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔حکام کے مطابق عام طور پر وی وی آئی پی افراد کو تین سطحی سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے کھلاڑیوں اور دیگر اعلی حکام کو سفر اور اسٹیڈیم میں پانچ سطحی اعلی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ کھلاڑیوں کو میچ کے اوقات کے علاوہ کھلاڑیوں کو باکس سیکیورٹی فراہم کی جائے گی اور صرف ان افراد کو ان سے ملاقات کی اجازت ہو گی جو پہلے سے اس کی اجازت لیں گے اور ان کے پاس ملنے کی اتھارٹی ہو گی۔ کھلاڑی 24 گھنٹے سخت سیکیورٹی حصار میں رہیں گے۔مزید یہ کہ کرکٹ اسٹیڈیم میں آنے والے شائقین کی بائیو میٹرک طریقے سے شناخت کرانا ہو گی اور قومی شناختی کارڈ دکھائے بغیر کسی کو بھی اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہو گی۔ تلاشی کیلئے واک ان دروازے نصب کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیڈیم میں داخلے سے قبل ان کی بھرپور تلاشی بھی لی جائے گی۔ میچ کے دوران پولیس اور فوج کے دستے تعینات ہوں گے اور 400 گز کے اندر کسی کو بھی گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسٹیڈیم کے اطراف میں رہائش پذیر افراد اور ان کے ملازمین کی تمام تر معلومات حاصل کر لیں۔ پانچ مارچ کو صوبائی دارالحکومت کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دے دیا ہے ۔بتایا جارہا ہے کہ قذافی اسٹیڈیم کو گارڈن ٹاون اور شادمان کے گرڈ سے بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ کسی بھی غیریقینی صورتحال سے بچنے کیلئے جنریٹرز کا انتظام بھی کیا جائے گا۔
باشعور پاکستانیوںکا مطالبہ غلط نہیں کہ ارباب اختیار عام وخاص کو ایک جیسی سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے اقدمات اٹھائیں۔انسانی جان کی حرمت کسی بھی مہذب معاشر ے میں مسلمہ ہے۔ یہ مذاق اب بند ہونا چاہے کہ طاقتور افراد کی زندگیوں کو تو قیمتی گردانا جائے اور عام پاکستانی کسی نہ کسی شکل میں خطرات سے دوچار رہے۔ یقینا امن وامان کسی بھی ریاست کی بنیادی زمہ داریوں میںشامل ہے۔ اس معاشرے کے مسقبل بارے یقین سے کہنا مشکل ہے جہاں ہمہ وقت قتل وغارت گری کے واقعات رونما ہوتے رہیں۔ اگر بطورقوم ہم نے عالمی برداری میں وقار کے ساتھ رہنا ہے تو ان خامیوں پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانا ہوگا جو سلامتی کے ماحول کو یقینی بنانے میں بدستور رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

Scroll To Top