داستان جھوٹ کے پیغمبر کی 24-10-2013

  •  قسط اوّل

بہت سارے لوگ مجھے ” جھوٹ کا پیغمبر “ کے مصنف کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ یہ کتاب میں نے اپریل 1977ءمیں لکھنی شروع کی تھی۔ اس کی اشاعت ستمبر1977ءمیں ہوئی اور یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی۔ چند ہی ہفتوں کے اندر اس کے چار ایڈیشن شائع ہوئے۔ پانچویں ایڈیشن کی اشاعت ہونے والی تھی کہ اس کے مرکزی کردار مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کواحمدرضا قصوری کے والد کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی او ر ملک کے سابق وزیراعظم کے خلاف میرے غم و غصے کی شدت میں نمایاں کمی آگئی اورمیں نے ” جھوٹ کا پیغمبر “ کی اشاعت و فروخت کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا۔
ایک عرصے تک میری وجہ ءشہرت یہ کتاب رہی۔ مجھ سے اکثر یہ پوچھا جاتا رہا ہے کہ اس کتاب کے لئے میں نے یہ عنوان کیوں منتخب کیا اور میری تحریر میں اتنا غصہ کیوں آیا۔
خود میرے ذہن میں بھی یہ سوال بار بار اٹھتا رہا ہے۔
آج اس کتاب کو میری شناخت کا حصہ بنے ہوئے 36برس ہوچکے ہیں۔ اس دوران تاریخ متعدد کروٹیں لے چکی ہے۔ بھٹو کو پھانسی پائے تقریباً ساڑھے چونتیس برس ہوچکے ہیں مگر اُن کی شخصیت کا سحر آج بھی فضاﺅں میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اُن کا نام آج بھی پاکستان کی سیاست کا ایک اہم حصہ ہے۔
جس عمر میں میں نے ” جھوٹ کا پیغمبر “ تحریر کی تھی اس سے آج میں تقریباً دگنی عمر کا ہوں۔ میںچاہتا ہوں کہ قوم کے سامنے وہ احساسات ضرورآئیں جو ہماری قومی سیاست میں ختم نہ ہونے والی ایک عہد ساز پولرائزیشن کا باعث بنے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے اس کالم میں ”جھوٹ کا پیغمبر “ کا تمہیدی باب پیش کررہا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
یہ کوئی تاریخی دستاویز نہیں ¾ یہ بھٹو کی داستانِ عروج وزوال بھی نہیں ¾ یہ میری کہانی ہے۔ یہ میرے ہم وطنوں کی کہانی ہے۔ یہ میرے جذبات کی کہانی ہے۔ یہ میرے ہم وطنوں کے جذبات کی کہانی ہے۔ وہ جذبات جنہیں بڑی چالاکی سے اُبھارا گیا۔ وہ جذبات جنہیں بڑی بے دردی کے ساتھ کچل دیا گیا۔ وہ جذبات جنہوں نے بھٹو کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ وہ جذبات جنہوں نے بھٹو کو قعرِ مذلت میں دھکیل دیا۔وہ جذبات جنہوں نے بھٹو کو میرِ کارواں بنایا۔ وہ جذبات جنہوں نے بھٹو کو مجرموں کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔ اپنے جذبات اور اپنے ہم وطنوں کے جذبات کی اس کہانی کو میں اصغر خان کے نام منسوب کرتاہوں جنہوں نے چند برس قبل مجھ سے کہا تھاکہ قوموں کی تقدیر بدلنے والے عہد ِ آفرین لوگ جھوٹ کی کوکھ سے جنم نہیں لیا کرتے۔ آج میں سوچ رہا ہوں کہ جھوٹ کی سیاہی سے لکھی جانے والی تاریخ حرفِ غلط کی طرح مٹ جاتی ہے اور صرف وہی سچ ہمیشہ روشن رہتا ہے جسے لوگ اپنے خون سے لکھتے ہیں۔
میں ایک مجرم ہوں۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے 1970ءکے عام انتخابات میں بھٹو کو وو ٹ دیا تھا۔ اس وقت میرا تخیل بھٹو کوایک ایسے پاکستان کے معمار کے روپ میں دیکھ رہا تھا جوعالمِ اسلام کا ایک ناقابل ِ تسخیر قلعہ بن چکا ہو اور جس کی عظمت کا پرچم مسلم قومیت کے دشمنوں کو للکار للکار کر کہہ رہا ہو کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ کے خوابوں نے حقیقت کا جامہ پہن لیا ہے ¾ میری چشمِ تصور بھٹو کو ملتِ پاک کے نجات دہندہ کا تاریخ ساز کردار ادا کرتے دیکھ رہی تھی ۔ میرے نزدیک بھٹو ایک ایسی تلوار تھا جو ظلم و بے انصافی ¾ بھوک ¾ جہالت اور استحصال و بے حسی کی زنجیریں کاٹ کر وطن ِ عزیز کو معاشی عدل ¾ معاشرتی مساوات اور سلطانی ءجمہورکی حسین منزل کی طرف لے جانے کے لئے بلند ہوئی تھی۔ بھارت کی سامراجی ذہنیت کے خلاف ایک ہزار سال تک جہاد جاری رکھنے کا اعلان کرنے والا بھٹو۔۔۔ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی چکی میں پسنے والے کروڑوں عوام کو معاشی اور معاشرتی انقلاب کا پیغام دینے والا بھٹو۔۔۔ ایک ساکت جامد اور بیمار معاشرے میں غریب عوام کی حاکمیت اور عزتِ نفس کی روح پھونک کر ایک نئے پاکستان کی تعمیر کا دعویٰ کرنے والا بھٹو ۔۔۔اُس وقت میرا ہیرو تھا۔ میں کسی بھی قیمت پر یہ بات تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھا کہ جاگیردارانہ نظام کی کوکھ سے ایک انقلاب آفرین اور عہد ساز شخصیت جنم نہیں لے سکتی ۔اگر میری آنکھوں پر میرے معصوم خوابوں نے خود فریبی اور خوش فہمی کا پردہ نہ ڈال رکھا ہوتا تو مجھے جان لیناچاہئے تھاکہ جبرو استبداد پرمبنی جس نظام کی کوکھ سے بھٹو نے جنم لیا تھا اس نظام کی کوکھ سے آج تک کسی لینن ¾ کسی ماﺅزے تنگ ¾ کسی ڈیگال ¾ کسی چرچل ¾ کسی لنکن ¾ کسی اتاترک ¾ کسی ناصر اور کسی جناح نے جنم نہیں لیا ۔میں بھول گیا تھا کہ جس نظام کی بنیادیں محکوم انسانوں کی ہڈیوں پر قائم ہوتی ہوں اور جسے صدیوں سے غریبوں اور بے بسوں کے خون سے سینچا جارہا ہو اس وحشیانہ نظام کا کوئی فرد ظالم اور مظلوم کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں مظلوم کی ڈھال بن کر اپنی کوکھ سے غداری نہیں کرسکتا۔ میں یہ سوچنے کے لئے تیار نہیں تھا کہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے جس شخص نے ساری زندگی چاندی کے برتنوں میں کھانا کھایا ہوا سے کیا خبر کہ فاقہ کسے کہتے ہیں اور تنگ و تاریک اورشکستہ جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے شب و روز کیسی یاس زدہ بے بسی اور کسمپرسی میں گزرتے ہیں میں نے اپنے آپ کو یقین دلا رکھا تھا کہ لاڑکانہ کی شکارگاہوں میں پرورش پانے والا وڈیرہ زادہ وطنِ عزیز میں ایک ایسے معاشرے کی داغ بیل ڈالنے کے لئے قومی سیاست کے افق پر طلوع ہوا ہے جس پر کسی کو بھی بھوک ¾ بیماری ¾ افلاس ¾ جہالت اور ناامیدی ورثے میں نہیں ملے گی۔ اور جس کا ہرفرد اس یقین کے ساتھ قومی زندگی میں اپنا کردار ادا کرے گا کہ اس کے معاشرتی اور قانونی حقوق کو تاراج کرنے والی قوتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کچل دیا گیا ہے۔
اس وقت میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی رنگین فضاﺅں سے ممبئی اور کراچی کے نائٹ کلبوں تک سفر کرنے والے جس رئیس زادے کو میرا ذہن مستقبل کے پاکستان کا معمار قرار دے چکا ہے وہ میرے ہی ووٹ کی تلوار سے میرے ہی وطن کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والا ہے ۔ میرے تصور میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ میرا ووٹ ایک ایسے طالع آزما پر اقتدار کے دروازے کھولنے والا ہے جس کی پوری سیاسی شخصیت جھوٹ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔
میں نے بھٹو کو ووٹ دے کر جو جرم کیا تھا اس پر میں نادم ہوں ¾ شرمندہ ہوں ۔میں یہ سوچ کرکانپ اٹھتا ہوں کہ میرے اس جرم کا کفارہ ادا کرنے کے لئے میرے ہم وطنوں کو کراچی سے خیبر تک اپنا خون بہانا پڑا ہے۔۔۔ وہ خون بڑا ہی مقدس ¾ بڑا ہی عظیم تھا جو بھٹو کے ناقابلِ تصور جبرو استبداد ¾ کے خلاف ملتِ پاک کے جیالے فرزندوں اور غیور بیٹیوں نے ملک کے چپے چپے پر بہایا ¾ وہ ہزاروں جھوٹ جو بھٹو کے دورِ اقتدار میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بولے گئے اخبارات کے صفحات پر لکھے اورلکھوائے گئے وہ سب جھوٹ بالآخر اس ایک عظیم سچائی کے سامنے دم توڑ گئے جو تحریکِ جمہوریت کے شہیدوں نے اپنے مقدس خون سے لکھی۔جھوٹ کی عمر زیادہ سے زیادہ اتنی ہی ہوسکتی ہے جتنی لمبی عمر بھٹو کے اقتدار کی تھی لیکن سچائی کی جنگ ابھی تک پوری طرح جیتی نہیں گئی۔ جھوٹ کی طاقت پراندھا بہرا ایمان رکھنے والا بھٹو اب بھی سونے چاندی کے انباروں پر کھڑا ہو کر چیخ رہا ہے کہ” میں غریبوں کا ساتھی ہوں عوام کا دوست ہوں ¾ مزدوروں کا بھائی ہوں ¾کسانوں کا خادم ہوں۔“
بھٹو کو اب بھی یقین ہے کہ اس کے جھوٹ کو شکست نہیں ہوئی ¾ وہ دوبارہ پاکستان کے عوام کے ساتھ دھوکا کرسکتا ہے ¾ وہ دوبارہ غریبوں کو فریب دے سکتا ہے ¾ وہ دوبارہ مزدوروں اور کسانوں کو بے وقوف بنا سکتا ہے ¾ وہ دوبارہ جبر و استبداد کی اس کرسی پر قابض ہوسکتا ہے ¾ جس کی مضبوطی پر اسے بڑا ناز تھا ¾ اور جس پر بیٹھ کر اس نے اپنی بندوقوں کا رُخ عوام کی طرف موڑ دیا تھا۔ بھٹو کی مجنونانہ طلبِ اقتدار کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ تخت و تاج تک پہنچنے کے لئے اس نے آدھا ملک کاٹ کر بھارت کی آغوش میں پھینک دیا تھا۔ اگراس کے باوجود اسے تاج و تخت نہ ملتا تو صرف لاڑکانہ کا فرماں روا بننے کے لئے وہ باقی ملک کی سلامتی کو بھی داﺅ پر لگا دیتا۔ مجھے احساس ہے کہ میرا لب و لہجہ زیادہ غیر مہذب ہوگیا ہے ۔کسی بھی بڑے صحافی یا ادیب کو زیب نہیں دیتا کہ وہ قومی معاملات اورقومی شخصیات پر اظہارِ خیال کرتے وقت اس قسم کا غیر مہذب لب و لہجہ اختیار کرے۔ لیکن اگر میں صحافی ہوں تو بہت ہی چھوٹا صحافی ہوں۔ اگر ادیب ہوں تو بہت ہی چھوٹا ادیب ہو ں ۔ ¾ وہ خواب بہت ہی بڑے تھے جو میں بچپن سے ہی اپنے پاکستان کے بارے میں دیکھتا چلا آیا تھا ۔ میرا وہ پاکستان بہت ہی بڑا تھا جس کا سبز ہلالی پرچم کراچی سے ڈھاکہ تک دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے اتحاد تنظیم اور یقین محکم کا پیغام بنا ہوا تھا۔ اپنے ان ہی خوابوں کی خاطر اپنے اسی پاکستان کے لئے میں نے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنا ہیرو بنایا تھا اور میں اپنی روح کی ان چیخوں کو کبھی نہیں بھول سکتا جو 15دسمبر1971ءکو بلند ہوئی تھیں جب مسلم نشاةِ ثانیہ کے جانباز سپاہی ڈھاکہ میں جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال رہے تھے ۔ میرے خواب ٹوٹ چکے تھے ۔ میرا پاکستان ٹوٹ چکا تھا۔ شاہنواز بھٹو کا ذہین بیٹا بڑی فاتحانہ شان کے ساتھ نیویارک سے اسلام آباد پہنچنے والا تھا ۔
(جاری ہے….)
پاکستان کی سرحدیں سمٹ چکی تھیں۔ لاڑکانہ کے وڈیرے کی جاگیر کی سرحدیں پھیل گئی تھیں۔ اکیس توپوں کی سلامی لینے کے جنون نے میرے ہیرو کو میرے خوابوں کا قاتل بنا دیا تھا ۔ اگر میں اپنے خوابوں کے قاتل کے متعلق مہذب لب و لہجہ میں بات نہیں کرسکتا تو مجھے معاف کردیا جائے۔
دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اپنی عظمت کاپرچم بلند کرنے والی قوم کی تاریخ میں جہاں فتح و نصرت کی ناقابلِ یقین داستانیں لکھی گئی ہیں وہاں اسے ہزیمت پسپائی اور ذلت و رسوائی کی طویل اور تاریک راتوں سے بھی گزرنا پڑا ہے ۔وہ رات کتنی تاریک ہوگی جب فرڈی نینڈ کا لشکر غرناطہ کی فصیلیں توڑ کر الحمرا کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس رات کی ظلمتیں کس قدر ہولناک ہوں گی جب بغداد کی حرمت تاتاریوں کے نیزوں پراچھالی جارہی تھی۔ ہماری تاریخ کی پیشانی پر اندھیروں بھری اُس رات کی سیاہی بھی لگی ہوئی ہے جب بیت المقدس کی فضاﺅں میں ہلالی پرچم کی جگہ صلیب نے لے لی تھی۔ شاید ہی کسی قوم کی تاریخ میں اتنے عظیم تضادات ملیں گے جتنے عظیم تضادات ہماری تاریخ میں ملتے ہیں۔ جس لشکر نے جبل الطارق پر اترنے کے بعد اپنی کشتیاں صرف اس لئے جلا ڈالی تھیں کہ پسپائی کا کوئی راستہ ہی نہ رہے وہ بھی تواُسی قوم کا لشکر تھا جو نصف دُنیا پر حکومت کرنے کے بعد ہسپانیہ میں چند ہزار نصرانیوں اور خوارزم میں چند ہزار تاتاریوں کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کاٹ دی گئی۔ جس قوم کے چند ہزار سپاہیوں نے صلاح الدین ایوبیؒکی قیادت میں یورپ کی تمام بڑی طاقتوں کی اجتماعی قوت کو کچل کر رکھ دیا تھا اسی قوم کے بارہ کروڑارب عوام صرف تیس لاکھ یہودیوں کے ہاتھوں شکستوں پر شکستیں کھا رہے ہیں۔
ہماری تاریخ میں ایسے بے شمار المیے ملیں گے جن پر مشرق سے مغرب تک جرا¿ت و شجاعت اور نصرت و کامرانی کی لازوال داستانیں رقم کرنے والی قوم خون کے آنسو بہا سکتی ہے ۔لیکن شاید ہی کوئی المیہ اتنا شرمناک اور کرب انگیز ہو گا جتنے شرمناک اور کرب انگیز المیے نے دسمبر1971ءمیں جنم لیا تھا ۔ ہماری تاریخ کی شاید ہی کسی رات کے اندھیرے اس قدر ہولناک ہوں گے جس قدر ہولناک اندھیروں سے ہمیں ان چند لمحات کے دوران گزرنا پڑا جب آل انڈیا ریڈیو سے یہ اعلان ہورہا تھا کہ محمود غزنوی کے جانشینوں نے اندرا گاندھی کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
یہ المیہ کسی بھی غیور قوم پرسکتہ طاری کرنے کے لئے کافی تھا اور مجھے یقین ہے کہ ظلمت بھری اس رات کو قوم کے ہر ایسے فرد پر سکتہ طاری ہوا ہوگا جس کی رگوں میں دوڑنے والے خون کا رشتہ غزنوی ؒ ¾ غوریؒ ¾ بابرؒ ¾ عالمگیر ؒ اور ٹیپوؒ کے خون سے نہیں ٹوٹا اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جب یہ سکتہ ٹوٹا ہوگا۔ تو قومی غیرت رکھنے والے ہرشخص کے دل میں انتقام کی چنگاری ضرور پیدا ہوئی ہوگی۔ قومی انا کا مطلب سمجھنے والے ہر فرد کی روح کی گہرائیوں سے یہ امنگ ضرور ابھری ہوگی کہ سقوطِ ڈھاکہ نے اہلِ پاکستان پر ذلتوں اور رسوائیوں کے جو داغ لگائے ہیں انہیں مٹانے کے لئے قوم اتحاد ¾ تنظیم اور یقین محکم کے سانچے میں ڈھل جائے۔ لیکن قائداعظم ؒ کے پاکستان کو سقوطِ ڈھاکہ کے المیے کی طرف لے جانے والے قائدعوام کے عزائم کچھ اور تھے۔
بھٹو اور ان کے حواری اپنے ”کارناموں“پر ” خراج تحسین “ حاصل کرنے کے لئے اکثر یہ کہتے رہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار انتہائی نامساعد حالات میں ملا تھا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے نے قوم کو بے جان کرکے رکھ دیا تھا۔قومی معیشت کا پہیہ رک گیا تھا۔ قوم پر خود اعتمادی کے فقدان بے یقینی اور احساس بے چارگی کے منحوس سائے منڈلا رہے تھے ۔ ملک کی کشتی ایک خطرناک بھنور میں پھنس چکی تھی۔ یہ صرف بھٹو کی ”ولولہ انگیز قیادت “ اور ” بے مثال فہم و فراست “ کا کمال ہے کہ دنیا کے نقشے پر اب بھی پاکستان کا نام نظر آرہا ہے۔
اس قسم کے دلائل پیش کرنے کا مقصد ہماری قومی غیرت کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ جن حالات میں بھٹو اور ان کے حواری برسرِاقتدار آئے اُن حالات کے بغیر پیپلزپارٹی کو اقتدار مل ہی نہیں سکتا تھا ۔دوسرے الفاظ میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا المیہ بھٹو کے لئے اقتدار کا زینہ ثابت ہوا ¾ یعنی اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے بھٹو نے ایسے حالات پیدا کئے کہ سقوطِ مشرقی پاکستان ناگزیر ہوگیا۔ ابتداءمیں جب بھٹو پر یہ سنگین الزام لگایا گیا تھا تو میرے دل نے اسے قبول نہیں کیا تھا ۔ شاید اس لئے کہ بھٹو میرا ہیرو رہ چکا تھا ۔ لیکن جب میں نے دماغ سے کام لینا شروع کیا تو تمام واقعاتی شہادتیں مجھے اسی نتیجے کی طرف لے گئیں کہ لاڑکانہ کے جاگیردار نے اسلام آباد کے قصرِ صدارت میں داخل ہونے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈھاکہ کی قربانی دی تھی۔ بہرحال اس موضوع پر روشنی میں آگے چل کر ڈالوں گا۔ یہاںصرف یہ موقف اختیار کرنا چاہتا ہوں کہ جن نامساعد حالات میں بھٹو نے ملک کی قیادت سنبھالی وہ قوم کو اوجِ ثریا تک لے جانے کے لئے انتہائی ساز گار تھے۔ ایسے حالات میںاقتدار حاصل کرنے کی خوش نصیبی بہت ہی کم لیڈروں کو حاصل ہوتی ہے۔
قوم کی رگ رگ میں انتقام کی چنگاری بھڑک رہی تھی۔ ذلت ورسوائی کاجو داغ سقوطِ ڈھاکہ نے قوم کی پیشانی پر لگایا تھا اسے دھونے کے لئے ہر فرد بے چین تھا۔ بڑی سے بڑی قربانی دے کر قومی وقار بحال کرنے کا جذبہ قوم میں جس قدر شدید 20دسمبر1971ءکی رات کو تھا اس قدر شدید دوبارہ کبھی نہ ہو ۔ صلاح الدین ایوبی ؒ جیسے قائدین کو ایسے ہی حالات جنم دیتے ہیں۔ لیکن20دسمبر1971ءکی کوکھ سے جنم لینے والا قائد ایوبی ؒ نہیںبھٹو تھا ۔ میں جانتا ہوں کہ ایوبی ؒ اور بھٹو کا ایک ضمن میں ذکر کرنا یروشلم کے فاتح کی توہین ہے ¾ بھٹو اور ایوبی ؒ کے درمیان جتنا بڑا فاصلہ تاریخ کا ہے اس سے کہیں بڑا فاصلہ کردار کا ہے ۔یہاں میرا مقصد صرف یہ کہنا ہے کہ 20دسمبر1971ءکی رات کوبھٹو کی بجائے ایوبی کا ظہور بھی ہوسکتا تھا۔
اس کے باوجود مجھے اور میری قوم کو بھٹو سے کچھ توقعات تھیں ¾ کچھ امیدیں تھیں ¾ ایک خیال تھا کہ بھٹوسقوطِ مشرقی پاکستان کا چیلنج قبول کرے گا اور پوری قوم کو عزم و عمل ¾ اتحادو تنظیم ¾ ایمان و اخلاق کے ہتھیاروں سے مسلح کردیا جائے گا۔ ہم اپنے خون اور پسینے سے ایسی بجلیاں پیدا کریں گے جو دشمن پر قہر الٰہی بن کرگریں گی اور جن کی گرج پوری دنیا کو بتا دے گی کہ سقوطِ ڈھاکہ کو مسلم قوم کا مقدر سمجھنے والوں نے فاروق اعظم ؓ کے جانشینوں کی غیرت کے بارے میں غلط اندازے لگائے ہیں۔
یہ میرا اور میری قوم کا خیال تھا۔ اپنی پہلی ہی تقریر میں بھٹو نے آدھے پاکستان کو نئے پاکستان کا نام دے کر ہمیں واضح طور پر بتا دیا کہ مشرقی پاکستان کو آئندہ مسلم بنگال کے نام سے یاد کیا جائے۔ کیا بھٹو واشنگٹن سے ہی یہ طے کرکے آیا تھا کہ اب مشرقی پاکستان کو مملکت خدادادِ پاکستان کا حصہ تصور نہ کیا جائے ۔مشرقی پاکستان اب مشرقی پاکستان نہیں رہا مسلم بنگال بن گیا ہے ۔؟ کیا بھٹو سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو مستقل حقیقت کے طور پر تسلیم کرچکا تھا ؟ بظاہر یہ سوالات بڑی سطحی اہمیت کے حامل ہیں مگر ان سے بھٹو کی ذہنی کیفیات کی بڑی واضح عکاسی ہوتی ہے ۔ قوم ابھی تک مشرقی پاکستان کو مشرقی پاکستان کہنے کی عادت ترک نہیں کرسکی اور بھٹو نے چند ہی گھنٹوں میں ”مسلم بنگال“ کی اصطلاح استعمال کرنی شروع کردی تھی ۔جو لوگ بھٹو کے ”اصل چہرے “ کو ابھی تک نہیں دیکھ سکے وہ شاید میری اس بات کو ایک سطحی اور بے وزن اعتراض قرار دیں۔ مگر ایسے لوگوں سے میں یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ اگر باقیماندہ پاکستان کے خلاف دوبارہ کوئی سازش ہو ¾ کسی صوبے کو اسی طرح پاکستان سے الگ کردیا جائے جس طرح مشرقی پاکستان کو الگ کیا گیا اور پھر کوئی اور بھٹو اٹھے اور فوراً ہی اس صوبے کو مسلم سندھ یا مسلم پنجاب کا نام عطا کرکے علیحدگی کے عمل کو اعلانیہ طور پر قبول کرلے تو کیا ایسی ذہنیت کو حُب الوطنی کے کسی بھی معیار پر پرکھا جاسکے گا اگر یہ حُب الوطنی ہے تو پھر غداری کسے کہتے ہیں؟
یہاں میں لارنس آف عریبیا کا ذکر ضرور کروں گا جو عربوں کا ہمدرد بن کر مشرق وسطیٰ کی سیاست میں داخل ہوا تھا ۔ سلطنتِ عثمانیہ کی وحدت اور سا لمیت پرکاری ضرب لگانے کے لئے اس نے عربوں کو ترکوں کے خلاف صف آراءکیا ۔ ترکوں کو شکست ہوئی اور دنیا ئے عرب چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں بٹ گئی ۔ اس لحاظ سے بھٹو کو ” لارنس آف پاکستان “ قرار دیا جاسکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لارنس آف عریبیا نے جو کچھ بھی کیا حکومتِ برطانیہ کے ایجنٹ اور ایک محب الوطن انگریز کی حیثیت سے کیا ۔اس کے برعکس مشرقی پاکستان کو ” مسلم بنگال“ بنوانے والے بھٹو کے سامنے ذاتی ہوسِ اقتدار کی تکمیل کے سوا کوئی مقصد نہیں تھا ۔اگر بھٹو بھی کسی ملک یا حکومت کا اسی طرح وفادار ہوتا جس طرح لارنس تاجِ برطانیہ کا وفادار تھاتومیری نظروں میں اس کا مقام بہت بلند ہوتا ۔لیکن بھٹو نے جو کچھ بھی کیا اسلام آباد کے تخت پر قبضہ کرنے کے لئے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس کا موازنہ ہسپانیہ کے آخری مسلمان حکمران ابوعبداللہ سے کرتا ہوں جس نے غرناطہ کے تخت پرقبضہ کرنے کے لئے اپنے باپ کی آنکھیں نکلوا دی تھیں اور پھر اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لالچ میں جس نے غرناطہ کے دروازے فرڈی نینڈ کے لشکر پر کھول دیئے تھے۔ اقتدار پرستی کے جنون میں بہت سے لوگوں نے بہت بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا ہوگا لیکن لاڑکانہ کا وڈیرہ اس میدان میں سب سے آگے نکل گیا۔ اس نے ” جرم “ کو سیاسی حکمت عملی کا درجہ دے کر اپنے عمل کو سیاسی کارناموں کے طورپر پیش کیا ۔ میرے نزدیک سقوطِ مشرقی پاکستان کے لئے ” ساز گار “ حالات پیدا کرنا ایک جرم تھا لیکن بھٹو کے نزدیک یہ ایک سیاسی کارنامہ تھا ۔ اس کے بغیر اسلام آباد کے تخت تک رسائی نہیں ہوسکتی تھی ۔یہ سیاسی کارنامہ انجام دینے کے لئے بھٹو نے یقینا بڑا ہی ” مکمل “ منصوبہ بنایا تھا ۔۔۔اتنا مکمل کہ بھٹو کو شروع سے ہی اس کی کامیابی کا یقین تھا۔
نومبر1970ءکے اوائل میں جب جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاءکے تحت عام انتخابات کی مہم عروج پر تھی تو بھٹو نے اپنے ایک قریبی ساتھی سے کہا تھا ۔ ” ایک سال کے اندر حکومت کی باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔“
” یہ کیسے ممکن ہے ؟ ہم زیادہ سے زیادہ پنجاب اور سندھ میں اقتدار حاصل کرسکتے ہیں ۔ مشرقی پاکستان سے ہم نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیااور بلوچستان اور سرحد میں ہماری پوزیشن کمزور ہے “ ۔اُس قریبی ساتھی نے جواب دیا تھا ۔
بھٹو اپنے ساتھی کی یہ بات سن کر مسکرایا تھا اور پھر اس نے کہا تھا ۔” تم دیکھتے جاﺅ کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں ۔اصل طاقت پنجاب کی ہے اور پنجاب ہمارے ساتھ ہے“۔
حالت نے جو ” رخ“ اختیار کیا وہ ہمارے سامنے ہے۔ بھٹو کا وہ ساتھی اُس وقت سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے ” قائدعوام “ کی سیاسی حکمت عملی مملکت ِ خداداد پاکستان پر کتنے بڑے المیے کے دروازے کھولنے والی ہے ۔بعد میں جب وہ فاتحِ اسلام آباد کے عتاب کا نشانہ بن کر جیل گیا تو اسے بھٹو کی پیشگوئی ضرور یاد آئی ہوگی اور اس نے یقینا سوچا ہوگا کہ ” جو شخص اپنی سیاسی حکمت عملی سے ملک کو توڑ کر ایک حصہ پر قبضہ کرسکتا ہے اس کے لئے اپنے ایک قریبی ساتھی کو جیل بھجوانا اور تشدد کا نشانہ بنوانا تو بہت ہی معمولی بات ہے “۔

Scroll To Top