کیا ردِ الفساد کی کامیابی اُم الفساد کا قلع قمع کئے بغیر ممکن ہے؟

    احمد سلمان انور

احمد سلمان انور


ہم نے اپنی تاریخ کے بڑے بڑے سانحات سے بھی کچھ نہیں سیکھا ۔کیا ہم نے اپنی بداعمالیوں پر توبہ کرنے جسارت کی؟کیا ہم نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا؟ کیا ہم نے بحیثیت ملک و ملت آگے بڑھنے کا مصمم ارادہ کیا اور پھر اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عزم صمیم کا مظاہرہ کیا؟ یقینا نہیں کیا۔ ہمارے جاگیرداراور وڈیرہ شاہی حکمرانوں نے کروڑوں ہم وطنوں کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے اور انھیںاپنے اقتدار اور مال و متاع سے فراغت نہیں۔ جبکہ دہشتگردوں اور کالعدم تنظیموں کے اربابِ اختیار کے ساتھ بھی روابط بھی روشن حقیقت ہیں۔
عوامی تحریک کے سربراہ جناب ڈاکٹر طاہر القادری نے گذشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ردالفساد سے کچھ حاصل نہیں ہو گا جب تک ا±م الفساد قائم ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید انکشاف کیا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر اطلاعات ہیں کہ حکومت مسودے میں ترمیم کر رہی ہے جس کے بعد مذہبی ، فرقہ وارانہ دہشتگردوں کو تحفظ دیا جائے گا ، ان کا مذہبی انتہا پسندوں کے ساتھ الائنس ہے۔ آپریشن ردالفساد سے کچھ حاصل نہیں ہو گا جب تک ام الفساد ، فساد کی جڑ کو ختم نہیں کیا جاتا ہے۔
ہمارے کرپشن زدہ اربابِ اقتدار کی حقیقت کسی سے اب ڈھکی چھپی نہیں۔ اسی بیانے میں مجھے سابق چیف آرمی چیف جناب جنرل(ر) راحیل شریف کا جاری کردہ ایک اعلامیہ یاد ہے کہ” قوم کی حمایت سے دہشت گردی‘ جرائم اور کرپشن کے گٹھ جوڑ کو توڑ کر امن و انصاف کی راہ ہموار کریں گے“۔ مطلب یہ کہ دہشتگردی اور جرائم کو بال و پر پیدا کرنے میں کرپشن کا کردار نمایاں ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعدیہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ آپریشن ضربِ عضب، نیشنل ایکشن پلان، فوجی عدالتیںاور دہشتگردی کا خاتمہ حکمرانوں کا نہ کل مسئلہ تھا نہ آج ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد سے لے کر آج تک حکمرانوں نے اس رپورٹ کے کسی ایک جزو کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ ا±لٹا کمیشن کے سربراہ کو دھمکایا گیا اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
ضرب عضب اور آپریشن رد± الفساد تک ایک ایسی کہانی نجانے کب اور کہاں ختم ہو گی اور ہم پورے اطمینان قلب کیساتھ کہہ سکیں گے کہ پاکستان سے دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے۔آج ایک سوال جو ہر عام پاکستانی کے دل میں ہے کہ کیا آپریشن ’ضرب عضب‘ کے مقاصد پورے ہوگئے ؟کیا یہ عمل محض نام کی تبدیلی ہے؟ یقیناایسا نہیں ، موجودہ عسکری قیادت نے بہت سوچ سمجھ کر ملک و قوم کی فلاح اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا ہے۔
ضربِ عضب آپریشن بڑی حد تک کامیاب رہا۔ دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا۔ انکی پناہ گاہیں اور تربیت گاہیں ختم کر دی گئیں۔ سینکڑوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ کچھ سرحد پار کر کے افغانستان میں پناہ گزین ہو گئے۔ دہشتگردی کی کارروائیوں میں نمایاں طور پر کمی آنے لگی۔
لیکن یہ دہشتگرد گروہ دوبار منظم ہو کر ایک بار پاکستان پر یلغار کئے ہوئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ افواج پاکستان کے برعکس موجودہ حکومت اور سرکاری اداروںنیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنا کردار ادا نہیںکیا، جن کی یہ ذمہ داری تھی۔ مثال کے طور پر اس پلان میں کہا گیا تھا کہ نفرت انگیز مواد کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے گا۔ یہ سختی کہیں نظر نہیں آتی۔ اسی طرح دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے بھی کوئی موثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا کام آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔ دہشت گردوں کو تاحال الیکشن لڑنے اور جیتنے کی اجازت ہے۔جبکہ حکومت تاحال فوجی عدالتوں کی توسیع پر بھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ۔ د±نیا میں جہاں دہشتگردی کا وائرس آیا وہاں کی حکومتوں نے خصوصی قوانین بھی بنائے اور عدالتیں بھی مگر سب سے زیادہ دہشتگردی کے ناسور سے متاثرہ ملک پاکستان میں خصوصی قوانین جھگڑے کا باعث کیوں ہیں؟
وجہ یہ ہے کہ دہشتگردوں کے کچھ سپورٹر اور پروموٹر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔جبکہ حکمران جماعت کے وزراءکے کالعدم تنظیموں سے روابط اور سیاسی تعلقات کس سے چھپے ہوئے ہیں؟
نیشنل ایکشن پلان میں خاص طور پر پنجاب میں کارروائیوں کا ذکر کیا گیا تھا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔حکمراں جماعت بہت عرصہ سے پنجاب میں دہشتگردوں کے خلاف مو¿ثر آرمی آپریشن سے انکاری رہی ہے۔ ایک شق میں کہا گیا تھا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو جگہ دیں۔ لیکن کیا ایسا ہوا؟ دینی مدارس کی انتظام کاری اور رجسٹریشن کا کام ابھی تک ادھورا ہے۔ نیشنل کاونٹر ٹیرر ازم اتھارٹی (نیکٹا) کا کوئی وجود ہی نظر نہیں آرہا۔ اسی طرح نیشنل ایکشن پلان کے بیشتر دیگر نکات بھی عمل کا روپ اختیار نہیں کر سکے۔
ابھی تک یہ تو واضح نہیں ہوا کہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد± الفساد میں بنیادی طور پر کیا فرق ہو گا۔ لیکن اندازہ یہی ہے کہ ضرب عضب دہشتگردوں کے مراکز کےخلاف عسکری کارروائیاں جاری رکھے گا اور اسکا مرکز غالباً پاک افغان سرحدی علاقے ہوں گے۔ جبکہ رد± الفساد کا دائرہ پورے ملک پر محیط ہو گا۔ یہ صرف عسکری کارروائی نہیں ہو گا بلکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد بھی اسکی ذمہ داریوں کا حصہ ہو گا۔ ضرورت بھی اسی امر کی ہے کہ ایکشن پلان کے ہر نکتے کے ایک ایک حرف پر عمل کیا جائے۔
اُمید ہے کہ آپریشن ’رد الفساد‘ سابقہ آپریشن ’ضرب عضب‘ کی ان اہداف کو جو کسی وجہ سے باقی رہ گئے تھے پورا کرے گا اور یہ آپریشن بھی ضرب عضب کی طرح کامیاب و کامران ہوگا۔ پاکستانیوں کےلئے نئی امید لےکر آئےگا۔ ایسا تب ممکن ہے جب دہشتگردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جائے۔دہشتگرد کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی آہن گرفت میں لایا جائے۔ پاکستانی قوم کی تمام تر دعائیں اور نیک خواہشات پاک فوج کےساتھ ہیں۔

Scroll To Top