جس ملک میں حکمران خود دہشتگردوں کی پشت پناہی کرتے ہوں وہاں دہشتگردی کو کیسے روکا جا سکتا ہے، مولانا بخش چانڈیو

  • ردلفساد کی مکمل حمایت کرتے ہیں مگر ردالنثار کیا جاتا تو اوربھی بہتر ہوتا ،وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی پالیسیاں درست کرے
  • ایک صوبے کے وزرا ءکبھی اعلانیہ اور کبھی چھپ کر دہشتگردوں کی حمایت کرتے ہیں ،سندھ حکومت اور سندھ پولیس نے قیام امن کےلئے قربانیاں دیں ہیں جبکہ رینجرز کے کردار کو بھی فراموش نہیں کرسکتے

Image result for ‫مولانا بخش چانڈیو‬‎

کراچی (این این آئی)پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما مولانا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ چوہدری نثار پورے ملک کے وزیر داخلہ بنیں ، وفاقی حکومت کے لوگ کچھ بھی کر یں کوئی نوٹس نہیں لیتا ،تفرقہ بازی کا خاتمہ اورپالیسیوں کو درست کرنا ہوگا ،ردلفساد کی مکمل حمایت کرتے ہیں مگر ردالنثار کیا جاتا تو اور بہتر ہوتا ،وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی پالیسیاں درست کرے ،پارٹی جب عرفان مروت سے متعلق لائحہ عمل طے کرےگی تومیڈیا کو آگاہ کروں گا۔کراچی میں کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کتاب کسی بھی موضوع پر ہو ،کتابوں سے زمانے زندہ رہتے ہیں ،کوئی کتاب شائع ہوتی ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے ،بدقسمتی کا دور ہے کہ سیاسی کارکن کتاب سے دور ہوجائے ،سیاسی کارکنان کی باتوں سے علم پھوٹتا تھاانہوںنے کہاکہ کتاب کی وجہ سے کارکنان کے ہاتھوں میں اسلحہ نہیں آیا ،کتاب سیاسی کارکن کے ہاتھ سے گئی تو اسلحہ آگیا ،یہ اسلحے کی روایت جلد ختم ہوگی۔مولانا بخش چانڈیو نے کہاکہ حالات کا آپکو بخوبی علم ہے ،ہمارے ملک پر جو حالات ہیں انکا جلد خاتمہ ہوگا ،عجیب و غریب زمانہ ہے جس میں کتاب دور اور اسلحہ آگیا ،برداشت کا دور نہیں رہا ،ماضی میں سیاسی کارکن کی قربانیوں کو دیکھا جاتا تھاانہوںنے کہاکہ آج بدقسمتی سے حالات بدل گئے ہیں تاہم دہشت گردی کا جلد خاتمہ ہوگاانہوںنے کہاکہ کسی انسان کو قتل کرنے کا کسی کو بھی اختیار نہیں ہے ،دہشت گردی کے خلاف قوتوں کو متحد ہونا ہوگا ،دہشتگردی کی اسباب کو جاننا ہوگاانہوںنے کہاکہ آپ دہشتگردوں کے مقابلے میں اسلحہ اٹھانے کے بجائے دہشتگردی کے اسباب پر غور کریں ،اپنی بات کو منوانا ہوگا انہوںنے کہاکہ جس ملک میں حکمران دہشتگردوں کی پشت پناہی کرتے ہوں وہاں دہشتگردی کو کیسے روکا جاسکتا ہے وزرا دہشتگردی کی ڈھکی چھپی حمایت کرتے ہوں وہاں کیا امید رکھی جاسکتی ہے ،ایک صوبے کے وزرا کبھی اعلانیہ اور کبھی چھپ کر دہشتگردوں کی حمایت کرتے ہیں انہوںنے کہاکہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس نے قیام امن کےلئے قربانیاں دیں ہیں جبکہ رینجرز کے کردار کو بھی فراموش نہیں کرسکتے ،انہوں نے بھی لازوال قربانیاں دیں ہیں ،عام شہریوں نے قربانیاں دیں ہیں ۔ مولانا بخش چانڈیو نے کہاکہ وزیر داخلہ چودھری نثار سے مجھے اختلاف ہے ،وہ پورے ملک کے وزیر داخلہ بنیں ،وفاقی حکومت کے لوگ کچھ بھی کریں کوئی نوٹس نہیں لیتا ،ہمارے لوگ آہ بھی کریں تو نوٹس ہوجاتا ہے انہوںنے کہاکہ میرے چیئرمین نے درست مطالبہ کیا تھا ،تفرقہ بازی کا خاتمہ کرنا ہوگا ،پالیسیوں کو درست کرنا ہوگا انہوںنے کہاکہ ردلفساد کی مکمل حمایت کرتے ہیں مگر ردالنثار کیا جاتا تو اور بہتر ہوتاانہوںنے کہاکہ نواز لیگ کے خلاف نہیں انکی پالیسیوں کا مخالف ہوں ،انہیں چھوٹے صوبوں سے کوئی سروکار نہیں ،آپ سیہون شریف گئے مگر درگاہ پر نہیں گئے ،اپ شہدا کےلئے کوئی اعلان نہیں کرسکے یہ کیا ہے ،آپ چکر لگا کر چلے گئے انہوںنے کہاکہ ہزاروں لاکھوں لوگ غمگین ہیں آپ نے اچھا نہیں کیا ،دعا ہے کہ پاکستان کو اللہ امن کا گہوارہ بنائے مولابخش چانڈیو نے کہاکہ میں صوبائیت کی نہیں پاکستانیت کی بات کرتا ہوں۔انہوںنے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انکا فیصلہ کچھ اور عمل کچھ اور ہے ،آپ کے فیصلوں سے آپکی نیت ظاہر ہونی چاہئے۔ انہوںنے تقریب کے دور ان کہاکہ آپ لاحول شیطان کو بھگانے کےلئے پڑھتے ہیں پہلے خود شیطانیت کے شکنجے سے نکلنا ہوگا ۔سندھ اسمبلی جانے سے متعلق صحافی کے سوال پر مولا بخش چانڈیو نے جواب دیا کہ پیپلزپارٹی کا سپاہی ہوں ،آصف علی زرداری صاحب میرے محسن ہیں ،انکی مہربانیوں سے گمنامی کی زندگی میں جانے سے بچا ،پارٹی قیادت نے میرے لئے جو بھی فیصلہ کیا سے تسلیم خم کرونگاانہوںنے کہاکہ عرفان اللہ مروت کے معاملے کا علم نہیں اس لیے فوری تبصرہ نہیں کرسکتا تاہم آصفہ اور بختاور نے جو کہا اس کا احترام ہے ،جب تک پارٹی کا فیصلہ نہ آجائے عرفان مروت سے متعلق کچھ نہیں کہوں گا ،توبہ کا دروازہ ہروقت کھلا رہتا ہے ۔ پارٹی جب عرفان مروت سے متعلق لائحہ عمل طے کرے گی میڈیا کو آگاہ کروں گا ۔

Scroll To Top