بھارت میں انتہا پسندی کا فروغ اور علاقائی امن

سعدیہ نواز


بھارت کی ہندو قومیت پرست جماعت بھارتیا جنتا پارٹی(BJP)کو ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریا سواےم سےوک سنگھ (RSS) کا سیاسی ونگ تصور کیا جاتا ہے جوہندو قومیت پرستی کے احےاءپر مبنی ” ہندوتوا فلاسفی ” پر عمل پےرا ہو کر بھارت کو اےک “ہندو راشٹرا” بنانا چاہتی ہے۔ بھارت کی ہندوانتہا پسند قوتوں نے RSSکے جھنڈے تلے جس انداز مےں انتہاپسندی کے فروغ مےں اپنا مذموم کردار ادا کیا ہے اس نے کئی سانحات کو جنم دیا ہے جو کبھی بابری مسجد کی شہادت کی شکل مےںظاہر ہوا تو کبھی گجرات فسادات کی صورت مےں سامنے آےا جسکی لپےٹ مےں آکر ہزاروںبےگناہ افراداپنی جانوں سے ہاتھ دھو بےٹھے۔ سکھوں اور مسیحیوں کےساتھ سلوک بھی کوئی خوشگوارتاریخ اور رواےت کا حامل نہیں رہا۔ عیسائی مشنریز کو روزِاول ہی سے مختلف طریقوں سے ڈراےا دھمکاےا جاتا رہا ہے۔ ان پر جان لےوا حملے کئے گئے اور متعدد افراد کو قتل کیا گےا علاوہ ازیں کئی ننز(Nuns) اور پادریوں کو زندہ جلادیا گےا۔ 2007 اور 2008 مےں اڑیسہ کے مسیحی مخالف فسادات کے دوران بیسیوں افراد کو قتل کردیا گےا اور آج بھی ہزاروں مسیحی اپنے گھربار سے محروم پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہےں اور ہندو انتہاپسندوں کے حملوں کے خوف سے اپنے گھروں کو واپس جانے سے خوفزدہ ہےں ۔ مزید برآں اےسے عناصر کونشانہ بناےا گےا جنہوںنے ہندوانتہا پسندی کی بھارتی ریاستی پشت پناہی اور مسلمانوں کو بم دھماکوں اوردہشتگرد حملوں کے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتارکرنے کے منظم منصوبوں کو بے نقاب کیا۔ بھارت نے انسانیت کے خلاف اپنے ان جرائم کو چھپانے کےلئے ممبئی حملوں کا ڈرامہ رچاےا اور ہیمنت کرکرے کو بھارتی انتہا پسندی کا پردہ فاش کرنے کی پاداش مےں ان حملوں کی آڑ مےں قتل کردیا جبکہ بھارتی فوج کے حاضر سروس کرنل شری کانت پروہت جےسے ریاستی انتہا پسند اور دہشتگرد عناصر کو کھلی چھوٹ دےدی گئی کہ انکے کسی جرم کی کوئی بازپرس اور سزا نہیں۔
مئی 2014مےں بھارتیا جنتا پارٹی نے بھارت کے عام انتخابات مےں کامیابی حاصل کی تو گجرات کے وزیرِ اعلیٰ نرےندرا مودی نے جسے اپنی انتہا پسنداور مسلم مخالف پالیسیوں اور 2002مےں گجرات کے مسلم کش فسادات مےں ملوث ہونے کے باعث مسلمانوں کے قاتل کے طور پر پہچاناجاتاتھا ، ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ ہٹلر اور اسکے فاشسٹ نظرےے کو اپنا رول ماڈل بنانےوالے مودی کی انتہا پسندی اور مسلمان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیںرہی۔ اسکے برسرِاقتدارآتے ہی اےک طرف ہندو انتہا پسندوں کو کھلی آزادی مل گئی کہ وہ بلا روک ٹوک اپنے انتہا پسند اور متشدد اےجنڈے اور فلسفے کو طاقت کے زور پر عوام پر مسلط کردےں ، دوسری طرف ماضی کے تلخ تجربات کے پےشِ نظر مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں پر مبنی بھارت کی مذہبی اقلیتوںمےں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ آنےوالے سالوں مےں رونما ہونےوالے واقعات نے ان خدشات کوبالکل درست ثابت کیااور عدم برداشت اور عدم رواداری کی کئی مثالےں سامنے آئےں۔گائے کے ذبیحہ اور گائے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کردی گئی اور محض شبہ مےں کئی افراد کو قتل کردیا گےا۔ گائے کے پےشاب کو دوائیوں مےں استعمال کیا گےا۔ بھارت مےں تعلیمی نصاب کو بھی ہندوتوا فلاسفی کے مطابق ترتیب دینے کی کوششےں کی جارہی ہےں۔ بھارت کی تاریخ کو بھی ہندوتوا فلاسفی کی روشنی مےں از سرِ نو لکھنے کا منصوبہ جاری ہے جس مےں بھارت کی اسلامی شناخت اور تشخص کو مجروح کیا جارہا ہے۔ شدھی جےسی تحریکوں کے احےاءکے ذریعے غےر ہندو آبادی کو زبردستی ہندو بنانے کی کاوشےں کی جارہی ہےں۔ مسلمانوں کےساتھ امتیازی سلوک تو معمول کی بات ہے مگر اس مےں بھی بہت شدت آئی کہ بھارت کے سےکولر چہرے کی بدنمائی مےں مزید اضافہ ہو ا اور وہاں کے لبرل اورسےکولر طبقے تشویش مےں مبتلاءہوگئے۔ کئی ممتاز دانشوروں اورلکھاریوں نے احتجاجاً قومی اعزازات اور مےڈل حکومت کو واپس کردئےے۔
بھارتی وزیرِ اعظم اپنی مدت اقتدار مےں سے نصف گزار چکے ہےں اور ےوں لگتا ہے کہ انتہا پسند مودی کی تمام پالیسیاںاسکی انتہا پسندی کی نذر ہوچکی ہےں۔ حال ہی مےںبھارت مےں Demonetizationکی پالیسی کے تحت 1000اور 500کے نوٹوں کو اچانک بند کردیا گےا۔ کرنسی نوٹوں کی بندش کا معاملہ بھی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کی اےک بہت بڑی ناکامی ثابت ہوا ہے ۔ ملک کی 86فیصد کرنسی کے غےر فعال ہونے سے پےدا ہونےوالی صورت حال سے نمٹنے کےلئے مو¾ثر اقدامات کی عدم موجودگی کو بڑی شدت کےساتھ محسوس کیا گےا۔ اس بندش سے مسائل نے ملک مےں بحران کی کےفیت پےدا کی، نئے نوٹوں کے حصول کی خاطر بنکوں کے باہر لگی لمبی لمبی قطاروں مےں لوگوں کی اموات بھی واقع ہوئیں۔ اشیائے خوردونوش اور ضروریاتِ زندگی کے حصول مےں شدید مشکلات پےش آئےں اور اس تاثر کو تقویت ملی کہ مودی حکومت کی اس پالیسی سے غریب عوام کی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوئی جنکے حالات پہلے ہی دگرگوںہےں جبکہ کالے دھن اوردہشتگردی سمےت کالے دھن سے پروان چڑھنے والی سماجی برائیوں کا خاتمہ محض دیوانے کا خواب ثابت ہوا۔ مودی کی اس پالیسی کو بھارت کی معاشی ترقی کےلئے اتنے خطرناک اور نقصان دہ نتائج کا حامل قرار دیا جارہا ہے جےسے کسی تےز رفتار گاڑی کے پہیوں کو فائرنگ سے نشانہ بنانے سے ہو سکتے ہےں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر بھی بھارتی انتہا پسندی کی بھےنٹ چکا ہے۔ انتہا پسند عناصرکے کشمیریوں پر حملوں مےں تےزی آگئی ہے۔ بھارت کی مختلف ےونیورسٹیوں مےں کشمیری طلباءپر حملے ہورہے ہےں اور انکے حق مےں آواز اٹھانے والوں کو بھی حملوں کا نشانہ بناےا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی مذہبی بنیادوں پر تفریق اور فرقہ واریت کو ہوا دی جارہی ہے تاکہ کشمیر کی متنازعہ حےثیت اور آزادی کی تحریک کو کمزور کیا جاسکے۔ کشمیرکے موجودہ حالات و واقعات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 2016 عوامی احتجاج اور ریاستی دہشتگردی کے اعتبار سے بدترین سال ثابت ہوا۔ سےنکڑوں افراد بھارت مخالف اور احتجاجی مظاہروںمےں فائرنگ اور آنسو گےس کے شےلز سے شہید کردئےے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ پےلٹ گن کے فائر سے سینکڑوں کشمیری نوجوان اپنی اےک ےا دونوں آنکھوں کی بینائی سے ہمےشہ کےلئے محروم ہو گئے۔ہزاروں کی تعداد مےں زخمی ابھی بھی زےرِ علاج ہےں۔ مقبوضہ کشمیر مےں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ احتجاج کی شدت کو کم کیا جاسکے جبکہ پوری حریت قیادت کو ےا تو گرفتار کر لیا گےا ہے ےا نظر بند کر دیا گےا ہے۔ فوج کی طاقت، کرفیو اور ذرائع ابلاغ پر کڑی پابندیوں کی مدد سے وادی مےں معمولاتِ زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کیجارہی ہے لےکن اس مےں بھی اسے کامیابی نہیں مل سکی۔مزید برآں مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اور انسانی حقوق کی پامالیاں پاکستان اور بھارت کے درمیان خراب تعلقات اور دشمنی کی بنیادی وجوہات ہےں۔پاک۔ بھارت تعلقات اورامن مذاکرات کا جہاں تک تعلق ہے تو ہندو انتہا پسندی کے شکار مودی کا جنگی جنون اور پاکستان دشمنی راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہےں۔ مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امن مذاکرات کے امکانات معدوم ہوچکے ہےں۔ بھارت کیجانب سے کنٹرول لائن پر فائر بندی کی خلاف ورزیاں شدت اختیار کر گئی ہےں۔ سرجیکل اسٹرائیکس کے نام پر پاکستان کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ براستہ افغانستان پاکستان مےں دہشتگردی کی کارروائیاں، بھارت کے افغانستان مےں موجود ہونے کی واحد وجہ ہے۔ 2016 مےںبھارتی دہشتگرد اور جاسوس کلبھوشن ےادیو کی بلوچستان سے گرفتاری اور اعترافِ جرم کے بعدبھارت کی پاکستان مےں دہشتگردی کےلئے مزید کسی ثبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
پاکستان اور بھارت دو جوہری ریاستےں ہےں اور انکے ناخوشگوار تعلقات اور رواےتی دشمنی مےں اضافہ خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کیطرف سے کشمیر سمےت تمام مسائل کے حل اور امن مذاکرات کی دعوت کو بھی درخورِاعتناءنہیں سمجھا گےا۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارت مےں مودی سرکار کے سائے مےں پروان چڑھنے والی انتہا پسندی نہ صرف اس خطے کے امن کےلئے بلکہ خود بھارت کے اپنے وجود کےلئے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ہمسایہ ممالک پر اپنی چوہدراہٹ اور علاقائی حا کمیت کے خبط نے بھارت کے تمام ہمسایہ ممالک کو پرےشانی مےں مبتلاءکررکھا ہے۔ بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کےساتھ مختلف تنازعات بھی محض اسیلئے التواءکا شکار ہےں کہ بھارتی ہٹ دھرمی ان جھگڑوں اور قضیوں کو حل نہیں ہونے دے رہی۔ خطے کی ترقی و خوشحالی اور پائیدار امن و استحکام کا انحصار اس امر پر ہے کہ بھارت اس جنونی کےفیت سے باہر آئے جس نے اسے ہندو انتہا پسند ریاست بنا دیا ہے۔

Scroll To Top