شرجیل خان سوچ رہا ہوگا کہ کاش میں وزیر اعظم ہوتا!

پچھلے دنوں کرکٹر شرجیل خان اور خالد لطیف خبروں کی زینت بنے رہے ہیں۔ ابھی اُن کے مقدّر کا فیصلہ ہونا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ اُن پر تاحیات پابندی لگ سکتی ہے۔ اور دو سال کی پابندی تو طے شدہ ہے۔ اگر وہ دو برس تک کرکٹ سے دور رہے تو جب واپس آئیں گے تو وہ قومی ٹیم میں جگہ بنا پائیں گے؟جہاں تک خالد لطیف کا تعلق ہے وہ تو شاید اپنی آخری اننگز کھیل چکے ہوں۔ مگر شرجیل خان کو شایددوبارہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع مل جائے۔

اِ ن دونوں پر سپاٹ فکسنگ کا الزام ہے۔ انہوں نے دو یا تین ڈاٹ بال کھیلنے کے عوض کسی بکی سے پیسے لئے ہیں۔ یہ پیسے یقینا اتنے نہیں ہوں گے کہ پاناما میں کوئی کمپنی بنا سکیں۔یقینی طور پر وہ کرکٹ کے قوائدوضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں مگر کیا انہوں نے اپنی ٹیم کو ہرانے کا سودا کیا؟ اگر نہیں تو وہ یقینا یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کاش وہ وزیر اعظم ہوتے یا پھر کسی وزیر اعظم کے بیٹے ہوتے یہ کتنا بڑا پیراڈاکس ہے کہ ہمارے وزیراعظم پر غیر قانونی ذرائع سے دولت کما کر ملک سے باہر بھیجنے،پاناما میں آف شور کمپنیاں بنانے اور لندن میں نہایت مہنگے فلیٹ خریدنے کا الزام تقریباً دس ماہ قبل لگا تھا مگر وہ ہنوز وزیر اعظم کے وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے اِس الزام کو غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی قابلِ یقین ثبوت بھی پیش نہیں کیا۔ ان پر لگنے والے الزامات میں سنگینی اس قدر ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنا دوسرا سارا کام چھوڑ کر اِس طرف توجہ دینی پڑی ہے۔
اور دوسری طرف بیچارے شرجیل خان اور خالد لطیف ہیں کہ صرف سپاٹ فکسنگ کے الزام میں فوری طور پر عملاً قابل گردن زدنی قرار پا چکے ہیں۔
سبق اس بات سے یہ ملتا ہے کہ آدمی کو جرم کرنا ہی ہوتو کوئی بڑا جرم کرے۔
یا پھر جرم کرتے وقت سوچ لے کہ وہ وزیراعظم نہیں۔۔۔

Scroll To Top