کیا صادق اورامین ہونا گالی ہے!!

احمد سلمان انور

احمد سلمان انور

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں ملکی تاریخ کے اہم ترین کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جو آئندہ چند دنوں میں متوقع طور سنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے دوران بھی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے وزیراعظم نواز شریف پر اطلاق کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہی ہے۔اس کیس میں وزیراعظم کےخلاف درخواست دائر کرنے والے چاہتے ہیں کہ مبینہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ پر سپریم کورٹ آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹادے جبکہ وزیراعظم کے وکلاءکا یہ موقف ہے کہ ان آرٹیکلز کی اسکروٹنی کی ضرورت ہے اور ان آرٹیکلز کے تحت وزیراعظم کی نا اہلی ممکن نہیں۔
پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے قانونی نکات اپنی جگہ‘ مگر یہ بھی تو سچ ہے کہ بار بار بدلتے بیانات نے حکمران خاندان کے حوالے سے بہت کچھ عیاں کر دیا ہے۔اخلاقی طور پر میاں نواز شریف صاحب لوگوں کی نظروں میں ”صادق اور امین “ نہیں رہے۔ قطری شہزادے کے خطوط شاید قانونی ضروریات تو پوری کرنے کے کام آ سکیں مگر اخلاقی حوالے سے یہاں بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے دائرہ سماعت کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات اور پھر استثنیٰ کی باتوں سے بھی غلط پیغام ہی گیا۔
پانامہ کیس نے جس طرح ہماری کرپٹ اشرافیہ اور بے بس و مفلوج اداروں کو بے نقاب کیا ہے اس میں ایک اہم نکتہ جو زیر بحث ہے وہ ہے ”صادق اور امین“ کی اصطلاح۔ پانامہ کیس کے سماعت کے دوران ایک موقع پر فاضل جسٹس صاحب نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عمل درآمد کیا گیا تو پارلیمنٹ میں موجود تمام اراکین میں سے صرف ایک آدھ ہی بچ پائیں گے ۔ یعنی آئین پاکستان کے اِن دو آرٹیکلز پر 342 ممبران میں سے صرف ایک ہی پورا ا±ترتا ہے۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آخر آئین کی یہ کون سے آرٹیکل ہیں، جن پر پارلیمنٹ کے ممبران کا پورا اترنا اِس قدر مشکل کام بن گیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں منتخب نمائندوں کیلئے آرٹیکل 62 میں یہ الفاظ درج ہیں۔
”کوئی شخص مجلس شوری (پارلیمنٹ)کا رکن منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہو سکتا جب تک کہ (د) وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکامات اسلامی کے انحراف میں مشہور ہو (ذ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نیز گناہ کبیرہ سے مجتنب نہ ہو۔ (ر) وہ سمجھدار اور پارسا نہ ہواور فاسق ہو اور امین اور دیانتدار نہ ہو۔ (ز) کسی اخلاقی پستی میں ملوث ہونے یا جھوٹی گواہی دینے کے جرم میں سزا یافتہ نہ ہو۔ (س) اس نے قیام پاکستان کے بعدملک کی سا لمیت کے خلاف کام کیا ہو یا نظریہ پاکستان کی مخالفت کی ہو۔ (یہ ترجمہ حکومت پاکستان کی طرف سے آئین پاکستان کے اردو میں شائع شدہ ایڈیشن سے لیا گیا ہے)“
ایک مرتبہ جناب رسول کریمﷺسے پوچھا گیا کہ کیا کوئی مسلمان بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں مسلمان بزدل ہوسکتا ہے! پھر پوچھا گیا کہ کیا کوئی مسلمان کنجوس ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا مسلمان کنجوس ہوسکتا ہے تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا کوئی مسلمان جھوٹا ہو سکتا ہے؟ تو مخبر صادقﷺ نے فرمایا نہیں کوئی مسلمان جھوٹا نہیں ہوسکتا! سب سے پہلے تو ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے نبی کریمﷺصادق اور امین تھے ان کے اس قول کی روشنی میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟
”صادق اور امین“مسلم حکمرانوں کا خاصہ رہا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ پانامہ کیس اور بیرون ملک اثاثے اِس بات کے شاہد ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ اِس شق پر کتنا پورا اترتے ہیں۔ اس کے بعد ہر ذہن میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آخر ہمارے ہاں جمہوری نظام کیوں عوام کے لئے خاطر خواہ طور پر مفید ثابت نہیں ہو رہا۔ اشرافیہ کو تو سب ٹھیک لگتا ہے، چاہے جمہوریت ہو یا آمریت ،کیونکہ ان کی ہر دور میں سنی جاتی ہے، مگر 80فیصد عوام کا کیا کریں جو ہر دور میں حالات کی چکی کے دونوں پاٹوں میں ہمیشہ سے بری طرح پستے آئے ہیں۔
یہاں تیسری بارمنتخب وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے چھوٹے بھائی اور عرصہ30 سال سے کسی نہ کسی شکل میں برسراقتدار حکمران خاندان کے سپوت وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف صاحب کاا رفع کریم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک لاہور کی تقریب میں وہ اعتراف بھی قابل ذکر ہے کہ ”گزشتہ 70سالوں میں اس ملک کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی ،چاہے سیاسی حکومت ہو یا مارشل لاءکی حکومت دونوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا۔ اورقوم کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا ہے اس حمام میں سب ننگے ہیں کوئی حکومت بری الذمہ نہیں۔مارشل لاءکی حکومتوں نے پاکستان کا بیڑاغرق کیا جبکہ سیاسی حکومتیں بھی عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتریں۔ “
پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی درحقیقت اوپر سے نیچے تک اس پورے سماج کا معمول بن چکی ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے گل سڑ جانے کی علامت ہے۔ ایک دوسرے پر مسلسل بھونڈے الزامات اس بات کی دلیل ہیں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ لیکن ایک بات جس پر حکمرانوں کے سارے ٹولے متفق ہیں وہ ہے غریب عوام کا استحصال۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام ہر حال میں آمریت سے بہتر ہے اور اگر جمہوری نظام کو صحیح معنوں میں لاگو کر کے بہترین عوامی نمائندوں کا انتخاب کیا جائے تو چند ہی سالوں میں اس کا نتیجہ ملک وقوم کی ترقی کی صورت میں نکلے گا۔اس اصلاحی اور تعمیری سلسلہ کی ایک اہم کڑی پانامہ کیس کا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Scroll To Top