اندرونی سیکورٹی چیلنجز بڑھ گے !

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ اندرونی سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود پاک فوج مشرقی سرحد سے کسی بھی خطرے کا مثر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے گلگت میں فورسز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں پاکستان کے سپاہی ہونے اور سخت موسموں سے قطع نظر اپنی زمین کی حفاظت کرنے پر فخر ہے۔آئی ایس پی آر سے جاری کیے گئے بیان میں مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیاچن کا دورہ کیا اور گیاری سیکٹر میں یادگار شہدا پر پھول چڑھائے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہماری آزادی ہمارے شہدا کی مرہون منت ہے، مادر وطن کی حفاظت کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے جیسا کوئی بھی بڑا انعام نہیں۔“
سپہ سالار کے سیاچن جیسے بلند ترین محاذ پر فوجی جوانوں کے پاس جاکر ان کا حوصلہ بڑھانا قابل تحسین بھی اور قابل تقلید بھی۔ دنیا کے دشوار گزار علاقے میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کررہنے والوں سپاہیوں کے حوصلہ بڑھانے جیسے عمل کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ جنرل باجوہ نے جس انداز میں بھارت کو مخاطب کیا ا س سے یہ قیاس آرائی کرنا غلط نہیں کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے درپردہ بھارت ہی ہے جو پاکستان دشمن قوتوں کی بھرپور انداز میں سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے۔
وطن عزیز کے بدخواہوں نے دہشت گردی کو بطور ہتھیار بنا رکھا ہے۔ افسوس کہ اہل سیاست ان خرابیوں کو دور کرنے کو تیار نہیں جو اس ضمن میں حتمی کامیابی کے حصول میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ملک میںایک بار پھر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا۔ اہل فکر ونظر کا خیال ہے کہ جب تک ان بیس نکات پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوتا دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا خواب کسی طور پر شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ زمہ دار حضرات کو کسی طور پر نہیں بھولنا چاہے کہ عوام کی جان ومال کا تحفظ کرنا ان کے کلیدی فرائض میں شامل ہے۔ اگر مگر چونکہ چنانچہ کی بحث سے تائب ہوتے ہوئے انھیں ان مسائل پر قابو پانا ہوگا جس سے علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار متاثر ہورہا۔
ادھر پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ لاہور دھماکے کی شدت سے بظاہر لگتا ہے کہ یہ آپریشن’رد الفساد‘کا رد عمل ہے۔نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک احمد خان کا موقف تھا کہ اس دھماکے کی نوعیت ماضی میں ہونے والے دھماکوں سے کافی مختلف تھی اور اب تک کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی۔انھوں نے کہا کہ لاہور میں اب تک جتنے بھی دھماکے ہوئے وہ نہر کی دوسری جانب کے علاقوں میں کیے گئے جو کہ سیاسی مرکز ہے، لیکن ڈیفنس میں ہونے والے دھماکے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔ان کے خیال میں یہ علاقہ بہت محفوظ تصور کیا جاتا ہے، جہاں نہ صرف عسکری اداروں، بلکہ خود ڈی ایچ اے حکام کی طرف سے بھی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
ایک طرف اس دھماکہ کی ذمہ داری کسی دہشت گرد گروہ نے قبول نہیں تو دوسری جانب حتمی طور پر یہ بات واضح نہیں ہوا کہ آیا یہ کس چیز کا دھماکا تھا جس کے نتیجے میںاس قدر جانی و مالی نقصان ہوا۔
حکام کے بقول دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں مختلف سیکورٹی کمیروں کی ریکارڈنگ سے بھی مدد حاصل کی جاری ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں آپریشن ”رد الفساد“کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔اس آپریشن کا مقصد ملک بھر کو اسلحے سے پاک کرنا اور بارودی مواد کو قبضے میں لینا قرار دیا گیا ، جبکہ ملک بھر میں دہشت گردی کا بلاامتیاز خاتمہ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا بھی اس کے اہداف میںشامل ہے ۔
دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ دراصل پورے ملک میں لڑی جارہی ۔ پاکستان کا شائد ہی کوئی کونہ ہو جو بدامنی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا ہو۔ قتل وغارت گری کا ہر واقعہ ہماری توجہ اس سچائی کی جانب مبذول کرواتا ہے کہ قیام امن کےلئے اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرب عضب کے نتیجے میں ہم نے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں مگر افسوس کہ ان کامیابیوں کو دیرپا بنانے میں غفلت برتی گی۔
چیف آف آرمی سٹاف نے جس دشمن کا زکر کیا وہ آج ہمارے گھر تک جا پہنچا۔ پڑوسی ملک کے حمایتی سیاسی، مذہبی اور تجارتی حلقوں میں اپنا اثررسوخ اس حد تک حاصل کرچکے کہ وہ حکومتی پالیسوں پر اثر انداز ہورہے ۔ ہمیں دل وجاں سے مان لینا چاہے کہ کوئی بھی جنگ اس وقت نہیں جیتی جاسکتی جب تک پوری قوم میں اس بارے اتفاق ویکجہتی کو فروغ حاصل نہیں ہوتا۔دراصل ابہام پید اکرنے والے ان عناصر پر نظر رکھنی ہوگی جو مختلف حیلے بہانوں سے پاکستانی قوم کو کمزور کرنے کے مشن پر کاربند ہیں۔ خوش آئند ہے کہ رینجرزنے پنجاب میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا شروع کردیا ۔قوی امید کرنی چاہے کہ وہ دن دور نہیں جب شرپسندوں کو مکمل طور پر شکست سے دوچار ہونگے اور امن پسند قوتیں فتح حاصل کریں گی۔ سیاچن کے محاذ پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے جس اندرونی سیکورٹی کی جانب اشارہ کیا ہے بلاشبہ اسے حکومت کو بھی ترجیح اول بنانا ہوگا تاکہ یہ فول پروف نظام کی شکل میں یہ جلد ہمارے ہاں آموجود ہو۔

Scroll To Top