کچھ ان جذبوں کے بارے میں جنہیں ایک اور فتح مکہ کا انتظار ہے 22-10-2009

پاکستان کی صنعتی زندگی’ اس کی معیشت اور اقتصادی صورتحال پر بڑا برا وقت منڈلا رہاہے۔ ہم میں جو قنوطیت پسند ہوں گے وہ یہاں آسمان پر منڈلاتی ” گدھوں“ کا ذکر کرنا پسند کریں گے۔ مگراس قوم کو مرتے مرتے بھی جی اٹھنا آتا ہے۔ ورنہ اس کا کام تو چنگیزی یلغار اور ہلاکو کے قہر نے ہی تمام کردیا ہوتا۔
یہ گدِھ جو آسمانوں پر منڈلارہے ہیں یہ ان ہی کی لاشوں کو کھائیں گے جنہوں نے انہیں ہماری طرف بھیجا ہے۔
یہ میرا ایمان ہے۔ اور یہ ہم سب کا ایمان ہونا چاہئے۔
لیکن آج میں بات موجودہ اقتصادی صورتحال میں اس جدوجہد کے متعلق کرنا چاہتا ہوں جو الاخبار کو )اور اس حجم کے دوسرے اخبارات کو( اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے کرنی پڑ رہی ہے۔جن اخبارات کا ذکر میں یہاں کررہا ہوں ان کا ” مالیاتی انحصار“ سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کے اشتہارات پر ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ” پبلک فنڈز“ کا معاملہ ہے’ لیکن ہماری حکومتیں ” پبلک فنڈز“ کو ہمیشہ اپنی جاگیر سمجھتی چلی آئی ہیں۔
چند سال ہوئے میرے ایک کزن نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں صفحہ اول پر اپنا کالم بند کردوں ورنہ روزنامہ الاخبار کی مالی حیثیت اس کالم کی تندی اور تیزی کی زد میں آئے بغیر نہیں رہے گی۔
میں نے جواب دیا تھاکہ ” اگر میں اپنے دل کا سچ سامنے نہیں لا سکتا تو پھر مجھے اخبار نکالنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔؟“
یہ اس زمانے کی بات ہے جب جنرل مشرف کا فرمان آئین کا درجہ رکھتا تھا۔ اور یہ بات میرے بس میں تھی ہی نہیں کہ میں اس ” آئین “ کو چیلنج نہ کروں۔
جنرل مشرف تاریخ کے کباڑخانے میں چلے گئے۔
مگر ان کا آئین ہنوز قائم ہے’ اور اپنی کرشمہ سازیاں دکھا رہا ہے۔
جو لوگ اس آئین کے خلاف برسرپیکار تھے وہ آج بھی میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور ہر جنگ کوئی نہ کوئی قیمت ضرور مانگتی اور وصول کرتی ہے۔
جس جنگ کی قیمت ادا نہ کی جائے وہ جیتی نہیں جاسکتی۔ ہمارے جوان پہاڑوں میں یہ قیمت اپنے خون سے ادا کررہے ہیں۔ اور جن جذبوں کو صبح نوکا انتظار ہے’ وہ بھی اپنے چراغ جلائے سخن و تحریر کی دنیا روشن رکھے ہوئے ہیں۔
ہر ” محمدی “ سپاہی کو فتح مکہ کا انتظار ہے۔
جیسے وہ مکہ فتح ہوا تھا ’ ویسے ہی یہ مکہ بھی فتح ہوگا۔ منکرین کے مقدر میں تب بھی رسوائی لکھی تھی۔ منکرین کے مقدر میں اب بھی رسوائی ہی ہوگی۔۔۔!

Scroll To Top