امریکہ کو ضرورت ہے ایک ایسے حکمران کی جو پاکستان کو بھارت کی جھولی میں ڈال سکے۔۔۔

حالات و واقعات نے اِس تاثر کو بے پناہ تقویت بخش ڈالی ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کی منشا اور منظوری کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی۔ جب بات ملکی اسٹیبلشمنٹ کی ہوتی ہے تو ذہن فوری طور پر فوج کی طرف جاتا ہے کیوں کہ ہماری فوج چار مرتبہ براہ راست بھی اقتدار پر قابض ہو چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان نے کئی دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں میں یا قریب ہونے کی بنا پر متعدد اداروں کو بھی ایک ایسی اسٹیبلشمنٹ کا درجہ دے ڈالا ہے جو اُن کی مرضی اور منشا کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ یہ ادارے کون کون سے ہیں میں یہاں اُن کی نشاندہی نہیں کروں گا۔ لیکن فوج بہر حال میاں نواز شریف کے ”اثرو رسوخ“ سے باہر رہی ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس ادارے کی سرپرستی میں میاں صاحب کے سیاسی تشخص نے جنم لیا تھا اس ادارے کے ساتھ جنرل ضیاالحق کے بعد میاں صاحب کی کبھی نہیں بنی۔ اور میاں صاحب کی یہ خواہش ابھی تک ایک خواب ہی ہے کہ فوج کی قیادت ان کی منشا کے سانچے میں ڈھل جائے۔ جنرل ضیاءالحق کے بعد میاں صاحب کے تعلقات کسی بھی آرمی چیف کے ساتھ خوشگوار نہیں رہے اور اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں کہ کوئی بھی آرمی چیف اپنے ادارے کو پنجاب پولیس بنا ڈالنے پر آمادہ نہیں ہوا۔
بحرحال بات میں نے یہاں سے شروع کی تھی کہ ہماری کوئی بھی حکومت اب تک ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کی منظوری کے بغیر قائم نہیں ہوئی۔ اس ضمن میں میںچاروں اُن سیاسی شخصیات کا نام لوں گا جو 1980کی دہائی کے بعد منظر عام پر آئی ہیں۔ میری مراد محترمہ بے نظیر بھٹو ،میاں نواز شریف ، جناب آصف علی ذرداری اور جناب عمران خان سے ہے۔ غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی سوچ کی بالائی سطح پر رکھنا ان چاروں شخصیات کی ایک بڑی ترجیح رہی ہے۔اور یہاں غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ سے میری مراد امریکہ ہے۔ جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے وہ عالمی سیاست میں اب امریکہ کے ”فرنٹ پرسن“ کا کردار ادا کرتا ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ جو این آر او کیا وہ واشنگٹن کی ایما( بلکہ دباو¿) پر کیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ اس ”این آر او“ کا فیض محترمہ خود نہ پاسکیں۔ اور اس کا فائدہ دوسری دو شخصیات یعنی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف اٹھا رہی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ محترمہ پر امریکہ زیادہ اعتبار نہیں کر تا تھا۔ امریکہ کو جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کی جگہ ایسے ” اصحاب“ کی ضرورت تھی جنہیں وہ اپنی منشا کے مطابق چلا سکے۔جب امریکہ زرداری سے مایوس ہو گیا تو میاں نواز شریف کو سامنے لے آیا۔۔
میں نے اِس ضمن میں جناب عمران خان کا نام کیوں لیا ہے۔؟
یہ بات ایک المیے سے کم نہیں کہ ایک ایسا قومی ہیرو جس نے اپنی انتھک سیاسی جدوجہد سے اتنی کامیاب تحریک اور پارٹی کو گراو¿نڈ زیرو سے اتنے بلند مقام تک پہنچا یا ہے ، وہ بھی غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کی نارضگی مول لینے کے لئے تیار نہیں۔ اسے بھی اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ امریکہ اسے اِسی صورت میں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی اجازت دے گا کہ وہ واشنگٹن کے ایجنڈے کے لئے خطرہ نہ بنے۔
واشنگٹن کو مستقبل میں دوخطرات نظر آتے ہیں۔ چین کا ایک حقیقی سپر پاور بن جانا اور دنیائے ہلال میں اِسلامیت کی جڑوں کا مضبوط تر ہو جانا۔
لہٰذا امریکہ ایک ایسے پاکستان کے قائم ہونے اور اسے قائم رکھنے کا خواہشمند ہے جو اِس خطے میں بھارت کی بالا دستی قبول کر لے۔
میرے خیال میں ”پاک بھارت دوستی “ کا اِس کے علاوہ اور کوئی مطلب نہیں۔اس موضوع پر تفصیلی اظہارِ خیال میں آئندہ کبھی کروں گا۔

Scroll To Top