اینٹی بایوٹکس سے مالا مال برازیلی مرچیں

سائنسدانوں نے ان مرچوں سے ایسا مادہ حاصل کیا ہے جو خطرناک ترین اور سخت جان جراثیم کو آسانی سے مار سکتا ہے

فلوریڈا: ایموری یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے برازیلی مرچ سے ایک ایسا مادہ حاصل کیا ہے جو دنیا کے خطرناک ترین اور سب سے سخت جان جرثوموں تک کو آسانی سے ہلاک کرسکتا ہے۔

برازیلی مرچ کا درخت جسے انگلش میں ’’برازیلین پیپرٹری‘‘ بھی کہتے ہیں، ایمیزون کے جنگلات میں پایا جاتا ہے اور کم اونچائی والا خودرو پودا ہے۔ اسے ’’حملہ آور نوع‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اگر یہ کسی علاقے میں ایک بار اُگ جائے تو اپنی تعداد اتنی تیزی سے بڑھاتا ہے کہ جلد ہی وہاں موجود دوسرے پودوں پر غالب آجاتا ہے۔ اپنی اسی خاصیت کی بناء پر آج یہ فلوریڈا کے شہری علاقوں تک میں بکثرت پھیل چکا ہے۔

اس پودے پر سرخ بیری جیسا پھل لگتا ہے جسے اس کے تلخ ذائقے کی وجہ سے ’’برازیلی مرچ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ایمیزون کے جنگلات میں رہنے والے قبائل صدیوں سے اس پھل کو مختلف امراض کے علاج میں استعمال کرتے آرہے ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں ایموری یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے برازیلی مرچ پر تحقیق کا فیصلہ کیا اور تفصیلی مطالعے کے بعد وہ اس میں سے ایک مادّہ الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

جب یہ مادّہ پیٹری ڈش میں رکھے گئے مختلف جرثوموں پر آزمایا گیا تو اُن کی افزائش رک گئی۔ کئی اقسام کے بیکٹیریا کے علاوہ یہ مادّہ ’’ایم آر ایس اے‘‘ کہلانے والے ان جرثوموں کے خلاف بھی مؤثر رہا جو اتنے سخت جان ہیں کہ خطرناک ترین اینٹی بایوٹکس سے بھی ختم نہیں ہوتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیلی مرچ سے حاصل ہونے والا یہ مادّہ جرثوموں کو ہلاک نہیں کرتا بلکہ اس جین کو ناکارہ بناتا ہے جو ایک جرثومے کو دوسرے جرثومے سے رابطہ کرنے میں مدد دیتے ہیں کیونکہ جراثیم اپنی تعداد بڑھانے اور حملہ کرنے کے لیے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اس لیے رابطہ کار جین ناکارہ ہوجانے کے بعد ان میں اپنی تعداد تیزی سے بڑھانے کی صلاحیت بھی ختم ہوجاتی ہے اور یوں وہ انسانی جسم پر حملہ کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔

اگر خاص طور پر صرف ایم آر ایس اے کی بات کریں تو اس کی وجہ سے زخم نہیں بھرتے کیونکہ یہ بیکٹیریا زخم کے اطراف میں جمع ہوکر بڑی تیزی سے اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں اور زخم مندمل کرنے کے قدرتی نظام کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ ایم آر ایس اے میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مسلسل بڑھتی ہوئی مزاحمت سے اس وقت یہ طبی شعبے کا ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔

برازیلی مرچ سے حاصل شدہ مادّے نے ایم آر ایس اے جرثوموں کو نہ صرف ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے باز رکھا بلکہ انہیں ایسے زہریلے مرکبات خارج کرنے سے بھی روک دیا جو انسانی جسم میں پٹھوں اور بافتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

تحقیق کا سلسلہ آگے بڑھانے اور اس مادّے پر مبنی دوا تیار کرنے کےلیے ایموری یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں اور انہیں امید ہے کہ انہیں جلد ہی اس حوالے سے تحقیقی گرانٹ بھی مل جائے گی۔

اس تحقیق کے نتائج ریسرچ جرنل ’’نیچر سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

Scroll To Top