جھوٹی خبروں کے خلاف ’’نفسیاتی ویکسین‘‘ تیار

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے تیز رفتار پھیلاؤ نے جھوٹی خبروں کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں اچھے خاصے سمجھدار اور سنجیدہ لوگ بھی جھوٹی خبروں کو سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

کیمبرج، برطانیہ: ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو جھوٹی خبروں سے بچانے کے لیے ’’نفسیاتی ویکسین‘‘ تیار کرلی ہے جس کے استعمال سے عام لوگوں کو بہت افاقہ ہوسکتا ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے نفسیات دانوں کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ اگر لوگوں کو وقفے وقفے سے ہلکی پھلکی قسم کی غلط خبریں اس انداز سے دی جاتی رہیں کہ انہیں خبروں میں بیان کیے گئے جھوٹ کا پتا بھی چلتا رہے تو یہ عمل کچھ عرصے تک دوہرا کر انسانی ذہن خود کو جھوٹی خبروں کے خلاف تیار کرلیتا ہے اور مستقبل میں وہ کسی بھی خبر کو صرف اس کی پرکشش سرخی یا متاثر کن عبارت دیکھ کر سچ تسلیم نہیں کرتا۔

ماہرین نے اس بات کا مطالعہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق کچھ سچی جھوٹی تجرباتی خبریں انٹرنیٹ پر پھیلا کر کیا۔ مطالعے کے اختتام پر انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ جنہیں غلط اور درست خبریں ایک ساتھ دی گئی تھیں وہ سچی اور جھوٹی خبر میں فرق کرنے کے لیے ذہنی طور پر بہتر تیار تھے جب کہ وہ لوگ جنہیں صرف غلط خبریں ہی دی گئی تھیں ان کی بھاری اکثریت جھوٹ کو سچ ہی سمجھتی رہی۔ مذکورہ مطالعے کے نتائج ’’گلوبل چیلنجز‘‘ نامی اوپن ایکسس ریسرچ جرنل کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

اس مطالعے کی روشنی میں انہوں نے انسانی ذہن کے لیے نفسیاتی حکمت عملی تجویز کی ہے جسے ’’جھوٹی خبروں کے خلاف نفسیاتی ویکسین‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دراصل ایک طرح سے انسانی ذہن کی تربیت (اکتساب) ہے جس کے دوران پہلے مرحلے میں غلط معلومات ایسے پیش کی جاتی ہیں جیسے کہ وہ بالکل سچ ہوں جب کہ اگلے مرحلے پر ان معلومات میں موجود غلط باتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن ثابت کیا جاتا ہے۔

پُرکشش لیکن جھوٹی خبروں سے بار بار اس انداز میں سامنا ہونے پر انسانی ذہن خود کو تیار کرلیتا ہے اور آئندہ جب بھی کوئی نئی خبر اس کے سامنے آتی ہے تو وہ اپنی یہی تربیت استعمال کرتے ہوئے اس خبر کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔

واضح رہے کہ جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کا قصہ بہت پرانا ہے جس میں کئی امریکی اور برطانوی اخبارات پیش پیش ہیں جب کہ ایسی خبریں تواتر سے پیش کرنے والے اخبارات ’’ٹیبلائیڈز‘‘ (tabloids) کے عمومی نام سے جانے جاتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے تیز رفتار پھیلاؤ نے جھوٹی خبروں کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں اچھے خاصے سمجھدار اور سنجیدہ لوگ بھی جھوٹی خبروں کو سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ البتہ حالیہ برسوں کے دوران ایسی ہی جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی وجہ سے انفرادی اور معاشرتی سطح پر کئی مسائل بھی مشاہدے میں آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلط باتوں پر یقین کا نتیجہ افراد میں خودکشی اور غلط پالیسیوں کے حق میں رائے سازی کی صورت میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔

اسی بناء پر ماہرین نے زور دے کر کہا ہے کہ جھوٹی خبروں سے نمٹنے اور ان کے تدارک کے لیے مناسب بندوبست ہونا بے حد ضروری ہے ورنہ یہ انسانیت کے حق میں بہت بری ثابت ہوسکتی ہیں۔

Scroll To Top