خلائی کچرا صاف کرنے والی مشین پہلے ٹیسٹ میں ناکام

زمینی مدار میں خلائی کوڑے کے 5 لاکھ سے زائد ٹکڑے موجود ہیں جو راکٹوں اور سیٹلائٹ کی تباہی سے بنے ہیں۔ 
فوٹو: بشکریہ جے اے ایکس اے

ٹوکیو: جاپان کی جانب سے زمین کے قریبی مدار میں کوڑا کرکٹ صاف کرنے والی ایک مشین پہلے ہی ٹیسٹ میں ناکام ہوگئی۔

گزشتہ 50 سال سے زمینی قریبی مدار میں راکٹوں، سیٹلائیٹ اور دیگر خلائی اشیا کے تباہ ہونے اور باہم تصادم ٹوٹنے سے لاکھوں کے قریب باریک ٹکڑے پیدا ہوگئے ہیں جو مدار میں گھوم کر دیگر سیٹلائٹس اور خود خلانوردوں کے لیے بھی خطرہ بن گئے ہیں اور اسے خلائی کچرا بھی کہا جاتا ہے۔

اندازہ ہے کہ خلائی کچرا مستقبل کی خلائی سواریوں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ تیزی سے بھاگتے ہوئے ٹکڑے ایک خلائی جہاز کو بھی چھید سکتے ہیں۔ سائنسدان اس کے حل پر مسلسل غور کرتے رہے ہیں جن میں بڑے جال، روبوٹ بازو اور لمبے تار شامل ہیں جن سے کچرے کو پکڑنے یا پھر انہیں زمین کی جانب دھکیل کر فضا میں جلانے کے طریقے شامل ہیں۔

جاپان کی ایئرواسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی ( جے اے ایکس اے) نے ایک روبوٹ سے 700 میٹر لمبا تار جوڑا جو ایک غیرانسانی خلائی جہاز کونوٹوری 6 سے منسلک تھا، منصوبے کے تحت اسے 20 ہزار فالتو ٹکڑے صاف کرنا تھے اور اس کے لیے ہلکا کرنٹ پورے تار میں دوڑایا گیا تاکہ وہ زمینی مقناطیسی میدان کی موجودگی میں دھکیلنے کی قوت پیدا کرے اور اس سے خلائی کچرے کو زمین میں دھکیل کر اسے فضا میں شامل کیا جاسکے۔ زمین کی جانب آنے کے بعد خلائی کچرا ہوا کی رگڑ سے جل کر بھڑک اٹھتا اور یوں کچرا صاف ہوجاتا۔

ابتدائی ٹیسٹ میں اس کا کیبل پوری طرح کھل نہیں سکا اور کونوٹری خلائی جہاز زمینی فضا میں داخل ہوگیا۔ ماہرین نے زمین سے لاکھ کوشش کی لیکن تار نہیں کھلا اور یہ تجربہ ناکام ہوگیا تاہم جاپانی ماہرین اس کی وجوہ پر غور کررہے ہیں۔

دوسری جانب برطانوی ماہرین اس سال بڑے جال اور بادبان نما شکنجے استعمال کرکے خلائی کوڑے کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

Scroll To Top