سورج پرتپش کے طوفان ’’وہیلوں‘‘ کی موت کی وجہ ہوسکتے ہیں، سائنسدان

سورج پر شمسی طوفان اٹھتے رہتے ہیں جن میں مضر کائناتی شعاعیں خارج ہوتی ہیں، سائنسدان، فوٹو؛ فائل

سورج پر شمسی طوفان اٹھتے رہتے ہیں جن میں مضر کائناتی شعاعیں خارج ہوتی ہیں، سائنسدان، فوٹو؛ فائل

میری لینڈ: دنیا بھر میں وہیل اور ڈولفن کے حواس کھوکر راستہ بھٹکنے اور ساحلوں پر پھنس کر ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن اب تک اس پراسرار واقعات میں سینکڑوں وہیل مرچکی ہیں اور شاید اس کی وجہ سورج پر آنے والے طوفان ہوسکتے ہیں۔

ناسا کے مطابق مکمل طور پر صحتمند وہیل اور ڈولفن اپنی سمت کھودیتی ہیں اور دھیرے دھیرے جزیروں اور ساحلوں پر آکر پھنس جاتی ہیں۔ یہ واقعات اکثر پیش آتے ہیں اور ایک واقعہ ہی سینکڑوں اموات کی وجہ بن رہا ہے۔ ناسا کے گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹرکے ماہرین نے سورج کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

فلکی طبیعیات (ایسٹرو فزکس) کے ماہر انٹی پُلکینن کا کہنا ہےکہ وہیل کے بھٹکنے کی کئی وجوہ بیان کی گئی ہیں جو بہت اچھی نہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہیل اور ڈولفن زمینی مقناطیسی میدان کے ذریعے اپنی منزل تک جاتی ہیں، سورج پر آنے والے برقناطیسی طوفان زمین تک آکر اس مقناطیسی میدان میں خلل ڈالتے ہیں اور یہ آبی مخلوق راستہ بھٹک جاتی ہیں، یہاں تک کہ ان سے سیلز اور والرس بھی متاثر ہوتے ہیں تاہم سمندری جہاز اور آبدوز بھی سونار لہریں خارج کرتے ہیں جن سے یہ معصوم مخلوق متاثر ہوسکتی ہے، اس لیے صرف سورج پر الزام دھرنا درست نہ ہوگا۔

2015 میں جنوبی چلی کے ساحلوں پر 337 وھیل دریافت ہوئیں جو اب تک تاریخی لحاظ سے سب سے بڑی تعداد ہے۔ 2009 میں 55 وہیل جنوبی افریقا میں سمندر کے کنارے پھنس گئیں اور 2016 میں بنگال پر 80 وہیل نوٹ کی گئیں، وھیلوں کو جب گہرے سمندر میں پہنچایا گیا تو ان میں سے کئی دوبارہ اسی ساحل پر آکر پھنس گئیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہےکہ سورج پر شمسی طوفان اٹھتے رہتے ہیں جن میں مضر کائناتی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جن میں چارج شدہ ذرات ہوتے ہیں، شعاعیں 9 کروڑ 30 لاکھ میل کا فاصلہ طے کرکے زمین تک آتی ہیں اور زمین کے قدرتی مقناطیسی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ اور جی پی ایس مشینوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔

2015 میں بھی ایسا ہی ایک شمسی طوفان آیا تھا جو زمین پر محسوس ہوا تھا اور عین اسی وقت وہیل بھٹکنے کے واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔ اب ماہرین شمسی طوفان اور وہیل مرنے کے واقعات پر اور باہمی تعلق پر مزید غور کررہے ہیں اور خیال ہے کہ شاید ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے۔

Scroll To Top