عمران خان کامیاب رہے !

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے رائے ونڈ میں بھرپور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ محرم الحرام کے بعد نوازشریف کو حکومت کرنے سے روکیں گے اور اسلام آباد کو بند کرکے دکھائیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف پانامہ لیکس میں رنگے ہاتھوں پکڑے گے ہیں۔ پانامہ لیکس الزام نہیں ثبوت ہے۔ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے افراد کے بیانات میں تضاد ہے ، کرپشن مذید برداشت نہیں کریں گے۔“‘
اس میں اب کوئی شک وشبہ نہیںرہا کہ پانامہ لیکس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عمران خان کے علاوہ کوئی بھی سیاسی و مذہبی رہنما میدان میں موجود نہیں ۔ اہل سیاست کی غالب اکثریت یا تو حکومت سے درپردہ رابطے میں ہے یا کرپشن اس کے لیے مسلہ ہی نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اہل سیاست بدعنوانی کے خاتمہ کو سیاسی ترجیحات میںنمایاں مقام نہیں دیں گے تو پھر اس عفریت کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے۔
سیاسی جماعتوں میں کرپشن سے نفرت نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہی نمایاں ہے کہ کوئی بھی یہاں گنگا نہا ہوا نہیں۔قومی منظر نامہ میں چھائے ہوئے بیشتر رہنماوں کے دامن کرپشن کے الزمات کے سبب داغ دار ہیں۔ درست کہ ملکی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں دی جاسکتی جب مبینہ طور پر خردبرد کے الزمات پانے والی کوئی بھی شخصیت عبرتناک سزا کی مسحق قرار پائی۔ دراصل رائج نظام عدل ایسی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا ہے جو اس کے فرائض منصبی کا بنیادی تقاضا ہے۔ باشعور پاکستانیوں میں اس پر بڑی حد تک اتفاق رائے ہے کہ ملکی قانون صرف کمزور کو سزا دینے کے لیے متحرک ہے۔ طاقتور کے سامنے موم کی ناک بن جانے والا جوڈشیل سسٹم اپنا بھرم کسی طور پر بھی قائم نہیں رکھ سکا۔
یقینا عمران خان نے مشکل محازکا انتخاب کیا ہے۔ آج پاکستان ہی نہیں تیسری دنیا کا ہر ملک بدعنوانی میں لت پت ہے۔ بھارت ،بنگہ دیش، سری لنکا اور افغانستان جنوبی ایشیاءکی ایسی تاریک مثالیں ہیں جہاں سیاسی اشرافیہ پر لوٹ کھوسٹ کے الزمات کسی طور پر حیران کن نہیں رہے ۔عملا ترقی پذیر ملکوں کی عوام میں بدعنوانی سے شدید نفرت کا رجحان بھی قابل رشک نہیں چنانچہ اہل اقتدار کی ماردھاڈ سے متاثر ہوکر تیسری دنیا کے بشیتر سرکاری وغیر سرکاری ادارے بدعنوانی میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔
جمہوریت بارے یہ دعوے سوفیصد درست ہے کہ یہ ترقی پذیر نہیں ترقی یافتہ ملکوں کا نظام ہے۔ مغربی ملکوں میں شرح خواندگی کا معیاربلند ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ عوام اپنے حقوق وفرائض سے بڑی حد تک آگاہ ہیں۔ ان معاشروں میں ایسے کرپٹ عناصر کی ہرگز کوئی جگہ نہیں جو سیاست کو ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل کے لیے سیڑھی بناتے ہیں۔ اہل اقتدار کے خاندانی کاروبار کی دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ حکومتی اختیارات کے حامل ہیں۔
رائے ونڈ کے جلسہ میں عمران خان نے نیب سمیت ان سرکاری اداروں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جن کے اولین فرائض میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قومی خزانے کو بالواسطہ اور بلاواسطہ لوٹنے والوں کا احتساب کیا جائے۔ پانامہ لیکس پر قومی احتساب بیورو، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور الیکشن کمیش کی خاموشی بذات خود ثبوت ہے کہ وہ اپنی آئینی ، قانونی اور اخلاقی زمہ دمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔سرکاری خزانے سے کروڈوں روپے تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں حاصل کرنے والے یہ ادارے پانامہ لیکس کے معاملے میں کیونکر غیر فعال ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے۔
دنیا کے ہر جمہوری نظام میں حزب اقتدار کی سمت کو درست رکھنے کے لیے حزب اختلاف کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں۔پاکستان پیلزپارٹی ، عوام نیشنل پارٹی ،ایم کیوایم اور مسلم لیگ ق بطور اپوزیشن اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کرسکیں۔مزکورہ جماعتوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے رائے ونڈ مارچ میں یہ کر شرکت کرنے سے معذوری کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب اجتجاج کرنے پر انھیں تحفظات ہیں ۔ چند ماہ قبل تک عمران خان کی جماعت ٹی او آرز کے معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت پر دباو بڑھانے کی کوشیش کرتی رہی مگر اسے قابل زکر کامیابی نہ مل سکی۔ پاکستان تحریک انصاف کو ایک طرف حزب اختلاف کی دیگر سیاسی قوتوں نے مایوس کیا تو دوسری جانب متعلقہ سرکاری اداروں کی پانامہ لیکس پر خاموشی بھی مشتعل کرگی۔
آج ملکی تاریخ کے نمایاں مالیاتی سیکنڈل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عمران خان اکیلے ہی میدان میں ہیںمگر رائے ونڈ کے اجتماع میں عوام کی قابل زکر تعداد میں شرکت انھیں یہ حوصلہ دے گی کہ ان کے نقطہ نظر کو عوامی سطح پر پوری پذائری بخشی جارہی ہے۔ محرم الحرام کے بعد اسلام آباد کو بند کرنے کا تحریک انصاف کا اعلان کہاں تک کامیابی سے ہمکنار ہوتاہے اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے مگر اس بارے شک نہیں رہا کہ اب پی ٹی آئی پچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں ۔
کہتے ہیں کہ یہ عوام نہیں لیڈر ہوتے ہیں جو ملکوں کا مسقبل روشن کرکے اخلاص اور بصیرت دونوں کا ثبوت دے ڈالتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بدعنوانی سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں ہیں چنانچہ یہ معجزہ ہوجانا یقینا ناممکن نہیں اگر خیبر تا کراچی پاکستانیوں کی اکثریت کرپشن کے ناسور کے بدترین اثرات سے پوری طرح آگاہ ہوجائے۔

Scroll To Top