اسلام آباد کے ایوان کچھ کہہ رہے ہیں اور پاکستان کے عوام کچھ اور۔۔۔! 21-10-2009

ہمارے روشن خیال سیکولر دانشور یہ بات ماننے کے لئے کیوں تیار نہیں کہ ہمارے کسی نادیدہ دشمن )یا دشمنوں(نے دہشت گردی کے ایک مربوط اور منظم منصوبے کے ذریعے پاکستان کے خلاف ایک ایسی جنگ شروع کررکھی ہے جس کا مقصد ایک طرف ریاستی ڈھانچے کو عدم استحکام کا شکار بنانا اور دوسری طرف ملک کی معیشت کو تباہی کے کنارے تک لے جانا ہے ؟
امریکہ کہتا ہے کہ یہ سارا کھیل ” القاعدہ“ کا ہے جس نے طالبان کی حمایت سے آگ اور خون کا یہ طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ کاش کہ امریکہ خود ہی اپنے آپ سے پوچھے کہ اتنی منظم جنگ لڑنے کے لئے القاعدہ اور طالبان کو ضروری سرمایہ اور اسلحہ کہاں سے مل رہا ہے ؟ اب تک ہمارا خیال یہ تھا کہ افغانستان میں صرف پوست اور افیم کی کاشت ہوتی ہے۔ کیا وہاں دنیا کا جدید ترین اسلحہ بھی اگتا ہے جو خودبخود القاعدہ اور طالبان کے خفیہ اسلحہ خانوں میں پہنچ جاتا ہے۔؟
اور ہمارے روشن خیال دانشور کہتے ہیں کہ یہ ساری درندگی اسلام کی سربلندی کو مقصد حیات بنانے والے ان جنونیوں کی ہے جو اس علاقے میں چودہ سو برس پرانی قسم کی ” خلافت“ قائم کرناچاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے سیکولرزم کے ان پرستاروں نے بھی اپنے آپ سے یہ پوچھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ ” متذکرہ جنونیوں کو تربیت کون دے رہا ہے ’ سرمایہ کون فراہم کررہا ہے اور اسلحے سے لیس کون کررہا ہے ۔؟ “
مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ اسلام آباد کے ایوان تیرہویں صدی کے بغداد کے ایوانوں کی طرح گونگے بہرے اور اندھے بنے ہوئے ہیں ۔ 1258ءکے بغداد کو دور دور تک کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا تھا۔ بغداد کے ایوان یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے کہ تاتاری آندھی وسطی ایشیاءکی مسلمان سلطنتوں کو روندتی ہوئی دریائے دجلہ کی طرف بڑھتی چلی آرہی ہے۔
آج کے اسلام آباد کے ایوان بھی اسی خوش فہمی میں مبتلا رہنا چاہتے ہیں کہ بھارت سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں’ اور امریکہ ہر مشکل میں ہماری مدد کرنے والا دوست ہے۔
خوش قسمتی کی بات ہمارے لئے یہ ہے کہ ہماری فوج کو حقیقی خطرے کا پورا ادراک ہے اور عوام ہر خطرے کے خلاف سینہ سپر ہو جانے کا عزم رکھتے ہیں۔۔۔

Scroll To Top