عوام کا فیصلہ پانامہ اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے

جب رانا ثنا ءاللہ نے مان لیا کہ رائے ونڈ کے جلسہ عام میں 30ہزار لوگ موجود تھے تو غیر جانبدار مبصرین کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ رہا کہ حاضرین کی تعداددو سے تین لاکھ تک ہوگی۔جلسوں میں حاضرین کی شرکت اتنے بڑے پیمانے پر نظر آئے تو تعداد کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ۔ اور تعداد کو جانچنے اور پرکھنے کا کوئی پیمانہ بھی نہیں۔
30ستمبر 2016ءکا جلسہ لاہور کی تاریخ کے دو یا تین بڑے جلسوں میں سے تھا۔
اور اس جلسے کی اہمیت اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ سمجھی جانی چاہیے کہ لوگوں نے حکومت کی طرف سے جاری کئے جانے والے اس انتباہ کی بھی پرواہ نہ کی کہ بھارت کی ”رائ“ اس موقع پر کوئی بڑی دہشت گردی کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔
یہ کہنا غلط ہو گا کہ لوگ عمران خان کو دیکھنے کے لیے آئے۔ وہ عمران خان کو بارہا دیکھ اور سن چکے ہیں۔ اس جلسے میں لوگوں کی شرکت کی ایک ہی وجہ تھی۔ لوگ عمران خان کی آواز میں آواز ملا کر میاں نواز شریف کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ پاکستان ایک ایسے وزیراعظم کا متحمل نہیں ہو سکتا جو اپنی ذات پر عائد کئے جانے والے نہایت سنگین الزامات کو غلط ثابت کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
لوگ تاریخ کے صفحات پر یہ بات ریکارڈ کرانے کے لیے جوق در جوق آئے کہ پانامہ اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر میاں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ اپنے پاس رکھنی ہے تو انہیں ”پاناما“ سے جان چھڑانی ہوگی۔ ”پاناما“ اب ایک ملک کا نام نہیں رہا۔ ایک علامت بن گیا ہے۔ بدمعاملگی کی، بددیانتی کی، لوٹ مار کی اور بے حساب کرپشن کی۔
اگر میاں نوازشریف کو ”پاناما“ نہیں ہوا تو وہ کسی بھی معتبر میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اس کی تصدیق کرا دیں۔
اس ضمن میں بلاول بھٹو کاجو ”ٹویٹ“ آیا ہے وہ اس لحاظ سے تو مناسب ہے کہ موصوف نے رائے ونڈ کے جلسہ عام کو ”اچھا شو“ قرار دیا ہے۔ لیکن اس لحاظ سے افسوناک ہے کہ موصوف نے احتجاج کے مقام اور وقت کو غلط قرار دے دیا ہے۔
”اس وقت پاکستا ن کو پہلے اور سیاست کو بعد میں رکھنا چاہیے تھا۔“ یہ بلاول بھٹو کی دلیل ہے۔
کیا بلاول بھٹو یہ بتانا گوارہ کریں گے کہ جو حملہ مودی نے پاکستان پر کیا ہے وہ زیادہ سنگین ہے یا جو حملے ہمارے حکمرانوں نے قومی معیشت پر کئے ہیں وہ زیادہ سنگین ہیں۔
اگر پاکستان کو مقدم سمجھنا حب الوطنی کی پہچان ہے تو پھر سب سے پہلے میاں نوازشریف کو سامنے آنا چاہئے اور اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرکے احتجاج کے دروازے بند کردینے چاہئےں۔
بلاول بھٹو کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسی پی پی پی کو پاﺅں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں جس کے پاﺅں ہے ہی نہیں۔

Scroll To Top