چیف جسٹس کی قابل تحسین کوشش

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدالت کی تسلی ہوجانے تک یوٹیلٹی اسٹورز میں گھی اور تیل کی فروخت روکنے کا حکم جاری کردیا۔ فاضل عدالت کا کہنا تھا کہ کوالٹی کنٹرول کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یوٹیلٹی اسٹورز کے گھی اور تیل کو تلف کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
وطن عزیز میں اب یہ حیران کن نہیں رہا کہ اشیاءخردونوش میںملاوٹ کرکے شہریوں کی زندگیوں سے کھیلا جائے۔ سماجی طور پر انحاط پذیر ہونے کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ روپے پیسے کی خاطر اپنے وطنوں کو موزی بیماریوں میں مبتلا کیے جانے سے ہرگز ہچکچاہٹ نہ رہی۔ باعث اطمنیان ہے کہ حالیہ چند مہینوں سے میڈیا میں ایسی خبریں تواتر سے سامنے آرہیں جس میں گھی اور تیل میں ملاوٹ تو ایک طرف جعلی ادویات بنا کر شہریوں کی زندگی سے کھیلواڈ کیا جارہا ۔ مقام شکر ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بازاروں میں نہیںبلکہ یوٹیلی اسٹورز میں غیر معیاری گھی اور تیل کے فروخت کیے جانے کا ازخود نوٹس لیا ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے غیر معیاری گھی اور تیل کی فروخت کے خلاف لیے گئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سماعت یوٹیلٹی اسٹورز کے وکیل مصطفی رمدے نے یوٹیلٹی اسٹورز پر موجود گھی اور تیل کی رپورٹ جمع کرائی۔ اس موقعہ پر جسٹس ثاقب نثار نے مصطفی رمدے کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو زمینی حقائق سے آگاہ کریں اور رپورٹ میں شامل تھیوری کو نہ دہرایا جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں اپنے اداروں پر بھروسہ ہے مگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کسی صورت برادشت نہیں کی جائے گی۔اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے یوٹیلٹی اسٹورز کے وکیل سے استفسار کیا کہ اسٹورز پر غیرمعیاری مصنوعات کیوں فروخت کی جارہیں اور سنی بناسپتی، انمول گھی، شمع تیل اور راج بناسپتی نامی برانڈز کہاں فروخت ہوتے ہیں؟جس پر یوٹیلی اسٹورز کے وکیل مصطفی رمدے نے جواب دیا کہ چھوٹے شہروں کے مقامی افراد ان برانڈز کے گھی اور تیل خریدنا پسند کرتے ہیں۔عدالت نے حکم جاری کیا کہ ملک بھر میں فروخت ہونے والے تمام برانڈز کے گھی اور تیل کی کوالٹی رپورٹ 10 دن میں جمع کرائی جائے اور ساتھ ہی پاکستان میں ٹیسٹنگ لیبارٹریز کی موجودگی اور ان کی استطاعت کے بارے میں بھی رپورٹ پیش کی جائے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ ڈاکٹرز کے وفد نے انہیں بتایا ہے کہ غیر معیاری گھی کا استعمال بچوں میں دل کے امراض میں اضافے کی وجہ ہے۔اس موقعہ پر چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے وکیل سے مزید استفسار کیا کہ کیا نمک کی قسم اجینوموتو انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے؟ اور کیا اس کے استعمال سے دل کے امراض اور بلڈ پریشر سمیت الرجی میں اضافہ ہوتا ہے؟چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ٹیٹراپیک، پلاسٹک پاچ اور پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں پر بھی نوٹس لیں گے کیونکہ یہ پلاسٹک کی بوتلیں دھوپ میں پڑے رہنے پر مضرِصحت ہو جاتی ہیں۔
(ڈیک)۔۔وفاقی و صوبائی حکومتوں کا المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں اپنی آئینی ، قانونی اور اخلاقی زمہ داریاں ادا نہیں کرسکا۔ ہر حکومتی زمہ دار زبانی جمع خرچ کرنے میں تو تاک نظر آتا ہے مگر عملی طور پر مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں یکسر ناکام ،یہی سبب ہے کہ کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ کو خود میدان میں آنا پڑا۔۔۔۔ (ڈیک)
کسی بھی جمہوری ملک بارے عام خیال یہی ہے کہ وہاں کے سیاسی اکابرین اپنی بنیادی زمہ داریاں سمجھتے ہوئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں کہ وہ عوام کی خدمت کرکے ان کے دلوں میں گھرکر جائیں مگر بدقسمتی کے ساتھ بشیتر ترقی پذیر ملکوں میں ایسا نہیں۔ کم ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی اشرافیہ ایسے طاقتور بااثر افراد کے ٹولہ کی شکل اختیار کرچکی جو اپنے ذاتی ، خاندانی اور گروہی مفادات کی اس انداز میں اسیر ہے کہ اس کے علاوہ اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ترقی پذیر ملکوں میں عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کردہ رقم میں خردبرد کرنے کا رواج عام ہے۔ ان ریاستوں میں کرپشن اور بدعنوانی کے میگا سیکنڈل کا حکمران اور ان کے خاندان کے دیگر افراد سے منسوب ہونا عام خیال کیا جاتا ہے اس کے برعکس بیشتر مغربی ممالک میں ایسی طرز حکمرانی کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ مثلا حال میں امریکی صدر براک واباما اپنی صدارت کے آٹھ سال مکمل کرکے رخصت ہوئے مگر ان کے دامن ہر بدعنوانی کا کوئی داغ موجود نہیں۔
بلاشبہ جب اہل اقتدار کی توجہ اپنے ذاتی کاروبار اور مفادات پر مرکوز رہی گی تو ان سے بہتری کی توقع رکھنا کسی طور پر درست نہیں۔ وطن عزیز کا باشعور شہری یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ انتظامیہ کو اس کی زمہ داریوں کی یاد دہانی کروانے کے لیے عدلیہ کا متحرک ہونا ضروری ہے۔حالیہ بڑی مثال سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ہے ۔ بطور چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر عام لوگوں کی مشکلات دورکرنے کے لیے افتخار چوہددی نے جو کردار ادا کیا بلاشبہ وہ قابل رشک رہا۔ اب موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے جس طرح ذاتی دلچیسپی لے رہے ہیں آنے والے دنوں میں عوامی خدمت پر مرکوز اداروں پر اس کے مثب اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

Scroll To Top