انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن ہے مگر۔۔۔۔

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں ایف سی کے قافلے کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 6 ایف سی اہلکار زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایف سی اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ ٹانک کے علاقے مولا زئی موڑ میں ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔ بتایا گیا کہ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ٹانک منتقل کردیا گیا۔
حالیہ دنوں میں ایک بھر دہشت گرد کاروائیاں زور پکڑتی نظر آتی ہیں۔ وہ ملک دشمن قوتیں جو بظاہر غیر فعال یا کمزور پڑ گئی تھیں اپنی موجودگی کا احساس پھر دلا رہیں۔ ملک کو جس نوعیت کی بدامنی کا سامنا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ حیران کن نہیں کہ شرپسندعناصر وقفہ وقفہ سے اپنی کشت وخون کا بازار گرم کرکے اپنے ہونے کا احساس دلائیں۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ گوریلا جنگ میں وقت کی قید سے آزاد ہوا کرتی ہے۔ ریاست سے نبرد آزما عناصر کے لیے بینادی اہمیت فتح نہیں بلکہ لڑائی کو طویل عرصے تک جاری وساری رکھنا ہوا کرتا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان اور اس کے ہم خیال گروہوں کی حکمت عملی بھی یہی ہے، اگرچہ ضرب عضب کی کامیابی کے بعد گزرے ماہ وسال کی طرح آئے روز خودکش حملے نہیں ہورہے مگر قتل وغارت گری کی کاروائیاں وقفہ وقفہ سے جاری ہیں۔ ملکی سیکورٹی فورسز اور انتہاپسند گروہوں کا تقابل کیا جائے تو ملکی محافظوں کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے جنھوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے نمایاں کامیابی حاصل کی۔
ایک خیال یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی حملے کے بعد جس طرح ملک میں درجنوں دہشت گرد گروہ وجود میں آئے ان کو ختم کرنا کسی طور پر آسان نہ تھا۔ اب ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ماضی میں انفرادی طور پر کاروائیاں کرنے والی کالعدم تنظیموں میں باہم روابط کو فروغ ملا ۔ یعنی پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ دشمنی نبھاتے ہوئے مسلح جھتے مل جل کر اہداف کو نشانہ بنا رہے ۔
آج چیز کی اشد ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اہل سیاست اور مذہب قوم میں اتفاق ویکجتی کو فروٖغ دیں ۔ یہ حقیقت کسی رہنما کہلانے والی شخصیت کی نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہے کہ اپنی صفوں میں انتشار سے مکمل طور پر اجتناب کرنے میں ہی عافیت ہے۔ان عناصر پر کڑی نگاہ رکھنی ہوگی جو سیاست ، مذہب یا لسان کے نام پر باہم لڑانے کے درپے ہیں۔ معاشرے میں اصلاح احوال کی زمہ داری کسی ایک طبقہ تک محدود نہیں ہر وہ شخص بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتا ہے جو کسی نہ کسی سطح پر اثر رکھتا ہے۔ امن وامان بحال کرنے کی بنیادی زمہ داری حکومت کی ہے چاہے وہ وفاقی ہو یا صوبائی۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا پولیس کا کام ہے جو حکومت کے ماتحت اداروں میں سے ایک ہے۔ افسوس بشیتر ترقی پذیر ملکوں کی طرح ہمارے ہاں محکمہ پولیس اب بھی اہل اقتدار کے ہاتھوں میں آلہ کار کا کردار نبھا رہا۔ خوش آئند ہے کہ آج سیاسی حکومتیں مختلف حلقوں کی جانب شدید دباو کا شکار ہیں کہ وہ پولیس کو سیاسی اثررسوخ سے آزاد کریں۔ الیکڑانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ خود پولیس کا عام آدمی کے ساتھ سلوک بھی اس کے منفی تشخص کو اجاگر کررہا۔ ملک کے سنجیدہ حلقوں میں یہ سوال بھی طویل عرصے سے زیربحث ہے کہ جو محکمہ روزمر ہ مسائل پر قابو پانے میں اپنی اہلیت ثابت نہیں کرسکا وہ دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے میں کیونکر معاون ہوگا۔
(ڈیک)۔۔۔ملک میں دہشت گردی کی صورت میں زمہ دار حلقوں کو یہ موقعہ میسر ہے کہ وہ غیر فعال سمجھے جانے والے درجنوں سرکاری محکموں میں اصلاحات لاکر ان کی کارکردگی کئی گنا بڑھا ڈالیں مگر باجوہ ایسا نہ ہوا۔ شر میں سے خیر تلاش کرنے کا کام اہل سیاست اور اہل مذہب اس خوبی سے سرانجام نہ دیا جس کی شدید طور پر ضرورت تھی۔۔۔(ڈیک)
ناقدین تو یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ سیاسی حکومتوں کی ترجٰیحات میں انتہاپسندی کا خاتمہ نمایاں نہیں لہذا وہ کسی صورت ایسا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں جو اس مسلہ کو مسقل بنیادوں پر حل کرڈالے۔
یہ نقطہ اہم ہے کہ بااثر ممالک کے اکثریت انتہاپسندی کے خلاف ہماری کامیابیوں سے کہیں بڑھ کر ہماری ناکامیوں سے واقف ہے۔ روایتی حریف بھارت پاکستان کے خلاف کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا ۔ مقبوضہ وادی میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں کا جو ماحول پیدا ہوچکا اس میں ہمارے موقف کو باآسانی قبول نہیں کیا جارہا۔ ہماری خارجہ پالیسی نقائص سے پر ہے۔ اقوام عالم ہمیں ایسے ملک کے طور پر دیکھ رہی جہاں کی حکومت مکمل وزیر خارجہ کا تقرر نہیں کرسکی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ داخلہ اور خارجہ مسائل آپس میں اس انداز میں مربوط ہوا کرتے ہیں کہ دونوں کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔لہذا خارجہ محاز پر اسی صورت کامیابیاں مل سکتی ہیں جب ہم اندرون خانہ ان تمام مشکلات پر قابو پالیں جو ہماری اہلیت اور نیت دونوں پر سوال اٹھا رہیں۔
دہشت گردی کی تازہ کاروائی میں اگرچہ سیکورٹی فورسز کا بڑا جانی نقصان نہیں ہوا البتہ اس نے ایک بار پھر ان مشکلات کو اجاگر کیا جو اب بھی قیام امن کوبحال کرنے کے لیے بطور قوم درپیش ہیں۔ پاک افغان سرحد کے قریب فاٹا کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کی حملے کرنے کی صلاحیت میں 70 فیصد تک کمی واقع ہوئی تاہم اکثر وبیشتر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پیش آتے ہیں جن کی وجوہات کا خاتمہ لازم ہے۔

Scroll To Top