قبائلی علاقے میں ایک اور دہشت گردی

فاٹا کی کرم ایجنسی کے علاقے پارا چنار میں ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں 25 افراد جان بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہونا ایک بار پھر یہ بتا گیا کہ مملکت خداداد پاکستان میں دہشت گردی کا عفریت تاحال مکمل طور پر قابو میں نہیںآسکا۔حکام کے مطابق پارا چنار کی عید گاہ مارکیٹ میں واقع سبزی منڈی میں دھماکا اس وقت ہوا، جب وہاں لوگ کافی تعداد میں خریداری میں مصروف تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں جان بحق ہونے والے افراد کی تعداد 25 بتائی گی مگراس میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد سبزی کے کریٹ میں رکھا گیا تھا، جسے ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔
ملک میں انواع واقسام کی دہشت گردی کی تاریخ ہونے کے باوجود کسی بھی واقعہ کے بعد اس بات کا تعین کرنا آسان نہیں رہا کہ مذکورہ افسوسناک سانحہ کے درپردہ کون سے گروہ ملوث ہے۔ اب تک یہ بھی واضح ہے کہ ملک دشمن قوتوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے لسانی ،سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر درجنوں گروہ تشکیل دے رکھے جن میں بظاہر اختلاف ہونے کے باوجود درپردہ ان کے روابط مضبوط ہیں۔ ضرب عضب کے نتیجے میں بیشتر گروہ ختم جبکہ کئی کمزور ہوئے مگر اب بھی ان کی جانب سے کہیں بھی کسی بھی وقت کوئی کاروائی ہرگز خارج ازمکان نہیں۔
دہشت گردی کی تازہ کاروائی کے بعد آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دھماکے کے بعد فوج اور ایف سی کی کوئیک ریسپانس فورس بھی جائے وقوع پر پہنچی۔ادھر میڈیا کو موصول ہونے والے پیغام میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے شہریار محسود گروپ کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کی گی۔تاہم تادم تحریر شہریار محسود گروپ کی جانب سے ایسا کوئی دعوی اب تک سامنے نہیں آسکا۔
زمہ داروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی طور پر دہشت گرد گروپوں میں کوئی امیتاز روا نہ رکھیں۔ اب تک حاص ہونے والی کامیابیوں کو اسی صورت مستحکم کیا جاسکتا ہے جب ریاست کی بالادستی چیلنج کرنے والے کسی بھی گروہ کے لیے کوئی بھی رعایت نہ کی جائے۔ کوئی اے بی سی ڈی تنظیم کو ریاست کی چیلنج کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہے۔ جان لینا ہوگا کہ جس طرح دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقعہ ہوئی وہ بدخواہوں کو کسی صورت ہضم نہیں ہوپارہی۔ ملک کے اندار اور باہر موجود دشمن کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح وہ دور ایک بار پھر واپس آجائے جب خیبر تا کراچی کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔ سانحہ پشاور کے بعد بطور قوم ہم نے جس عزم ویقین کے ساتھ اس عفریت پر قابو پانے کا تہیہ کیا ۔ کم وبیش ساٹھ ہزار سے زائد شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی قربانیاں اور اربوں روپے کی املاک تباہ وبرباد کرنے کے حاصل ہونی والی کامیابی کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دینا۔
دشمن ہمیں ہمیں تقسیم کرنے اور لڑانے کی چال کئی دہائیوں سے چل رہا۔ مذہب، سیاست اور لسان کے نام پر تشدد کرنے والوں کی سرپرستی کرکے ہمیں ناقابل بیان نقصان پہنچایا گیا۔ مقام شکر ہے کہ بطور قوم ہم کسی بھی چال میں نہ آئے۔(ڈیک)۔۔دہشت گردی کے خلاف بعض سیاسی ومذہبی قائدین کا کردار تو افسوسناک رہا مگر عام آدمی نے کسی صورت اپنی صفوں میں انتشار اور نااتفاقی کو جگہ نہ دی۔ بطور پاکستانی ہمیں اس پر فخر کرنا ہوگا کہ کراچی اور فاٹا سمیت ملک کے طول وعرض میں دشمن اس لحاظ سے ناکام رہا کہ وہ قوم کو آپس میں لڑانے میں کسی صورت کامیاب نہ ہو۔۔۔(ڈیک)
پارچنار میں ہونی والی دہشت گردی کی تازہ کاروائی کو پنجاب میں ایک فرقہ وارنہ تنظیم کے سربراہ کے خلاف مبینہ پولیس مقابلہ کے پس منظر میں بھی دیکھا جارہا۔ کالعدم تنظیم کی جانب سے اس کاروائی کا اعتراف بھی قابل غور ہے مگر اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ وردات کسی اور گروہ نے کی اور زمہ داری کوئی دوسرا قبول کررہا۔ یاد رہے کہ دسمبر 2015 میں بھی پارا چنار کے عید گاہ لنڈا بازار میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد جان بحق ہوئے ، جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کی تھی ۔پارا چنار کی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ علاقہ پاک افغان سرحد پر کرم ایجنسی کا انتظامی ہیڈ کوارٹر ہے، اس علاقے کی آبادی محض 40 ہزار کے قریب ہے جس میں مختلف قبائل، نسل اور عقائد کے لوگ شامل ہیں، اسے 1895 میں انگریزوں نے تعمیر کیا تھا۔پار چنار میں پاک فوج اور مقامی قبائلی رضا کاروں پر مشتمل چوکیاں قائم کررکھی ہیں مگر کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں دشوار گزار پہاڑی راستے ہیں جہاں سے کالعدم تنظیموں کے اراکین مختلف علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضرب عضب کے نتیجے میں ملک کی سیکورٹی فورسز نے کامیاب کاروائیاں کرکے یہاں بھی امن وامان بڑی حد تک بحال کردیا مگر تاحال سول انتظامیہ اس قدر موثر ثابت نہیں ہورہی کہ وہ امن وامان سمیت علاقے کے تمام مسائل حل کرکے اپنی افادیت ثابت کرڈالے۔ دہشت گردوں نے ایک بار پھر پارچنار کو نشانہ بنا کر بتا دیاکہ وہ اب بھی اس علاقے میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ بڑی حد تک متحرک ہیں۔ افسوس کہ ماضی کی طرح اس بار بھی قتل وغارت گری پر مامور گروہوں نے زیادہ سے زیادہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر جانی نقصان دانستہ بڑھانے کی کوشش کی۔

Scroll To Top