خبردار! آج سیاہ چاند کی رات ہے لیکن پاکستان محفوظ رہے گا

کراچی: آج رات سیاہ چاند ہوگا لیکن یہ صرف امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ براعظم شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ اور مغربی نصف کرے کے دیگر ممالک ہی میں دیکھا جاسکے گا۔ اس سے پہلے سیاہ چاند مارچ 2014 میں واقع ہوا تھا۔

گھبرائیے نہیں کیونکہ سیاہ چاند کا تعلق تِیرہ بختی اور بدقسمتی سے ہر گز نہیں اور نہ ہی یہ دنیا کے خاتمے کا اعلان ہے بلکہ یہ فلکیات کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد کسی ایک ہی شمسی مہینے (عیسوی مہینے یا کیلنڈر منتھ) کے دوران آنے والا دوسرا نیا چاند ہے۔ اس سال ستمبر کی بالکل ابتداء میں ایک نیا چاند واقع ہوا تھا جبکہ آج یعنی 30 ستمبر 2016 کے روز دوسرے نئے چاند کی پیدائش کا موقعہ یعنی ’’سیاہ چاند‘‘ آرہا ہے۔

البتہ جب سیاہ چاند یا ’’تاریک چاند‘‘ کا یہ واقعہ رونما ہوگا، اس وقت مغربی نصف کرے کے بیشتر ممالک میں سورج غروب ہوچکا ہوگا لیکن مشرقی نصف کرے میں یکم اکتوبر 2016 کا سورج طلوع ہوچکا ہوگا۔ واضح رہے کہ مشرقی نصف کرے میں پاکستان سمیت ایشیاء، یورپ، آسٹریلیا اور افریقہ کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔

’’ٹائم اینڈ ڈیٹ‘‘ نامی ویب سائٹ کے مطابق، مشرقی نصف کرے میں اس سال تاریک چاند 30 اکتوبر (2016) کو واقع ہوگا یعنی ایک نیا چاند اکتوبر کی پہلی تاریخ کو اور دوسرا 30 اکتوبر کے روز ہوگا؛ جسے تاریک چاند کہا جائے گا۔

یہ بھی بتاتے چلیں کہ تاریک چاند کی صرف یہی ایک تعریف نہیں بلکہ اس مہینے کو بھی تاریک چاند ہی کہا جاتا ہے جس میں کوئی نیا چاند واقع نہ ہو؛ اور ایسا صرف فروری کے مہینے ہی میں ممکن ہے کیونکہ اس کے 28 دن ہوتے ہیں۔ اس طرح کا تاریک چاند فروری 2018 میں ہوگا۔

تاریک چاند یا ’’سیاہ چاند‘‘ کی ایک اور قسم بھی ہے جو تھوڑی سی پیچیدہ ہے۔ فلکیاتی ماہرین نے پورے سال کو چار موسموں میں تقسیم کیا ہوا ہے: بہار، گرما، خزاں اور سرما؛ جبکہ ایسا ہر ’’موسم‘‘ تین مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ عام طور پر کسی ایک موسم کی سہ ماہی (کوارٹر) میں تین نئے چاند آتے ہیں لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسی ایک سہ ماہی میں تین کے بجائے چار نئے چاند وقوع پذیر ہوں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر چار میں سے تیسرا نیا چاند بھی ’’تاریک چاند‘‘ کہلاتا ہے۔ اس طرح کا تاریک چاند 21 اگست 2017 میں آئے گا۔

یہ تمام معلومات فراہم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والے لوگ ’’سیاہ چاند‘‘ کی حقیقت کو درست طور پر سمجھیں اور اِدھر اُدھر کی افواہوں پر ہر گز کان نہ دھریں۔

Scroll To Top