کراچی آپریشن جاری رہیگا

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن جاری رہے گا اور اس حوالے سے حکمت علمی یا پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی کے دورے کے دوران تاجر برادری اور صنعت کاروں سے ملاقات کی اور شہر قائد میں امن وامان کے لیے اٹھائے جانے والے اقدمات مذید موثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔سپہ سالار کا کہناتھا تاجر برادری یقین رکھے کہ شہر سے جرائم کے خاتمے تک کراچی آپریشن جاری رہیگا۔
(ڈیک)۔۔جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع ہونے والے کراچی آپریشن نے یقینا اپنی افادیت ثابت کردی ۔ متعلقہ اداروں نے شہر قائد میں امن وامان بحال کرکے بتا دیا کہ اگر ریاست معصم ارادہ کرلے تو پھر جرائم پیشہ افراد کو سر چھپانے کی کہیں جگہ نہیں ملتی۔۔۔(ڈیک)۔۔ یقینا شہر میں جرائم پیشہ افراد کے حقیقی خاتمہ کے لیے ابھی مذید اقدامات اٹھائے جانا باقی ہیں۔امید کی جانے چاہے کہ آنے والے دنوں میں ترقی اور استحکام کے لیے ضروری تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ بظاہر کہا جاسکتا کہ کراچی آپریشن کے حوالے سے جاری حکمت عملی نہ صرف برقرار رہیگی بلکہ مذید قوت سے اس پر عمل درآمد کیا جائیگا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کاروباری طبقہ کو کو اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ امن و امان کی بہتری سے ہی کراچی میں رونقیں بحال رہیگی اورکاروبار اور سرمایہ کو فائدہ پہنچے گا۔“
بلاشبہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کاروباری اسحتکام کے لیے امن وامان کا قیام بنیادی ضرورت ہے جس سے صرف نظر نہیں کیاجاسکتا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں دورے کے دوران فوجی جوانوں،رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور افسران سے جاری آپریشن کے حوالے سے خطاب کیا اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا۔
سیکورٹی فورسز نے کراچی میں جرائم پیشہ افراد کا نیٹ ورک جس کامیابی سے توڈا وہ یقینا بے مثال کارنامہ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ دشمن نے شہر قائد میں لسانی ،سیاسی اور مذہبی دہشت گردوں کو اس انداز میں منعظم کیا کہ اس کی بدولت ہزاروں معصوم شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہکار شہید ہوئے۔ملڑی اور سول اداروں کے درمیان باہم تعاون ہی کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی، ٹارگیٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی کاروائیاں آج بڑی حد تک کم ہوئیں۔
دراصل شہر قائد میں دیرپا امن کے لیے لازم ہے کہ صوبائی حکومت زیادہ فعال ہو۔ ایسے تمام جرائم پیشہ گروہوں کی مبینہ طور پر سرپرستی سے کنارہ کشی کی جائے جو طویل عرصے سے شہر میں گھناونے جرائم میں ملوث ہیں۔ اگر سیاسی قیادت بلا کسی تامل کے آگے بڑھ کر کردار ادا کرے تو یقینا مستحکم امن برقرار رکھنے کا عمل مذید تقویت پکڑے گا۔
یہ باعث اطمنیان ہے کہ عسکری ادارے تن تنہا کراچی آپریشن جاری نہیںرکھے ہوئے بلکہ تمام سول محکموں کو ساتھ لے کر چل رہیں۔ صوبے مین ملنے والی کامیابیوں کا گراف اسی لیے بڑھا کی سندھ پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن کی حمایت دفاعی اداروں کو بھرپور طور پر میسر ہے جو بڑی حد تک کراچی آپریشن میں حصہ دار ہیں۔
کراچی آپریشن 2013 سے شروع کیا گیا جو اب تک بلا تعطل جاری وساری ہے۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائر منٹ کے بعد دانستہ یا غیر دانستہ طور پر یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ شاید کراچی آپریشن اس رفتار سے جاری وساری نہ رہ سکے مگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے طرزعمل سے ثابت کردیا کہ کراچی آپریشن گزرے ماہ وسال کی طرح نہ صرف جاری وساری رہیگا بلکہ اس کو مذید موثر بنایا جائیگا۔
2016 کے ماہ جولائی میں رینجرز نے آپریشن کے 3 سال مکمل ہونے پر تفصیلات جاری کی جن کے مطابق کراچی کے علاوہ سندھ بھر سے 5 ستمبر 2013 سے لے کر جولائی 2016 تک جرائم پیشہ افراد کے خلاف کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 533 سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔اس سے پہلے ستمبر 2015 میں ریجنرز حکام نے بتایا کہ آپریشن کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں 60 سے 70 فیصد کمی آئی، یعنی دہشت گردی کے واقعات 60 فیصد اور ڈکیتی کی کاروائیاں 65 فیصد کم ہوئیں جبکہ بھتہ خوری میں بھی 70 فیصد کمی آئی۔ حکام کے مطابق آپریشن کے دوران 913 دہشت گرد اور 550 ٹارگٹ کلرز گرفتار کیے گئے جبکہ 15 ہزار 400 غیرقانونی ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ کراچی میں خطرناک دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد سے مقابلہ کرتے ہوئے 5 ستمبر 2013 سے اب تک 232 پولیس افسران واہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
کراچی کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی اس لیے کہا جاتا کہ ساحلی شہر ہونے کی حثیثت سے یہاں کا کاروباری طبقہ ہمیشہ فعال رہا۔ بدقسمتی سے کئی دہائیوں تک کراچی کی سیاست پر ایک لسانی جماعت اس انداز میں قابض رہی کہ تباہی وبربادی شہر کا مقدر بنی رہی۔ سات سمندر پار براجمان فرد جس انداز میں ملک کے سب سے بڑے شہر کو کنڑول کرتا رہا وہ بلاشبہ ملکی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ مقام شکر ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اگر مگر سے ہٹ کر پوری قوت سے شہر سے جرائم پیشہ افراد کے خاتمہ کا آغاز کیا جس کے بعد وفاقی حکومت بھی ان کی مدد کو سامنے آئی۔ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے مگر افسوس کہ اب تک اس سے اہل سندھ کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش نہیں کی۔ سندھ میں امن وامان بحال ہونے کے بعد جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ پی پی پی قیادت عوام کی مشکلات حل کرکے اپنی اہلیت اور اخلاص دونوں کا ثبوت دے۔

Scroll To Top