وزیراعظم نے پارلیمنٹ کا وقار مجروع کیا !

حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی کا وقار مجروح کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرادی۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی قیادت میں جمع کرائی گئی تحریک استحقاق میں موقف اختیار کیا گیا کہ پاناما پیپرز اسکینڈل پر وزیراعظم کی ایوان میں کی جانے والی تقریر کو عدالتی کارروائی کا حصہ نہ بنانے سے متعلق ان کے وکیل نے عدالت میں درخواست جمع کرائی جو ایوان کا وقار مجروح کرنے کے مترادف ہے۔تحریک استحقاق میں اپوزیشن جماعتوں نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم کے وکیل کی درخواست سے ظاہرہوتا ہے کہ انھوں نے قومی اسمبلی میں سچ نہیں بولا۔“
وطن عزیز میں اہل سیاست جن جملوں کا تواتر سے استمال کرتے ہیں ان میں سے ایک” پارلمینٹ کی بالادستی “کا بھی ہے۔ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف سب ہی زبانی طور پر ہی سہی بہرکیف دعوے کرتے ہیں کہ مملکت خداداد میں پارلمینٹ ہی سپریم ہے۔پانامہ لیکس بارے وزیراعظم کی جو تقاریر قومی اسمبلی میںکی گئیں ان میں میاں نوازشریف نے ایک سے زائد بار کہا کہ وہ خود کو پارلمینٹ میں جواب دہی کے لیے پیش کرتے ہیں، مگر عملا صورت حال یہ تھی کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اس عالمی سیکنڈل کے خلاف سڑکوں پر نہ آتے تو معاملہ کسی طور پر آج عدالتوں میںزیر سماعت نہ ہوتا۔اگر مگر کے باوصف اس کی بات کی اہمیت سے انکار نہیں کہ سپریم کورٹ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے اثاثہ جات کی بازپرس کررہی۔ آف شور کمپناں کب اور کیوں بنائی اس پر اعلی ترین ملکی شخصیت سے جواب طلبی کی جارہی۔ بلاشبہ جو کچھ ہورہا وہ جمہوریت ہی بدولت ممکن ہورہا۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے درمیاں یہی فرق ہے کہ مہذب معاشروں میں اخلاقی اصولوں کو بالادستی حاصل ہے۔آئس لینڈ کے وزیراعظم کا بھی پانامہ لیکس میں نام آیا جس پر انھیں عوامی غم وغصہ کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڈنا پڑا۔(ڈیک)۔۔۔ وزیراعظم نوازشریف تیسری مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہیں۔ کم وبیش 35 سال سے سیاست میں فعال شخصیت کے لیے کسی طور پر روا نہیں کہ وہ سپریم کورٹ میں اپنے اہل واعیال سمیت جواب دہ نظر آئے۔ بہتر یہی ہوتا کہ وزیراعظم پاکستان باوقار انداز میں استعفی دے کر کاروائی کا سامنا کرتے ہوئی تاریخ میں سرخرو ہوتے ۔۔(ڈیک)۔ادھر اپوزیشن جماعتیں پانامہ لیکس کے معاملے سے دستبرار ہونے کو تیار نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف سڑکوں پر ہے تو اب بلاول بھٹو زردای پنجاب میں احتجاجی مہم کی قیادت کررہے۔ حزب اختلاف کی سب ہی سیاسی جماعتوں کا مطالبہ کم وبیش ایک ہی ہے کہ وزیراعظم کے بچوں کے اربوں کھربوں کے اثاثہ دراصل وزیراعظم کی ہی ملکیت ہیں۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کی سماعت میں بھی جو نقطہ سب سے زیادہ زیر بحث ہے وہ بھی یہی کہ کب اور کیسے حسن اور حسین نواز اربوں کھربوں کے مالک بن گے۔
حال میں بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا کہ حسین نواز کے نام مذید جائیدایں بھی ہیں جنھیں دانستہ طور پر چھیاپا گیا۔ معروف اور معتبر عالمی ادارے نے اپنی سٹوری میں پوری تفصیلات شائع کیں۔توقعات کے عین مطابق حکمران جماعت نے بی بی سی کی سٹوری کو مسترد کیا مگر اس کے خلاف ہر جانہ کا دعوی دائر کرنے سے احتزاز برتا۔ قانونی حلقوںکے مطابق اگر شریف خاندان بی بی سی کی اس سٹوری کو حقائق کے برعکس ثابت کرڈالے تو برطانوی نشریاتی ادارے اربوں روپے بطور ہر جانہ ادا کرسکتا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے آئین کے آرٹیکل 91 (6) کا حوالہ دیتے ہوئے تحریک استحقاق میں موقف اخیتار کیا کہ وزیراعظم اور کابینہ آئین کے تحت سچ بولنے کے پابند ہیں۔حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ تحریک استحقاق پر اسمبلی کا اجلاس بلا کر معاملے پر بحث کی جائے، جس کے بعد اخذ ہونے والے نتائج پر کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک استحقاق میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیر پاو، پاکستان پیپلز پارٹی کے نوید قمر، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور کے دستخط موجود ہیں۔ سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز اسکینڈلز کا کیس زیر سماعت ہے۔ 4جنوری سے معاملے کی سماعت کرنے والے 5 رکنی لارجر بینچ کی سربراہی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف کھوسہ کررہے ہیں جبکہ نئے چیف جسٹس ثاقب نثار اس لارجر بینچ کا حصہ نہیں ۔
پانامہ لیکس کا معاملہ ایک طرف عدالتوں میں زیرسماعت ہے تو دوسری جانب اب اسے پارلمینٹ میں اٹھانے کی حکمت عملی بھی ترتیب دی جارہی۔ سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سماعت دراصل اس بات کی نشاندہی کررہی کہ فاضل عدالت نہ صرف اس اہم مقدمہ کی اہمیت سے پوری طور پر آگاہ ہے بلکہ وہ جلد فیصلہ کرنے کے موڈ میں بھی نظر آتی ہے۔ گذشتہ برس اپریل میں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے ہونے والے انکشاف سامنے آنے کے بعد پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف ،جماعت اسلامی پاکستان ، عوامی مسلم لیگ ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئیں۔ پانامہ لیکس کا نتیجہ کچھ بھی برآمد ہو ایک بات طے ہے کہ مذکورہ مقدمہ کا فیصلہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف جاری جدوجہد کی سمت کا تعین کریگا۔ بظاہر عالمی مالیاتی سیکنڈل کے شر میں سے خیر کا پہلو یہی برآمد ہورہا کہ عام آدمی پہلے سے کہیں بڑھ کر اہل اختیار کی جواب دہی کا تقاضا کررہا۔

Scroll To Top