جنرل راحیل شریف کی عالمی سطح پر پذیرائی

سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرراحیل شریف نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا ہوگی۔سابق سپہ سالار کا کا موقف تھا کہ دہشت گرد غاروں میں بیٹھ کر حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کررہے اب وہ ڈیجیٹل ذرائع سے فائدہ اٹھا رہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کو دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگنے دیا جائے۔“
نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اب تک القائدہ سربراہ اسامہ بن لادن سمیت درجنوں مطلوب افراد مارے گے۔ یہ کہنا آسان نہیں کہ اقوام عالم انتہاپسندی کے خلاف لڑائی جیت رہی ہے یا پھر طاقت کے اسمتال سے مذید جنگجو گروہ پیدا کررہی۔ یہ واضح ہوچکا کہ دراصل انتہاپسندی مخصوص نظریات کی بنا پر پھل پھول رہی چنانچہ جب تک متبادل بیانیہ سامنے نہیں آئیگا اس عفریت کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔مشرق اور مغرب کے اہل دانش یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ امریکہ اور اس کے حواری حقیقی معنوںمیں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں بھی کہ نہیں۔ شام اور عراق میں قتل وغارت گری کی المناک داستانیں رقم کرنے والی داعش کو مبینہ طور پر امریکی کی سرپرستی ہرگز راز نہیں رہی۔ بظاہر مسلم ممالک کو سیاسی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے بعض مغربی قوتیں دانستہ طور پر دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرنے میں مصروف ہیں۔
راحیل شریف کا کہنا درست ہے کہ دہشت گردی بھی ڈیجیٹل دور میں داخل ہوچکی ہے مگر اس کیا کریں کہ طاقت ور ممالک کے ہاتھ میں دہشت گردی ہتھیار کی شکل اختیار کرچکی۔ انتہاپسندی کو عالمی مسئلہ کہا تو جاتا ہے مگر عملا ایسے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے جو اس برائی کا مکمل طور پر تدراک کرسکیں۔اس سوال کا جواب تاحال دستیاب نہیں کہ بعض بااثر ممالک دہشت گردوں کو شکست دینا چاہتی ہیں بھی یا نہیں۔
اقوام عالم کی انتہاپسندی کے خلاف رجحان کا حقیقی اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مثالی اقدمات اٹھائیں مگر اس کی ایسی حوصلہ افزائی نہ ہوئی جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ اگر پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا جاتا تو عالمی سطح پر اس کا مذید فعال ہونا خارج ازمکان نہ تھا۔ سابق آرمی چیف نے اپنے خطاب میں دنیا کے سامنے حقائق رکھے جن کے مطابق پاک فوج نے دہشت گردوں کے قبضے سے 8 ہزار کلو میٹر کا علاقہ کلیئر کرایا اور ضرب عضب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں کو پھر بسایا۔
(ڈیک)۔۔۔بدقسمتی کے ساتھ دہشت گردی کے پھیلاو میں غربت اور جہالت کلیدی کردار ادا کررہے۔ عالمی تنازعات میں انصاف نہ ہونا بھی انتہاپسند گروہوں کا کام آسان کررہا۔ مہذب دنیا کو اگر انتہاپسندی کو شکست دینی ہے تو اسے انصاف اور مساوات کا بول بالا کرنا ہوگا۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان پایا جانے والا فرق بھی دہشت گرد گروہوں کو منظم کرنے کا باعث بن رہا۔۔(ڈیک)۔۔ سابق سپہ سالار کا کہنا اہم ہے کہ انتہاپسند عناصر میں اب ان پڑھ لوگ نہیں بلکہ جامعات کے پروفیسروں کا کردار بھی سامنے آرہا۔یہی سبب ہے کہ ماضی کے برعکس آج دہشت گرد منصوبہ بندی سے حملہ کرتے ہیں لہذا عالمی برداری کو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے خفیہ معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔
پاکستان پر یہ الزام افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ قابل مذمت بھی ہے کہ وہ انتہاپسند گروہوں کے خلاف ٹھوس کاروائی نہیں کررہا۔ دنیا کو نہیں بھولنا چاہے کہ پاکستان میں ہی سانحہ آرمی پبلک اسکول جیسے واقعات ہوئے جو جدید تاریخ کا بدترین واقعہ ہے۔جنرل راحیل شریف نے اپنے خطاب میں اس پر بھی ضرور دیا کہ معصوم شہریوں کا قتل عام کرنے والے ہی مجرم نہیں بلکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک میں ہر کوئی برابر کا مجرم ہے۔ “
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں جنرل راحیل شریف کے بیان کردہ اس نقطہ کو پوری طرح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش نہیںہورہی۔ سانحہ کوئٹہ کے بعد جسٹس فائز عیسی نے جو رپورٹ مرتب کی اس میں ان ہی خامیوں کو اجاگر کیا گیا جو سالوں سے موجود ہیں۔ حیرت ہے کہ زمہ دار ادارے اپنی کمزوریاں دور کرنے کی بجائے مثبت تنقید کو ناپسند کررہے۔اگرچہ ہم نے انتہاپسندی کے خلاف لڑائی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں مگر حقیقی منزل تاحال دورہے۔ لازم ہے کہ حکومت جنرل ریٹائر راحیل شریف کے خطاب میں اٹھائے جانے والے نکات کا باغور جائزہ لے تاکہ ان کی روشنی میں ملک کے اندار مذید اقدمات اٹھائے جاسکیں۔
سابق آرمی چیف راحیل شریف کو ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کی دعوت دینا ایک طرف ان کے لیے اور دوسری جانب پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ ہمیں اس پر فخر کرنا چاہے کہ ایک اہم فورم پر جنرل راحیل شریف کو خطاب کی دعوت دی گی۔، اس سے قبل جنرل پرویز مشرف بھی فورم سے خطاب کرچکے ہیں، مگر انہوں نے یہ خطاب سربراہ مملکت کی حیثیت سے کیا۔
حکومت جنرل راحیل شریف کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ ایسا شخص نے جس محض دو سال کے اندار اندار فاٹا اور کراچی میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا وہ وطن عزیز میں امن وامان کومستحکم کرنے میں بھی کردارادا کرسکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ملک کے اندار سابق آرمی چیف کی پذائری ہو یا نہ ہو مگر عالمی سطح پر ان کا کردار مذید ابھرنے کا امکان ہے۔

Scroll To Top