!نریندر مودی بھارت کا گورباچوف ثابت ہوگا

بھارتی کی پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک دراصل سرحد پار سے فائرنگ ثابت ہوئی ہے۔ اعلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی رات پڑوسی ملک کی بلااشعتال فائرنگ کے نتیجے میں دو پاکستانی فوجی شہید ہوگے ۔ اس کے برعکس بھارتی حلقے پوری قوت سے دعوی کررہے کہ ان کی فورسز نے نہ صرف پاکستان کے اندار کاروائی کی بلکہ کئی شدت پسند افراد کو کامیابی سے نشانہ بھی بنا ڈالا ۔ عالمی سطح پر بھارتی دعووں کی تصدیق تاحال نہیں ہوسکی جس کی بڑی وجہ ثبوت کا نہ ہونا ہے۔
مودی سرکار نے اڈی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف اپنے ہاں جس جنگی جنون کو بھڑکا رکھا ہے اس کے بعد یہ ناممکنات میں سے نہیں کہ انتہاپسند ہندووں کو مطعمن کرنے کے لیے ایسے بے بیناد دعوے کیے جائیں۔ جاننے والے باخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کشیدیگی کی پوری تاریخ رکھتے ہیں دونوں ملکوں میں سے کسی ایک کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہوکر باآسانی کاروائی کرکے لوٹ آئے۔ حالیہ کشیدیگی گھنٹوں کی بات نہیں بلکہ اڈی حملے کو کئی دن گزر چکے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں کورکمانڈر اجلاس سمیت ایسے کئی کام ہوچکے جنھیں پیشگی حفاظتی اقدمات کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔
گذشتہ روز ہونے والی جھڑپ میں چھ سے سات بھارتی فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیںمگر بھارت نے اس کی تردید کی ہے ۔ ادھر پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ایک بھارتی فوجی کو گرفتار کرنے اطلاع بھی دی تھی جس کی تصدیق بھارتی وزیر داخلہ کرچکے ہیں۔راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہندوستانی فوجی کی محفوظ رہائی کے لیے ہر ممکن کوشیش کی جائیگی۔ “
بھارت نے اپنے میڈیا کے زریعہ پاکستان سے لڑنے کا جو ماحول پیدا کردیا ہے وہ شائد اب اس کے قابو میں بھی نہیں آرہا۔ غیر یقینی صورت حال کے نتیجے میں پڑوس میں جہاں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں وہی روپہ کی قدر میں بھی کمی واقعہ ہوچکی۔ اقوام متحدہ ، چین اور امریکہ بھی بھارت سے زمہ درانہ طرزعمل کا تقاضا کررہے۔ عالمی برادری کو باخوبی احساس ہے کہ اڈی حملے کا الزام بھارت نے جس تیزی سے پاکستان پر لگایا وہ اس کی بدنیتی کا کھلا ثبوت ہے۔ خود ہی مقدمہ قائم کرکے خود ہی فیصلہ کرنے والا بھارت دراصل پاکستان کو دباو میں لاکر ایسے مطالبات منوانے کا متمنی ہے جن کا کھلا اظہار وہ طویل عرصے کررہا۔
مودی سرکار کے لیے اصل پریشانی مقبوضہ وادی کی مسلسل بگڑتی صورت حال ہے۔ 83 روز گزرنے کے باوجود کشمیریوں کے احتجاج میں کمی آنے کی بجائے اس میں شدت پیدا ہورہی۔ نوجوان کمانڈر برہان وانی کو شہید کرکے بھارت نے مقبوضہ وادی کے باسیوں کا غم وغصہ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ کشمیریوں کی تیسری نسل آزادی کے لیے سڑکوں پر بے دھڑک احتجاج کررہی ۔ ایک طرف بھارتی سیکورٹی فورسز مظاہرین بارے نرمی اختیار کرنے کو تیار نہیں تو دوسری طرف نہتے کشمیری بھی اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نعرے لگاتے گلی کوچوں میں موجود ہیں۔
بھارتیہ جتناپارٹی کو اس بات کا بھی پوری طرح احساس ہے کہ دوملکوں میں جنگ چھڑ جانے کی صورت میں مسلہ کشمیری عالمی برداری کی توجہ پوری طرح حاصل کرلے گا لہذا ایسا ہونا بیعد ازقیاس نہیں کہ اقوام عالم ستر سال سے چلے آنے والے اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے بھارت کو مجبور کرڈالیں۔ نئی دہلی کا یہ موقف یقینا مضحکہ خیز ہے کہ دراصل پاکستان کشمیریوں کو احتجاج کرنے پر مجبور کررہا۔ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشیش کرنے والے بھارت کو آگاہ رہنا چاہے کہ ایک طرف چین ہمارے موقف کی حمایت کررہا تو دوسری جانب ایران نے پاک چین اقتصادی راہدای منصوبہ میں شامل ہونے کی خواہش کا برملا اظہار کیا ہے۔
حیرت ہے کہ ستر سال سے ”جمہوریت “ کے ثمرات سے مستفیدہونے والے بھارت کو تاحال یہ احساس نہیں کہ آج کی دنیا لڑنے والوں کا ساتھ دینے کی بجائے جنگ روکنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا پسند کرتی ہے۔ یہ موٹی بات نریندر مودی کے دماغ میں نہیں آرہی دو ملکوں میں ہونے والا تصادم کسی کے لیے بھی سودمند نہیں ہوگا۔ ایٹمی قوت کے حامل پاکستان اور بھارت کے لیے عافیت اسی میں ہے کہ وہ اپنے مسائل بات چیت کے زریعہ حل کرکے سرخرو ہوجائیں۔ تیسری دنیا کی جمہوریت میں بظاہر یہی سب سے بڑی خرابی ہے کہ یہاں اکثر وبیشتر اقتدار پر ایسے لوگ فائزہوئے جو اوسط درجہ کی ذہانت کے حامل ٹھرے۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ پڑوسی ملک میں یہ کیسا نظام ہے جہاں گجرات کے سینکڑوں مسلمانوں کے قتل میں شریک شخص وزیراعظم کے منصب تک جا پہنچا۔
بھارت کا وزیراعظم بن جانے والے آر ایس ایس کا رکن انتہاپسندی کے ایسے بخار میں مبتلا ہے جو اسے یہ محسوس نہیں ہونے دے رہا کہ اب اس کے کندھوں پر اربوں انسانوں کی زمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ غربت ، جہالت اور پسماندگی کے خلاف مشترکہ کوشیش کرنے کی بجائے نریندرمودی اس خطے کو آگ اور خون میں نہلانے کے درپے ہے۔ کسی نہ درست کہا کہ نریندر مودی انڈیا کے گورباچوف ثابت ہونگے جس نے بالا آخر اپنی حماقتوں سے روس کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کروادیا۔ بھارت کے امن پسند حلقوں کو یقینا سامنے آنے کی ضرورت ہے اگر وہ اپنی ریاست کو واقعتا بچانے کے لیے مخلص ہیں تو مودی کو اس انداز میں لگام دینا ہوگی کہ نہ صرف بھارت کی تعمیر وترقی کا سفر جاری رہے بلکہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیاءکا ہر ملک حقیقی امن کے ثمرات سے پوری طرح مستفید ہو۔

Scroll To Top