سی پیک کو عوام دوست بنانا ہوگا

سرکاری حلقے ایک طرف سی پیک کو ملک وملت کی تقدیر بدلنے کا منصوبہ قرار دے رہے تو دوسری طرف اس پراجیکٹ بارے پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کی تاحال ٹھوس کوشش نہیں کی گی۔ارباب اختیار سی پیک میں شفافیت دعوے تو کررہے مگر اعتراضات ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ اس پس منظر میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا ایک بار پھر دعوی سامنے آیا ہے کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہدری کے معاملے پر وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔مشاہد حسین سید کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سی پیک جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے چھٹے اجلاس پر بریفنگ دی۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ وفاق، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور فاٹا کے درمیان 9 صنعتی زونز کے قیام پر اتفاق رائے ہوچکا۔
بلاشبہ یہ پہلی بار نہیں کہ سرکار نے قوم کو نوید سنائی کہ صوبوں کے مختلف منصوبے سی پیک میں شامل کرنے پر اتفاق ہوگیا مگر عملی طور پر تاحال یہ دعوے سچ ثابت نہیں ہوسکا۔یقینا حکومت کو پورے طور پر اپنی فرائض منصبی کا احساس کرنا ہوگا۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب خبیرپختوانخوہ کی سب ہی سیاسی ومذہبی قوتوں نے بیک وقت سی پیک پر اپنے تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اس قومی پراجیکٹ کی تفصیلات چھپا رہی ۔ پنجاب میںاس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت ہے جس کے بارے تاثر نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ اس کی جڑیں آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ہیں۔ اب اگر مسلم لیگ ن پر ہی مخصوص علاقوں کو نوازے جانے کا الزام لگادیا جائے تو پھر معاملے کے گھمبیر ہونے کا اندازہ باخوبی کیا جاسکتا ہے۔ ملک میں سی پیک کی مخالفت پر دوست ملک کے چین کا بے چین ہونا بھی سمجھ میں آنی والی بات ہے۔ درپردہ چین کی جانب سے حکومت یہ دوستانہ شکوہ کیا جاچکا کہ اس معاملہ پر تیزی سے اتفاق رائے پیدا نہیں ہورہا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ حالیہ ہفتوں میں چینی حکومت کے اعلی عہدیداروں نے خود ہی سیاسی جماعتوں کے اکابرین سے بات چیت کا آغاز کردیا ۔
حکومت کا سی پیک میں سندھ کیٹی بندر منصوبہ، کراچی سرکولر ریلوے،خیبر پختونخوا کا پشاور ویلی سرکولر ریلوے، گلگت سے چترال اور چکدرہ تک شاہراہ کا منصوبہ، بلوچستان میں نوکنڈی سے پنجگور تک شاہراہ اور پٹ فیڈر کینال سے کوئٹہ کو پانی کی فراہمی کے منصوبے شامل کرنے کا اعلان کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی ضروری ہے۔
اگر یہ بات سچ ہے کہ حکومت نے صوبوں کی سفارش پر ملک بھر میں 9 صنعتی زونز کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے تو بلاشبہ اس کامیابی کو عملی شکل میں سامنے لانا ضرور ی ہے۔۔(ڈیک)۔۔وطن عزیز میں یہ افسوس رجحان بھی جاری وساری ہے کہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر بالادستی دینے سے ہرگز ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ باشعور پاکستانیوں کیا اکثریت کو حکومتی زعماءکے وعدوں اور دعووں پر اعبتار ہی نہیں رہا۔۔۔(ڈیک)
سی پیک کے ثمرات سے اسی صورت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب اس منصوبہ پر مکمل طور پر اتفاق رائے ہوجائے۔ سیاست دان اور رہنما میں فرق یہی ہوتا ہے کہ سیاست دان آئندہ الیکش جیتنے کے جتن میں مصروف رہتا ہے جب رہنما کی نظریں قوم کے مسقبل پر مرکوز رہتی ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہدای منصوبہ بھی اسی صورت کارمد ہوگا جب اس کے حلقہ کی سیاست سے بالاتر ہوکر سوچاجائے۔ افسوسناک ہے کہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایسے اراکین ناپید ہیں جو ہمہ وقت ملک وملت کے لیے کچھ کر گزرنے کے لیے بے چین ہوتے ہوں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے سبب عام آدمی منتخب نمائندوں سے مایوس ہوتا جارہا۔ یہ کم اہم نہیںکہ جمہوریت کی صبح وشام دہائی دینے والے خبیر تا کراچی اپنا اعبتار قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ جس کے سبب گزرے ماہ وسال کی طرح رائج نظام کل بھی ناپیدار تھا اور آج بھی ہے۔
ادھر حزب اقتدار کی طرح حزب اختلاف کی کارکردگی بھی متاثر کن نہیں ۔معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم کے سامنے سب ہی بے بس ہیں۔عام انتخابات میں زیادہ دن نہیں رہ گے لازم ہے کہ سیاسی قوتیں عوامی فلاح وبہود کے منصوبوں کو تیزی سے بروئے کار لانے کی کوشش کریں تاکہ رائج نظام حقیقی معنوں میں ڈیلور کرسکے۔ عام تاثر یہی ہے کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی۔ سفارت امور ہوں یا داخلہ کہیں بھی قابل زکر کامیابیاں نہیںمل سکیں۔ سی پیک نے ضرب عضب کے نتیجے میں اپنی افادیت ثابت کرنی ہے مگر نشینل ایکشن پلان پر عمل درآمد بھرپور طور نہیں ہورہا۔ مسلم لیگ ن کے لیے کسی طور پر سب اچھا نہیں۔ ایک طرف سی پیک پر اعتراضات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تو دوسری جانب پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے جو خود وزیراعظم پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کررہا۔سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں مگر مختلف محاذوں پر الجھی حکومت کو آئندہ انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کرنے کے لیے مذید فعال ہونا ہوگا۔
دوسری جانبرواں سال میں اپوزیشن جماعتوں نے غیر اعلانیہ انتخابی مہم شروع کردی ، خود وزیراعظم بھی ملک بھر میں جلسوں سے خطاب کرکے تعمیر وترقی کے نئے دور کی نوید سنا رہے ۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے برعکس آج مسلم لیگ ن کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جس کے سیاسی تحربہ اور بصیرت دونوں کا امحتان بن سکتے ہیں۔

Scroll To Top