ہمارے دشمنوں کے دوست عوامی قہر سے نہیں بچ سکیں گے 20-10-2009

دودھ کی رکھوالی پر بلی کو ` گھاس کی رکھوالی پر بکری کو ` بھیڑوں کی رکھوالی پر بھیڑیئے کو ` اور خزانے کی رکھوالی پر ڈاکوﺅں کو بٹھا دیا جائے تو جو صورتحال پیدا ہوگی اس کا نقشہ کھینچنا میرے لئے ضروری نہیں ` آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
برادرم زاہد ملک نے اپنے اخبار پاکستان آبزرور میں صفحہ اول پر ایک اداریہ تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے ” مصدقہ اطلاعات“ کی بنیاد پر اس یقینی خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کے خلاف کوئی نہ کوئی ” سنگین “ کارروائی ہونے والی ہے۔
پاکستان اس وقت عملی طور پر حالت جنگ میں ہے۔ سکول ہنگامی طور پر بند کردیئے گئے ہیں ۔ ہر جگہ ریڈالرٹ کی سی کیفیت ہے۔ جنوبی وزیرستان میں پاکستان کے دشمنوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ مغربی پریس میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں طرح طرح کے سوالیہ نشان اٹھائے جارہے ہیں۔ خود ہماری صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک کا مستقبل لوگربل اور ایک ایسی جمہوریت کے ساتھ وابستہ کرچکے ہیں جسے امریکہ کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہو۔
یہ تمام قرائن حوصلہ افزا نہیں۔ مگر میں پھر بھی یہ یقین رکھتا ہوں کہ پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔ یہ چراغ خوفناک سے خوفناک طوفانوں کے سامنے بھی نہیں بجھے گا۔
اور اگر زاہد ملک صاحب کا خدشہ درست ثابت ہوتا ہے اور پاکستان کے کسی ایٹمی مرکز کو کسی تخریبی کارروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ دن پاکستان اور امریکہ کی ” دوستی “ کا آخری دن ہوگا۔
مجھے معلوم ہے کہ یہ بات امریکہ بھی جانتا ہے۔اور وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کرے گا جس کی تلافی اس کے بس سے باہر ہوگی۔
اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی بجائے امریکہ کا کلمہ پڑھتے ہیں انہیں اس روز سے ڈرنا چاہئے جس روز پاکستان کی بنیادوں پر اس کے ” دیدہ“ اور ” نادیدہ“ دشمنوں کا وار ہو۔
یہ وارناکام بنا دیا جائے گا۔
مگر ہمارے دشمنوں کے دوست عوامی قہر سے نہیں بچ سکیں گے۔

Scroll To Top