میاں صاحب نے شاہی جمہوریت کے آداب سیکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی

کتنااچھا ہوتا کہ جنرل پرویز مشرف فرمان روائے سعودی عرب سے یہ درخواست کرتے کہ آپ ہمارے سابق وزیراعظم کو اپنی پناہ میں تو لے جارہے ہیں لیکن بڑی عنایت ہوگی اسے آپ اپنے شاہی ماحول سے دور رکھیں۔ ایسا نہیں ہوا۔۔۔ ہمارے مقدر میں بھی ایک فرماں روا لکھا تھا جس کے ہر اقدام سے شاہی مزاج اور شاہی سوچ ٹپکتی اور جھلکتی ہو۔۔۔
میاں نوازشریف سعودی عرب میں رہ کر وہاں کی شاہی سوچ اور شاہی روایات میں ڈھل گئے۔۔۔ اور ایسے ڈھلے کہ انہیں شاہی خاندان میں ہی پاکستان کا مستقبل نظر آتا ہے۔۔۔
وہ خود تو ” شاہ “ ہیں ہی۔۔۔ شہزادہ شہبازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں ۔ شہزاد شہباز شریف کے ولی عہد شہزادہ حمزہ شہبازشریف پنجاب کے نائب وزیراعلیٰ ہیں۔
شہزادی مریم نوازشریف نائب وزیراعظم کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اگر پاناما نہ ہوا ہوتا تو اس سال بھی وہ اپنے حکمران والد کے ہمراہ امریکہ جاکر اپنی ” ولی عہدی“ کی دھاک بٹھاتیں۔۔۔ نیویارک نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شاہ کی غیر حاضری میں امور سلطنت چلانے کے لئے دارالحکومت میں ان کی موجودگی ضروری تھی۔
” شاہ “ کی دوسری صاحبزدی بھی شہزادی ہی ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ اُن کے خسر یاسسر سلطنت کے خزانوں کے نگران ہیں۔۔۔
ایک شہزادہ عابد شیر علی کے نام سے بھی مشہور ہے اور وہ بھی شاہی کا بینہ کا حصہ ہے۔۔۔
شاہی خاندان کس شعبے میں کس کس انداز میں پھیلا ہوا ہے ۔۔۔اس کااحاطہ اس مختصر کالم میں نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ مگر ایک بات طے ہے کہ میاں صاحب نے سعودی عرب میں جو وقت گزارا وہ انہوں نے ضائع نہیں کیا۔۔۔ انہوں نے بڑے انہماک اور بڑی سنجیدگی سے آدابِ شہنشاہی سے آگہی حاصل کی۔۔۔ ساتھ ہی اپنے آپ کو یہ بھی یقین دلادیا کہ اصل جمہوریت یہی ہے۔۔۔

Scroll To Top