دوپڑوسی ایٹمی قوتوں میں کشیدگی آخر کب تک

جنوبی ایشیا کا شمار دنیا کے ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں علاقائی کشیدگی کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال سامنے خارج ازمکان نہیں۔ مخصوص حوالوں سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں امریکہ کو بھی اس کا احساس ضرور ہے۔واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے یہ امید ظاہر کی کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے اپنا کلیدی کردار جاری رکھے گی۔اپنے عہدے کی مدت پوری کرکے رخصت ہونے والے نائب جوبائیڈن نے یہ بھی کہا کہ نہ صرف شمالی کوریا بلکہ روس، پاکستان اور دیگر ممالک کے جوابی اقدامات یورپ، جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا میں علاقائی کشیدگی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خدشہ ظاہر کررہی ہے۔
خوش آئند ہے کہ جاتے جاتے نائب امریکی صدر نے تاخیر سے ہی سہی مگر اپنی زمہ داریوں کو محسوس کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کیا نئی امریکی انتظامیہ کانگریس کے ساتھ مل کر اقوام عالم کو درپش ان خطرات کا تدراک کرنے میں کامیاب ہوتی بھی ہے یا نہیں جنھوں نے عملا دنیا کو خطرات میں گھیر رکھا۔ سپرپاور کی حثیثت سے امریکہ کی بجا طور پر زمہ داری ہے کہ وہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے کے لیے اپنا غیر جانبدار کردار ادا کرے۔
امریکی سیاست دانوں سے یہ امید کرنا غلط نہ ہوگی کہ وہ اپنی پارٹی سیاست سے بالا تر ہوکر جوہری توانائی کے معاملے کو اسی سنجیدگی سے لیں جس کا وہ بجا طور پر متقاضی ہے۔جوہری ہتھیاروں کا معاملہ پوری دنیا کے لیے اہم ہونا چاہے ۔ اقوام محتدہ سمیت امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے والے سب ہی اداروں کو ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے جس کی روشنی میں دنیا پہلے سے کہیں بڑھ کر محفوظ قرار پائے ۔یہ اہم ہے کہ عالمی برادری جوہری توانائی سے نمٹنے کے لیے تیار ہونے کی دعویدار ہے مگر اس کے باوصف درپیش خطرات کے لیے مذید کوشش کرنا ہونگی۔
دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی صورت بھی خطے میں بھارت کی بالادستی کا خواب پورا نہیں ہونے دیگا۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی کوشش یہی ہے کہ وہ پورے خطے کی سامراجی طاقت بن جائے جو کہ ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے’۔
یقینا پاکستان اور بھارت دونوں مسلمہ ایٹمی قوتیں ہیں جو ہمہ وقت کشیدہ صورت حال سے دوچار ہیں۔ پاکستان بارے تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی طور پر بات چیت سے فرار اختیار نہیں کررہا مگر بھارت صرف اپنی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔حالیہ مہینوں میں بھارت پوری قوت سے پاکستان کو تنہا کرنے کی سفارتی مہم جاری رکھے ہوئے جو دونوں ملکوں میں مذید تناو پیدا کرنے کا باعث بن رہی۔
(ڈیک)۔۔۔2016 کے دوران لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ دونوں ملکوں میں کشیدگی کا بڑاثبوت ہے۔ امن کے عالمی ٹھیکداروں کو احساس دلانا ہوگا کہ دونوں ملکوںمیں موجود تنازعات سے لاتعلقی کسی بڑے سانحہ کا باعث بن سکتی ہے۔اعداد وشمار گواہ ہیں کہ 2016 کے دوران بھارت ایل او سی پر تقریبا 182، جبکہ ورکنگ بانڈری پر 38 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ۔۔۔۔(ڈیک) گذشتہ سال جولائی میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے بھارت نے پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں تیزی دکھائی تاکہ عملا کشمیر سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارت کی طرف سے شدید الزام تراشی کی گی مگر سب کو معلوم ہے کہ گذشتہ سال پڑوسی ملک محض میں ایک یا دو واقعات ہوئے مگر پاکستان سالوںسے دہشت گردی کا سامنا کررہا۔دنیا کو پاکستان دشمنی کی بنیاد پر بھارت کے سیاسی ماحول پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں حالت یہ ہے کہ پاکستان دشمنی بغیر سیاسی جماعتیں ووٹ حاصل نہیں کرسکتیں ۔یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی کو کامیابی کے لیے مسلمان ہی نہیں بلکہ مسیحیوں کے خلاف بھی بھرپور مہم چلانی پڑی۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ رواں سال بھارت پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دباو بڑھے گا جس کی وجہ دونوں ملکوں کا ایٹمی پاور ہونے کے علاوہ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی جدوجہد کا زور پکڑنا بھی ہے۔بی جے پی قیادت کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے ۔ سی پیک کی شکل میں بھارت کے لیے ایک موقعہ موجود ہے کہ وہ اپنے مسائل حل کرنے کے علاوہ خطے میں تعمیر وترقی کے نئے دور کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ نئی دہلی کی منفی پالیسوں کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب اس نے افغانستان پر دباو بڑھا کر اسے پاکستان مخالفت پرآمادہ کرلیا۔آئے روز افغان صدر اشرف غنی کا پاکستان پر الزام تراشی کرنا بھارتی اثررسوخ ہی کا نتیجہ ہے۔بھارت کو جان لینا چاہے کہ خطے میں امن محض مذاکرات کے زریعہ ہی ممکن ہے ۔الزام تراشی کے نتیجے میں جنوبی ایشیاءمیں غربت اور پسماندگی میں اضافہ ہوگا۔ مداخلت کا الزام چاہے بھارت کی جانب سے ہو یا افغانستان کی طرف سے کسی میں بھی سچائی نہیں ۔ایک خیال یہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارت میں ایسا سوچنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا کہ اگر ترقی کرنی ہے تو پاکستان سے کشیدگی پر مبنی پالیسی ترک کرنا تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ہوسکتا ہے کہ بھارت میں اس سوچ کو فروغ دینے میں سی پیک بھی کلیدی کردار ادا کرے۔

Scroll To Top