قبائلیوں کو احتجاج کا موقعہ نہ دیا جائے

خبیر تا کراچی ہر باخبر پاکستانی خوب جانتا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں قیام امن اسی لیے ممکن ہوا کہ قبائلیوں نے اپنا گھر بار چھوڈ کر محفوظ اور پرامن ملک کا خواب شرمندہ تعبیر کیا۔ اس پس منظر میں ایسی خبریں یقینا تکلیف دہ ہیں جس میں قبائلی کسی نہ کسی سطح پر شکایات کرتے نظر آئیں۔ حکام کی اولین زمہ داری یہی ہے کہ فاٹا متاثرین کے اجتجاج سے قبل ان کی داد رسی کی جائے۔
تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے نوجوانوں نے فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا متاثرین کو فراہم کی جانے والی رقم کی فراہمی میں تاخیر کے خلاف احتجاجی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انھیں فوری طور پر رقم جاری کی جائِے۔“
زمہ داروںکوباخوبی اندازہ ہونا چاہے کہ قبائلی علاقوں میں جب جب کوئی منفی سرگرمی سامنے آئی تو حریف ملکوں نے اسے پوری قوت سے اٹھایا چنانچہ اب کسی طور پر غلطی کی گنجائش نہیں ۔ خوش آئند ہے کہ ضرب عضب کے سبب قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرکے جانے والی بیشتر افراد کی واپسی ہو چکی مگر اب بھی کم وبیش ساٹھ ہزار سے زیادہ خاندان ملک کے مختلف علاقوں میں یا تو خیموں یا کرائے کے مکانات میں رہ رہے۔اپنا گھر بار چھوڈ کر خیموں یا کرائے کے مکانوں میں رہنے کسی طور پر آسان نہیں۔ پاکستانیت کا تقاضا تو یہ تھا کہ ملک بھر کی سیاسی ومذہبی جماعتیں اپنے قبائلی بھائیوں کی مشکلات دور کرنے کے لیے تن من دھن کی قربانی دے ڈالتیں مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔
اب شمالی وزیرستان کے طلبااور نوجوانوں نے جمعے کو پشاور پریس کلب سے ریلی نکال کر گورنر ہاوس تک جانے کی کوشش کی مگر انھیں اجازت نہ دی گی ۔ قبائلی نوجوانوں نے شکوہ کیا کہ ہمیں ہر ماہ بارہ ہزار روپے امدادی رقم دی جاتی ہے لیکن گذشتہ چار ماہ سے یہ سلسلہ بند ہے۔ متاثرین نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے زندگی گزارنا عذاب سے کم نہیں ہے لہذا امداد رقم میں تاخیر سے ان کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئیں۔احتجاج کرنے والوں نے اس پر بھی افسوس کیا کہ وزیر اعظم نوازشریف نے پچیس ہزار روپے رمضان پیکج کا اعلان مگر ایف ڈی ایم اے نے ان کی دو ماہ کی قسطوں میں برابر کر دیا جب کہ رمضان پیکج ماہانہ امداد سے الگ تھا۔ادھر این ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل خالد خان نے درپیش حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نومبر اور دسمبر کی قسط وفاقی فنانس ڈویژن نے جاری نہیں کیں لہذا جیسے ہی رقم انھیں فراہم کی جائے گی وہ متاثرین تک پہنچا دیں گے ۔
وفاقی حکومت کے زمہ داروں کو موقف ہے کہ وہ متاثرین کی واپسی کے لیے بھرپور کوشش کررہے ہیں انھیں یہ بھی امید ہے کہ رواں سال جون تک تمام متاثرین اپنے علاقوں کو واپس چلے جائیں گے ۔
ضرب عضب جون سال دو ہزار چودہ میں شروع ہواجس کے نتیجے میںکم وبیش دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان متاثرین کو سرکار کی جانب نقد رقم ، راشن ، روزانہ استعمال کی اشیا اور آنے جانے کے اخراجات دیے جاتے تھے۔ مذید یہ کہ اس لڑائی کے نتیجے میں جن قبائلیوں کے گھروں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا انھیں بھی رقم دینے کے وعدے کیے گئے ہیں مگر اب تک ان پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔
(ڈیک)۔۔ بلاشبہ قبائلیوں میں کسی قسم کی بے چینی ہرگز نیک شگون نہیں ۔ ارباب اختیار کو ہنگامی بنیادوں پران وجوہات کو دور کرنا ہوگا جو قبائلیوں کی ماہانہ امداد بارے مشکلات پیدا کررہیں۔ وفاقی حکومت کو معاملہ کی سنگینی کا احساس کرنا ہوگا۔ سیکورٹی فورسز نے قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے خالی تو کروایا مگر مکمل جنگ تاحال جیتی نہیں جاسکی ۔(ڈیک)۔۔۔۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل دل ودماغ جیتنے کی لڑائی ہے جس میں مکمل فتح کا حصول یقینا مشکل ہے۔اس تاثر کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا کہ سرکار قبائلیوں کی مشکلات کم کرنے میں متحرک نہیں رہی۔وطن عزیز میںدہشت گردی کے خلاف لڑائی دراصل ایسی گوریلا جنگ ہے جس میں نہ تو آسانی سے دشمن کی پہچان ممکن ہے اور نہ ٹھکانے کا کوئی پتہ۔ایسی لڑائی میں دشمن کے پاس وقت کی ہرگز کمی نہیں ہوا کرتی۔ مقام شکر ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات میں ٹھراو آیا مگر دشمن اب بھی ہماری صفوں میں موجود ہے۔ لہذا قبائلیوں کو ناراض کرکے ہم اپنے دشمن کو وار کرنے کا موقعہ فراہم کررہے۔
تسلیم کے پاکستان ترقی پذیر ملک ہے اس کے وسائل محدود ہیں مگر قبائلی علاقوں میں بہتری کے لیے کسی قسم کی تاخیر نہ روا رکھی جائے۔ یہ سوال پوچھا جارہا کہ اگر لاہورجیسے ایک شہر میں اربوں روپے کے منصوبہ جاری وساری ہیں تو فاٹا کی ترقی کے لیے ہاتھ کیونکر روکا جارہا ہے۔ قبائلی بھائیوں کو احتجاج پر جس کسی نے مجبور کیا وہ ہرگز پاکستان کا دوست نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا دشمن ضرب عضب کی کامیابیوں سے خائف ہوکر اس کے خلاف کوئی بڑی مہم چلانے کے لیے کوشاں ہو۔ مذکورہ معاملے کو پارلمینٹ میں بھی اٹھایا جانا چاہے اور حزب اختلاف کو قبائلی بھائیوں کے حق میں سامنے آنا چاہے۔ہمیں اس رججان سے تائب ہونا ہوگا کہ مسائل حل کرنے کی بجائے انھیں نظرانداز کیا جائے۔ گذشتہ ستر سال سے اسی لیے انواع واقسام کے نقصانات اٹھانا پڑے کہ ہم بطور قوم خود احتسابی سے محروم رہے ۔ یقینا اپنے لوگوںکی جائز مشکلات دور کرکے ہی اتحاد ویکجہتی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

Scroll To Top