لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف کو رائیونڈ مارچ کرنے کی مشروط اجازت دیدی

  • احتجاج کے شرکا ءپرامن طور پر اکٹھے ہوں ،احتجاج کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو جائیں، انتظامیہ کےساتھ معاہدے کی مکمل پاسداری کی جائے
  • شرانگیزی پھیلانے ولے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے ،شرپسندی یا اشتعال انگیزی کی کوشش کرنےوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

Image result for lahore high courtلاہور ( این این آئی) لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے تحریک انصاف کو رائیونڈ مارچ کرنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ احتجاج کے شرکا ءپرامن طور پر اکٹھے ہوں اور احتجاج کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو جائیں، انتظامیہ کے ساتھ احتجاج کے بارے میں جو معاہدہ ہوا ہے اس کی مکمل پاسداری کریں، شرانگیزی پھیلانے ولے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے اور شرپسندی یا اشتعال انگیزی کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ گزشتہ روز قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس شاہد حمید ڈار ،جسٹس انوارالحق اور جسٹس قاسم خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ عدالت نے بدھ کے روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ احتجاج کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرے اور احتجاج میں شرکت کرنے والے کارکنوں کو ہراساں یا گرفتار نہ کیا جائے۔عدالت نے تحریکِ انصاف کے رہنما اور درخواست گزار ولید اقبال کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ احتجاج کے بارے میں جو معاہدہ ہوا ہے اس کی مکمل پاسداری کریں۔عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ احتجاج کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرے ۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ احتجاج کے شرکا پرامن طور پر اکٹھے ہوں اور احتجاج کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو جائیں۔فل بینچ نے انتظامیہ اور منتظمین سے یہ بھی کہا کہ شرانگیزی پھیلانے ولے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے اور شرپسندی یا اشتعال انگیزی کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔فل بینچ نے قرار دیا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔کارروائی کے دوران فل بینچ نے درخواست گزار کے وکلا کو باور کروایا کہ سیاسی لڑائیاں سیاسی میدان میں لڑی جانی چاہییں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔واضح رہے کہ تحریکِ انصاف 30 ستمبرکے رائیونڈ مارچ کے خلاف ایک مقامی شہری عاطف ستار نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔درخواست گزار اے کے وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ عمران خان اپنی تقاریر میں نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں ،عمران خان اور تحریک انصاف کی بے ضابطگیوں کے باعث انکی پارٹی کے سینئر رہنما جسٹس (ر) وجیہہ الدین استعفیٰ دے چکے ہیں۔عمران خان اور پی ٹی آئی کی دیگر قیادت حکومت مخالف تقاریر کرتے ہیں جس سے کارکنوں میں اشتعال پید اہوتا ہے اور اس سے تصاد م کا راستہ ہمورا ہوسکتا ہے لہٰذا عدالت پی ٹی آئی کے رائیونڈ مارچ کو روکنے کے احکامات جاری کرے ۔جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے موقف اپنایا گیا تھا کہ تحریک انصاف آئینی حدود کے اندر رہ کر احتجاج کرنا چاہتی ہے ۔لہٰذا احتجاج کی اجازت دی جائے۔

Scroll To Top