پاکستان پر الزام تراشی سوچی سمجھی حکمت عملی

بظاہر طے شدہ منصوبہ کے تحت بعض ممالک پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے کوشاں ہیں۔یہ محض اتفاق نہیں کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان اور بھارت کے پاکستان مخالف موقف میں یکسانیت نظر آتی ہے۔ اسی پس منظر میں دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے افغان حکومت کا فاٹا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے الزام کو ایک بار پھر سختی سے مسترد کردیا۔
قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں بارے پوچھے گے سوال کے جواب میں نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طے شدہ پالیسی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی صورت دوسرے ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان پر الزام لگانے والوں کے موقف پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف دنیا بھر میں کیا گیا جس میں امریکہ سمیت یورپ اور دیگر اہم ممالک نمایاں ہیں۔“
ترجمان دفتر خارجہ کا یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں کہ اب تک دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے ہزاروں پاکستانی قربان ہوگے، کم وبیش 100 ارب امریکی ڈالر کا معاشی نقصان پاکستان برداشت کرچکا ۔
دنیا کے باخبر حلقے جانتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب نے پاکستان کی سیکیورٹی اور معاشی صورتحال کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا، ضرب عضب کے اثرات محض پاکستان تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر بہتر صورتحال اس کاروائی کی افادیت کا پتہ دے رہی۔چند مہینے قبل ہی اہم امریکی عہدیداروں نے بھی فاٹا کا دورہ کیا اور پاکستان کی انسداد دہشت گردی مہم کا اعتراف کیا۔
غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں مسلسل جاری رہنے والی بدامنی ہی دراصل کئی دہشت گرد گروہوں کی فعالیت کی وجہ ہے۔ پڑوسی ملک میں عدم استحکام ہی کا شاخسانہ ہے کہحقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان ، افغان طالبان، القاعدہ اور داعش فعال ہیں۔ یہ یقینا افسوسناک ہے کہ افغان حکومت اپنی زمہ داریوں کا احساس کرنے کی بجائے مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرا رہی۔دراصل پاکستان پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کی سرپرستی کرنے کا الزام نے نہ پہلے فائدہ دیا نہ اب سودمند ثابت ہوگا۔اس کے برعکس سچ یہ ہے کہ بعض طاقتیں افغانستان کی سر زمین کو پاکستان اور دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرکے اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ‘را’ اور ‘این ڈی ایس’ کی قربت پر شدید تحفظات ہیں۔
(ڈیک )۔۔۔پاکستان کو باخوبی اندازہ ہے کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں مگر پڑوسی نہیں۔ دراصل افغانستان میں قیامِ امن خود پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے۔ خطے میں امن وامان صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب افغانستان میں حالات بہتر ہونگے ۔پاکستان دہشت گردی سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے کثیر جہتی کوششوں میں بھی مصروف ہے مگر اس کے لیے کسی کی جانب نہیں دیکھ رہا۔۔۔(ڈیک )۔۔پاکستان کے لیے یہ یقینا تشویشناک ہے کہ امریکہ آئے روز پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا ہے۔ حال ہی میں ایک بار پھر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے فاٹا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں حملوں کی وجہ قرار دیا۔ امریکہ دراصل پاکستان کے اس موقف کو کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نظر نہیں آتا کہ افغانستان کی سیکیورٹی دراصل پاکستان کی سیکیورٹی ہے، انکل سام دانستہ طور پر اس حقیقت سے نظریں چرانے کا مرتکب ہورہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اب تک امریکہ بہادر تمام تر کوششوں کے باوجود افغانستان میں امن بحال کرنے میں ناکام نظر آتا ہے چنانچہ امریکہ اور افغان حکومت دونوں نے پاکستان پر آئے روز سنگین الزام عائد کرکے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کوشاں ہیں۔ دونوں ملکوں کو جان لینا چاہے کہ ناکامیوں کی زمہ داری ایک دوسرے پر لادنے سے مسلہ کسی طور پر حل نہیں ہونے والا۔ امریکہ اور افغانستان کو زھن نشین کرنا ہوگا کہ انتہاپسند عناصر کسی کے دوست نہیں۔ جب خطے کے اہم ممالک ایک دوسرے کے دست وگربیاں رہیں گے تو اس کے نتیجے میں دہشت گرد گروہ ہی مضبوط ہونگے۔ مخصوص زوایہ سے یہ کہا جاسکتا کہ امریکہ افغانستان میں امن وامان کی بحالی نہیں چاہتا۔ مسلسل خون ریزی جاری رہنا ہی اس کے مقاصد کے حصول میں معاون بن رہا۔ امریکہ ایک طرف اففانستان میں بیٹھ کر ایک طرف چین پر نظریں جمائے ہوئے ہے تو دوسری جانب ابھرتا ہوا روس بھی اس کےے نشانے پر ہے۔ پاکستان کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل تو انکل سام نے طویل عرصے سے شروع کررکھا ہے تاکہ اسے مسلسل دباو میں رکھا جاسکے۔
ادھر افغانستان کے حالات ایک بار پھر بدتر ہوچکے۔ حال ہی قندھار میں ہونے والے دھماکے میں متحدہ عرب امارات کے سفیر جمعہ محمد عبداللہ الکعبی کے ساتھ ساتھ کئی اہم شخصیات جان بحق اور زخمی ہوئیں ۔ادھر دھماکوں کے فورا بعد کابل نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد جب چاہے افغانستان میں حملہ کرسکتے ہیں اس کی وجہ فاٹا میں ان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ یقینا افغانستان کو امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کی بجائے صرف اور صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ محض اسی وجہ سے نہ صرف افغانستان کا امن بحال ہوگا بلکہ پڑوسی ملکوں کے درمیان بہتری کی بھی کوئی نہ کوئی صورت رونما ہوگی۔

Scroll To Top