انڈر 18 ایشیا ہاکی، پاکستانی ٹیم بھارت کو دھول چٹانے کیلیے تیار

لاہور: کبڈی کے بعد پاکستان ہاکی ٹیم بھی بھارت کودھول چٹانے کے لیے تیار ہوگئی، چوتھے انڈر 18 ایشیا ہاکی کپ کے ناقابل شکست گرین شرٹس جمعرات کو سیمی فائنل میں بلوشرٹس کیخلاف میدان میں اتریں گے۔

دونوں ٹیموں کے کوچز نے فیصلہ کن مقابلہ اپنے نام کرنے کا دعوی کیا ہے، پاکستانی کوچ مدثر علی خان کا کہنا ہے کہ تمام میچز میں کامیابیاں سمیٹنے کے بعد کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہیں اور روایتی حریف کے خلاف بھی فتح حاصل کر کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پُرامید ہیں، بھارتی کوچ بی جے کریپا کے مطابق کھلاڑیوں نے پاکستان کے خلاف میچ پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔

یہ مقابلہ ہمارے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا، جارحانہ انداز اپنا کر میچ کا نتیجہ اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے، ایونٹ کے دوسرے مقابلے میں بنگلہ دیش کا مقابلہ چائنیزتائپے سے ہو گا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں جاری انڈر 18ایشیا ہاکی کپ اختتامی مراحل کی طرف گامزن ہے،4 ٹیموں پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور چائنیزتائپے نے عمدہ کارکردگی کی بدولت سیمی فائنل میں جگہ بنا رکھی ہے، یاد رہے کہ ایونٹ میں مجموعی طور پر 7 ٹیمیں شریک ہیں جنھیں 2گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

پول اے میں بھارت، اومان اور بنگلہ دیش شامل جبکہ پول بی میں پاکستان کے ساتھ چین، چائینز تائپے اور ہانگ کانگ چین کو رکھا گیا، پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کی کروڑوں عوام نے اپنی نظریں جمعرات کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں شیڈول انڈر 18 ایشیا ہاکی کپ کے سیمی فائنل مقابلے پر مرکوز کر لی ہیں۔

پاکستان شائقین پُر امید ہیں کہ کبڈی کی طرح ہاکی ٹیم بھی بھارت کوزیرکرنے میں کامیاب رہے گی، گرین شرٹس مسلسل 3 میچز جیت کر ایونٹ میں ناقابل شکست ہیں، ٹیم نے ایونٹ کے افتتاحی میچ میں چائینز تائپے کو6-1سے ہرانے کے بعد دوسرے میچ میں چین کو صفر کے مقابلے میں 6گول سے زیر کیا تھا،گرین شرٹس نے پہلے راؤنڈ کے آخری میچ میں ہانگ کانگ کو 14-0 سے ہراکر نہ صرف فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کی بلکہ سیمی فائنل میں بھی جگہ پکی کی۔

ایونٹ میں اب تک پاکستانی ٹیم نے مجموعی طور پر26 گول کیے جبکہ صرف ایک گول اس کے خلاف ہوا۔ادھر بھارت کو سنسنی خیز مقابلے میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں 4کے مقابلے میں5گول سے اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، یاد رہے کہ انڈر 18 سطح کے انٹرنیشنل مقابلوں میں یہ بنگال ٹائیگرز کی بلوزشرٹس کے خلاف پہلی فتح تھی، دوسرے میچ میں بھارت نے عمدہ کم بیک کرتے ہوئے اومان کے خلاف صفر کے مقابلے میں 11 گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کو ایشیائی کپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

پاکستان نے2009 میں چیمپئن بننے کے بعد 2011 میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھاجبکہ بھارتی ٹیم 2001 میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ایونٹ کے دوسرے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش کا مقابلہ چائنیزتائپے سے ہو گا۔

ادھر پاکستان اور بھارت کے کوچز مقابلہ اپنے نام کر کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پُرامید ہیں۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ مدثر علی خان کا کہنا ہے کہ کہ تمام میچز میں کامیابیاں سمیٹنے کے بعد کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہیں، وہ روایتی حریف کے خلاف بھی فتح حاصل کر کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے کا عزم رکھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ بلوشرٹس کو کسی بھی طرح آسان نہیں لیں گے بلکہ بھرپور تیاریوں کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔

بھارتی کوچ بی جے کریپا کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑیوں نے پاکستان کے خلاف میچ پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے، یہ مقابلہ ہمارے لیے کسی طرح بھی چیلنج سے کم نہیں ہوگا، انھوں نے کہاکہ پاکستانی ٹیم نے اب تک ایونٹ میں عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے تمام مقابلوں میں کامیابی حاصل کی ہے، اس لیے بخوبی جانتے ہیں کہ جیت کے لیے تمام کھلاڑیوں کو غیرمعمولی کارکردگی کامظاہرہ کرنا ہوگا۔

Scroll To Top