پاکستان کا مسقبل روشن ہے

آرمی پبلک سکول کے طلبہ وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے ملکی تعمیر وترقی کے لیے نوجوانوں سے جو امید ظاہر کی ہے وہ کسی طور پر بلاوجہ نہیں۔ آرمی پبلک سکول کی تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوان بے پناہ صلاحتیوں سے مالا مال ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سپہ سالار کا کہنا تھا کہ ہمارا مسقبل روشن ہے مگر تعلیمی اداروں کو طلبہ کی کردار سازی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔“
وطن عزیز میں ایک طرف مسائل کا انبار ہے تو دوسری طرف بہتری کے لیے پوری قوت سے فعال رہنے ایسے افراد بھی ہیں جو دشمنوں کے واویلے سے بے پروہ اپنا مثبت کردار بھرپور طریقے سے ادا کررہے ہیں۔ اس میںشک نہیں کہ کسی بھی ملک میں تعمیر وترقی کی کی اولین زمہ داری وہاں کی قیادت کے سر ہے جس کے سر پر حق حکمران کا تاج سجا ہو۔ شومئی قسمت سے ہمارے ہاں صورت حال حوصلہ افزاءنہیں۔ ملک میں جمہوری نظام تو موجود ہے مگر وہ جمہور کے مفادات کا تحفظ کرنے میں کس حد تک کامیاب رہا اس بارے عوام کی اکثریت کے خیالات حوصلہ افزاءنہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتو ں کے ترجمان صبح وشام دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ وہ ارض وطن کو نئے جہانوں سے روشناس کروارہے مگر عملا مثبت شوائد دستیاب نہیں۔ ایک خیال ہے کہ سیاسی اشرافیہ تاحال اپنی ترجحیات میں ملک وملت کو نمایاں جگہ نہیں دی سکیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا کہ باشعور پاکستانیوں کی اکثریت میں رائج نظام کی حمایت بتدریج کم ہورہی۔
دہشت گردی کا مسلہ ہمارے سامنے ہے۔ محض تین سال قبل تک ملک کا شائد ہی کوئی ایسا شہر بچا ہو جہاں پاکستانیوں کے خون سے ہولی نہ کھیلی گی۔ درجنوں شدت پسند گروہ کالعدم تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کرکے ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہکاروں کو شہید کرنے کا باعث بنے۔ مذید ان ہولناک کاروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں مرد وزن عمربھر کے لیے معذور ہوگے۔ ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا مگر منتخب قیادت نے ان متشدد گروپوں سے بات چیت کو ترجیح دی جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری غیر سنجیدیگی کا ثبوت دے گیا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو یقینا اس کا کریڈٹ جاتا ہے کہ ریاستی رٹ بحال کرنے کے سوال پر جب جب اہل اقتدار اگر مگر اورچونکہ چنانچہ میں الجھے ہوئے تھے انھوں نے آگے بڑھ کر ضرب عضب کا آغاز کرڈالا جو دراصل دائمی امن کی بنیاد فراہم کرچکا۔ راحیل شریف کی سربراہی میں پاک فوج نے انتہاپسندی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کیں اس کے بعد وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو بھی جرات ہوئی کہ وہ انسانیت کے دشمنوں کے خلاف جاری معرکہ کی بھرپور حمایت کرسکیں۔
کراچی میں ریجنرز کا ٹارگٹیڈ آپریشن بھی دراصل ضرب عضب کی ہی توسیع کہا جاتا ہے۔ ہمارا ساحلی شہر کئی دہائیوں سے آگ وخون کا ایسا منظر پیش کررہا تھا جس میں ملک کسی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور نظریاتی شناخت کو سرعام جلایا جارہا تھا۔ سات سمندرپار برطانوی شہریت کے حامل شخص کے ہاتھ میں کروڈوں کی آبادی کا حامل شہر عملا یر غمال بن کر رہ گیا ۔ کراچی میں جرم اور سیاست کا ایسا امتزاج بنا دیا گیا کہ دونوں کو الگ الگ کرنا مشکل نہیں ناممکن بھی دکھائی دیا جانے لگا۔لسانی سیاست کرنے والا ایک گروہ روایتی دشمن کے ہاتھ میں ایسے کھیلنے لگا کہ ملکی سلامتی اور وحدت ہی کے درپے ہوگیا مگر پھر لندن سے ہونے والی 22 اگست کی تقریر فیصلہ کن کردار ادا کریگی جہاں اس کی اپنی جماعت نے بالاآخر اس سے اظہار لا تعلقی کا اعلان کرڈالا۔
فاٹا اور کراچی سمیت ملک بھر میں امن وامان کی بہتر صورت حال کو پاکستان کے روشن اور محفوظ مسقبل کی پیشن گوئی کے طور پر لیا جانا چاہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ترقی یافتہ یا ترقی پذیر کی بحث سے قطع نظر ہر ریاست کی بنیادی زمہ داری یہی ہے کہ کیا وہ اپنے ہاں بسنے والوں کو امن جیسی نعمت بلا تفریق فراہم کرنے میں پورے اخلاص کاثبوت دے۔ تسلیم کہ ریاست کی نمائندہ حکومت کا کام محض جان ومال کی سلامتی کا ماحول فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہر شہری کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنا بھی ہے مگر اس کا کیا کریں کہ ستر سال بعد بھی ہمارے ارباب اختیار امن وامان فراہم کرنے میں بھی ناکام چلے آتے ہیں۔
یہ اہم ہے کہ جنرل راحیل شریف نے آرمی پبلک سکول میں ایوارڈز تقسیم کرنے کی تقریب میں حکومتوں سے توقعات وابستہ کرنے کی بجائے براہ راست نوجوان نسل کو اپنی امیدوں کو مرکز بنایا۔
ملک میں نوجوانوں اکثریت میں موجود ہیں۔ خبیر تا کراچی مختلف علاقوں میں رہنے کے باوصف عام پاکستانی نوجوان نہ صرف ملک کی محبت سے سرشار ہے بلکہ وہ اس کے لیے کچھ کرگرزنے کا جذبہ بھی رکھتا ہے۔ سیاسی ومذہبی جماعتوں کی اکثریت سے نوجوانوں کی مایوسی کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اہل اقتدار وعدوں اور دعووں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ سیاسی کھلاڈیوں کی اکثریت اس حقیقت کو پس پشت ڈالنے کی مرتکب ہورہی کہ آج کا پاکستانی نوجوان ان سے عمل کی توقعات رکھتا ہے۔ انفرادی اور گروہی مفادات کو تحفظ دینے میں پیش پیش رہنے والی سیاسی اشرافیہ اہل پاکستان کو تعلیم ، صحت اور اچھی حکمرانی دینے میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں یہ کوئی راز نہیں رہا۔

Scroll To Top