اپنے موسیٰ کو لبیک کہو !

میاں نوازشریف کو 29نومبر2016ءکا انتظار ہے۔ اور عمران خان کسی معجزے کے انتظار میں ہیں۔ جہاں تک پاکستان کے عوام کا تعلق ہے وہ انتظار کے کرب سے کئی دہائیوں تک گزرتے رہے ہیں۔ اور اب یہ کرب ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکا ہے۔
اب تو صورتحال یہ ہے کہ سورج پوری آب و تاب کے ساتھ نکل بھی آئے تو بھی عوام کو یقین نہیں آئے گا ۔ وہ سمجھیں گے کہ ہنوز اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔
حکمرانوں کا فرمانا ہے کہ” تم خود ہمیں ووٹ دے کر تخت پر بٹھاتے ہو۔۔۔ پھر یہ شکایت کیسی کہ بھوک ہے` ننگ ہے ` بیماری ہے `افلاس ہے ` مایوسی ہے ` اور بے بسی ہے۔۔۔کہاں ہے بھوک ؟ کہاں ہے ننگ ؟ کہاں ہے بیماری ؟ کہاں ہے افلاس ؟ کہاں ہے مایوسی ؟ اور کہاں ہے بے بسی۔۔۔؟تمہیں اپنے وزیراعظم کے چہرے پر بشاشت اور تندرستی نظر نہیں آتی ۔ ؟ تم نے رائے ونڈ جاکر ترقی و خوشحالی کا کرشماتی یا طلسماتی چہرہ نہیں دیکھا؟ تم وہ اشتہارات نہیں دیکھتے جو بڑی باقاعدگی سے ٹی وی کی سکرین پر چلتے دوڑتے نظر آتے ہیں۔؟تم وزیر خزانہ کے جاری کردہ اعدادو شمار پر نظر نہیں ڈالتے جو بار ہا یہ مژدہ سناتے ہیں کہ پاکستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں میں قابلِ رشک حیثیت حاصل کر چکا ہے ۔؟ “
عوام کے پاس ان سوالوں کا جواب ایک ہی ہے۔
انتظار ۔۔۔۔
شاید رحمتِ خداوندی جوش میں آجائے۔۔۔
اور آسمانوں سے یہ صدا آئے۔۔۔
تم اپنے حصے کی سزا کاٹ چکے ۔۔۔
تمہارا انتظارختم ہوا۔۔۔
تمہارے فرعونوں کی رخصتی کا وقت آچکا۔۔۔
اپنے موسیٰ کو لبیک کہو۔۔۔یہ ملک تم نے نہیں ہم نے بنایا تھا۔۔۔ اسے ظالموں کے شکنجے سے آزاد بھی ہم کرائیں گے۔۔۔

Scroll To Top