بھارتی اشتعال انگیزی کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، نواز شریف

  • وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اہم اجلاس، آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت اعلی عسکری اور سول حکام کی شرکت، سیاسی اور عسکری قیادت نے مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت کی
اسلام آباد،سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس سے قبل وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف ملاقات کررہے ہیں

اسلام آباد،سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس سے قبل وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف ملاقات کررہے ہیں

اسلام آباد(دنیا نیوز) وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت اعلی عسکری اور سول حکام نے شرکت کی۔ سیاسی اور عسکری قیادت نے مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت ہوئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے بے شمار قربانیاں دیں اور اشتعال انگیزی کے باجود ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔ مسلح افواج اور پاکستان کے عوام ملکی دفاع کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ مظلوم کشمیریوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی رضامندی سے طے ہوا اور ضمانت عالمی بینک نے دی۔ کوئی ایک ملک معاہدے سے یکطرفہ طور پر الگ نہیں ہو سکتا۔ اجلاس میں خطے کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا جبکہ شرکاءنے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جب کہ کشمیریوں پر ظلم و بربریت کو برداشت نہیں کیا جائے گا جب کہ دنیا گواہ ہے پاکستان نے اشتعال انگیزی کے باوجود ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی، مشیر قومی سلامتی امور ناصر جنجوعہ، سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور ڈی جی ملٹری آپریشن سمیت اعلیٰ سول عسکری حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے شرکا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے طاقت کے بہیمانہ استعمال کی مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال سمیت داخلی و خارجہ صورتحال پر بریفنگ دی جس پر اجلاس کے شرکا نے پاک فوج کی آپریشن تیاریوں پر اظہار اطمینان کیا۔نمائندہ ایکسپریس کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو پاکستان سمیت عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جب کہ کشمیریوں پرظلم و بربریت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکتسان جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کوشاں ہے اور دنیا گواہ ہےکہ پاکستان نے عالمی امن کےلیے بے مثال قربانیاں دیں جب کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی کے باوجود ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کی باہمی رضا مندی سے طے ہوا اس لیے کوئی ایک ملک معاہدے سے یکطرفہ طورپر الگ نہیں ہوسکتا۔

Scroll To Top