اگر نیب کے قانون کو وسعت دی جائے تو ملک کی جیلیں خالی ہو جائینگی، چیف جسٹس

  • عدالت نے سماعت کے لیے اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی
  • آئندہ سماعت سے قبل عدالت کو بتایا جائے کہ اب تک کتنے لوگوں کو پلی بار گین کے ذریعے کرپشن کے مقدمات سے رہا کیا گیا ،

Image result for anwar zaheer jamaliاسلام آباد(یوا ین پی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو کے پلی بارگین اختیارات کے خلاف لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔عدالت نے نیب حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت سے قبل عدالت کو بتایا جائے کہ اب تک کتنے لوگوں کو پلی بار گین کے ذریعے کرپشن کے مقدمات سے رہا کیا گیا ہے۔عدالت نے نیب اور حکومت سے رضاکارانہ طور پر رقم جمع کرانے والوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز الاحسن نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو ڈپٹی اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل سرکاری مصروفیات کی وجہ سے واشنگٹن میں ہیں اور دو سے تین روز میں واپس آ جائیں گے جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام اہم مقدمات میں اٹارنی جنرل دستیاب نہیں ہوتے ایسا کریں گے کہ اٹارنی جنرل کو ملک سے باہر ہی رکھیں۔عدالت اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر چلانا چاہتی ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 15اکتوبر کے بعد تک اس کیس کی سماعت ملتوی کریں کیونکہ اس کیس میں نیب کے قانون کی خامیوں کو چیلنج کیا گیا ہے اس لیے اس کیس میں اٹارنی جنرل کی موجودگی ضرورت ہے ۔عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ کیا رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنےوالے کسی شخص کے خلاف کارروائی ہوئی ہے یا نہیں تو حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ اب تک رقم واپس کرنے والے کسی شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی جس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرنیب کے قانون کو وسعت دی جائے تو ملک کی جیلیں خالی ہو جائیں گی۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ اب تک کتنے لوگ پلی بارگین میں داخل ہوئے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو ایک بندہ پلی بار گین کرتا ہے اور اس کو کلین چٹ مل جاتی ہے اس دوران پراسیکیوٹر جنرل نیب وقاص قدیر ڈار نے عدالت کو بتایا کہ نیب آرڈیننس کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پچاس سال سے یہ معاملہ یونہی چل رہا ہے جس معاملے کو طول دینا ہو اس کے لیے کمیٹی بنا دی جاتی ہے جس چور سے مال برآمد ہو اس سے رقم لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے عدالت نے حکومت اور نیب سے رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنے والوں کی فہرست طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

Scroll To Top