اگر ےہ مجرم بچ نکلے تو ہمارا کوئی مستقبل نہےں…. 16-06-2010

کوئی بھی معاشرہ”جرم و سزا“ کے اےک واضح اور مضبوط تصور کے بغےر ترقی نہےں کر سکتا۔ بلکہ مناسب ےہ کہنا ہو گا کہ جس معاشرے مےں ”جرم و سزا“ کے حوالے سے بے لچک روےے موجود نہےں ہوں گے‘ اسے تنزل اور تباہی سے کوئی نہےں بچا سکتا۔
اس بات کی وضاحت ےوں کی جا سکتی ہے کہ جس معاشرے مےں کسی بھی جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو ےہ احساس نہےں ہو گا کہ وہ جلد ےا بدےر سزا سے نہےں بچ سکتے‘ اس معاشرے کی واحد منزل تباہی ہو گی۔
قرآن حکےم مےں اللہ تعالیٰ نے ےہی حقےقت ہم پر واضح کی ہے کہ جہاں جرم ہو گا وہاں سزا بھی ہو گی‘ اور جس معاشرے مےں مجرم کو سزا نہےں ملے گی اس معاشرے کو اللہ تعالیٰ مجرم قرار دے کر سزا دے گا۔جو بھی شخص سمجھتا ہے کہ وہ خدا کی سزا سے بچ سکتا ہے وہ اپنے آپ کو دھوکا دےتا ہے۔
اگر خدا نے جرم کے ساتھ سزا کو لازم و ملزوم نہ بناےا ہوتا تو ےہ دنےا درندوں کی بستی بن چکی ہوتی۔
مےں نے آج ےہ موضوع قوم اور معاشرے کے ان مجرموں کو ذھن مےں رکھ کر منتخب کےا ہے جو اپنے اختےارات اپنا مقدر سنوارنے اور قومی خزانے پر ڈاکے ڈالنے کےلئے استعمال کرتے ہےں۔ اےسے مجرموں کا نام لےنا ےا ان کی نشاندہی کرنا مےں ضروری نہےں سمجھتا۔ وہ سب عوام کے سامنے ہےں۔ ان کی بے انداز دولت ان کے جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جب تک ان مجرموں کو عدالتوں کے کٹہرے مےں نہےں لاےا جائے گا اور انہےں عبرتناک سزائےں نہےں دی جائےں گی‘ اس وقت تک اس ملک کو فلاح اور ترقی کی راہ پر نہےں ڈالا جا سکے گا۔
اقتدار اور کاربار کو ساتھ ساتھ چلانا اتنا بڑا جرم ہے کہ بڑی سے بڑی سزا بھی اس کےلئے کافی نہےں۔
مجھے ےقےن ہے کہ جن لوگوں نے عوام کے اعتماد کو دھوکہ دے کر اپنے اختےارات اپنی ”امارت“ ”دولت“ اور ”تجارت“ کو فروغ دےنے کےلئے استعمال کئے ہےں انہےں آخرت مےں خدا سونے کی ان دہکتی ہوئی اےنٹوں سے داغے گا جنہےںجمع کرنے کےلئے وہ زندگی بھر جرم کرتے رہے۔
کتنا ہی اچھا ہو کہ معاشرہ خود اتنا طاقتور ہوجائے کہ اےسے مجرموں کی گردنوں مےں رسےاں ڈال کر سڑکوں پر گھسےٹے تا کہ وہ آنے والے اہل اقتداار کےلئے عبرت کے نشان بن جائےں!
آج قوم اور اس کے اداروں کے سامنے سب سے بڑا چےلنج ےہی ہے۔
اگر ےہ مجرم بچ نکلے تو ہمارا کوئی مستقبل نہےں…………
٭٭٭٭٭

Scroll To Top