Browsing Category

آج کے کالمز

مورخ لکھے گا”ایک تھا بھارت“

”ہندو توا کی انسانیت دشمنی بھارتی وحدت میں نصب بارودی سرنگ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے،، بھارت دنیا کی سب سے بڑی ”جمہوریت،، ہونے کا دعویدار ہے۔ وہ ایک عرصے تک جنوبی ایشیائی خطے کا داروغہ بننے کے لئے اکنافک عالم میں اسی دعوے اور پراپیگنڈے کا…

اپنے گلشن کی پت جھڑ روکنے کے لئے مائنس ون کا شوشہ!

سولہ مہینوں میں سولہ پسپائیاں اور رسوائیاں اور اب سترہویں کی تیاریاں، کوئی ڈھیٹ ہو تو ہماری ممدوح اپوزیشن کی طرح، ورنہ ڈھٹائی اور جگ ہنسائی بے مزہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ میں پورے و ثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لندن میں جمع نون غنوں کے سارے پیارے اس…

نونی پنج پیاروں کا لندن پلان!

پاکستان میں پے درپے ناکامیوں اور پسپائیوں کے بعد نا مرادیوں کے بوجھ تلے دبی اور طوطامار رسوائی سے نڈھال اور بد حال نون غنی قیادت اور اب اپنے سابقہ آقاو¿ں ، مربیوں اور سانجے داروں کے شہر لندن میں جمع ہو رہی ہے۔ اقتدار سے محرومی، احتسابی…

اب تیرا کیا بنے گا کالیا

ب سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کے پاس بیچنے کو چورن کون سا رہ گیا ہے ۔ پچھلے15مہینوں میں انہوں نے ہر قسم کے چنا چور گرم کا بازار گرم کئے رکھا۔ عمران خان کا ناطقہ پہلے دن سے ہی بند کرنے کا کون سا جتن ہے جو اس نا ہنجار اپوزیشن نے نہ آزمایا۔ پچھلے…

پر تماشہ نہ ہوا

شرمناک شکست پرشکست انہوں نے جن پتوں پر تکیہ کئے دکھا، وہ سب ایک ایک کمر کے ہوا دینے لگے۔ ان کے لئے تازہ ترین شکست5اگست سے منسوب جانئیے۔ کتنی آسیں امیدیں تھیں انہیں اس تاریخ سے۔ وہ چند روز پہلے نام نہاد رہبر کمیٹی جو درحقیقت خود ان کے لئے…

جزا وسزا کا پاکستانی ماڈل تیار کیجئے

جناب عمران خان نے پاکستان میں جو ہو نوعی اصلاحی تحریک بپا کی ہے وہ درحقیقت ایک بڑی جہد مسلسل کا ایک پرتو،ایک جہت اور ایک پرت ہے جس کا اگلا رخ روشن وہ انقلاب ہوگا جس کا نورانی استعارہ ریاست مدینہ ہوگا۔ تاہم یہ جہد مسلسل اپنے معروضی حالات کے…

مورخ لکھے گا، ”ایک تھی پیپلز پارٹی“

لاہور کی اجنبی زمین میں اب وہ اذکار رفتہ درخت جڑ نہیں پکڑ سکے گا کوئی جائے اور بلاول ہاو¿س کے مکینوں کو سبھائے۔ جمہوری اختلاف کی آڑمیں جمہور ہی کو صوبائی عصبیت کی بھینٹ چڑھانا چھوڑ دیں۔ ایسی چتر چالکیاں اب قصہ¿ متروک ہو چکیں۔ یہ آج کل…

اِدھر اکیلا اُدھر جتھہ۔۔۔مگر شکست در شکست جتھے کا نصیبہ

اگر عمران خان ہی وہ رجل رشید اور بطل جلیل ہیں جن کے ذریعے پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر استوار کرنا مقصود ہے تو پھر میرے اللہ سوہنے کی ہر (چال) حکمت ہی کامیاب ہو کر رہے گی۔ اور اس حقیقت کے ادراک کے لئے کوئی زیادہ تحقیق اور لمبی چوڑی…

پارلیمانی یا صدارتی طرز حکومت کی بحث! تیسری قسط

اس وقت دنیا میں سعودی، چینی، برطانوی اور امریکی طرز حکمرانی کے چار ماڈلز کامیابی سے جاری ہیں۔ ان چاروں کی بنیادی ساخت میں بعدالمشرقین پایا جاتا ہے۔ تاہم چاروں ہی اپنے عوام کو گڈ گورننس یعنی اچھی حکمرانی کے ذریعے بنیادی انسانی ضروریات کی…

پارلیمانی یا صدارتی طرز حکومت کی بحث!

”اسلام اپنے پیروکاروں کو دنیا و آخرت کے لئے ہمہ جہتی اور متنوع رہنما اصول فراہم کرتا ہے، جو اعتقادات، عبادات، ذات(SELF) معاشرت، حکومت اور ریاست کے تمام معاملات پر محیط ہیں۔ اجتماعی معاملات ہیں ”باہمی مشاورت“ کی اساسی رہنمائی کے بعد اللہ پاک…