Browsing Category

آج کی بات

لبرلزم کو عالم اسلام میں شکستِ فاش کا سامنا ہے

کوئی نہ کوئی خبر ایسی میری نظر سے گزر جاتی ہے جس کی وجہ سے مجھے اپنے موضوع کا انتخاب کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ مثال کے طور پر آج سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدمرزا سے منسوب یہ بیان میری نظر سے گزرا ہے کہ پاکستان اور جدید ترکی دونوں…

ترک صدر نے پاکستان کا دورہ ایسے موقع پر کیا ہے جب اہل کشمیر کے حقوق کی آواز بلند کرنے والی حکومت کو مغرب کے آلہ کار غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔طیب اردوان سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ سی آئی اے اور اس کی حلیف ایجنسیاں مایوس سیاست…

ہم برسہا برس سے خود کو ایک ہی  مقام پر کھڑا کیوں پاتے ہیں؟ 

1993ءکی انتخابی مہم میں پی پی پی کے لئے جو ایڈورٹائزنگ میسیج میں نے منتخب کئے تھے ان کی اہمیت میرے خیال میں آج پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ نمبر ایک: صرف چہرے نہیں نظام بھی بدلے گا۔ نمبردو: حکمرانوں کا قانون نہیں ہوگا قانون کی حکمرانی ہوگی۔ نمبر…

فیصلے عمران خان کی چھٹی حّس کرتی ہے

میں عمران خان کے مداحوں اور پرستاروں کو اُن کے بارے میں ایک دلچسپ بات بتانا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی شخص سوچتا ہے کہ ملک کا کوئی بھی سیاست دان عمران خان سے زیادہ پڑھا لکھا اور ذہین ہے تو میں سمجھوں گا کہ وہ اپنے دماغ کے ساتھ انصاف نہیں کررہا۔…

کتوں کو کھلے عام سڑکوں پر آوارہ گھومنے اور موقع پاکر راہگیروں کو کاٹنے اور ان کی زندگی کے لئے خطرہ بننے کی آزادی شاید صرف ہمارے ملک میں حاصل ہے۔لگتا ہے کہ پاگل کتوں کوانتظامیہ کی طرف سے ویسا ہی تحفظ حاصل ہے جیسا تحفظ عدلیہ کی طرف سے کرپٹ…

راہ وفا کا شہید۔۔۔ مقبول بٹ

میں ہرگز موت سے نہیں ڈرتا، جب ہر زندہ کو ایک روز مرنا ہے تو پھر اس سے ڈرنا کیا۔ وہ لوگ جو معزز انسانی مقاصد کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ موت ان کے لئے محض عبوری حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت میں وہ جسمانی طور پر مخفی ہو جانے کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔ میں…

کرپشن نہیں ہوگی تو سیاست کیسے ہوگی ؟

بات یہ ایک وفاقی وزیر کی ہے جو پھلجھڑیاں چھوڑنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ آرمی چیف نے پاناما لیکس کے معاملے میں پیدا ہونے والی افراتفری اور بحرانی کیفیت کے پس منظر میں کرپشن کے خلاف جو اعلان جہاد کیا ہے اس کا ” خیر مقدم “ کرنے میں وزیر…

بات دو انتہاﺅں پر کھڑ ے ملاﺅں کی

آٹھ جولائی کی رات کو ” آج“ کے طلعت حسین اپنے پروگرام میں لبرل ازم کے بے تاج بادشاہ امتیاز عالم کے ساتھ ” پنجہ آزما“ تھے۔ میرے خیال میں ” مکالمہ آزما“ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ امتیاز عالم فرما رہے تھے کہ اسلامی جنونیوں اور مذہبی انتہا پسندوں…

بھارت کی بغل میں کیا ہے ؟

جو موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان سے متعلق لکھی گئی تحریوں کا یہ سلسلہ ءنشر مکرّر آپ کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔۔۔ ہر حکمران کو مملکت کی باگ ڈور سنبھالنے سے پہلے چند حقائق پور ے تیقّن کے ساتھ جان لینے چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ اس کی مملکت…