swiss replica watches replica watches replica uhren https://www.luxuryreplicawatch.to https://www.wellreplicas.to

اسٹیٹ بینک کی مراعات معیشت کی بہتری میںمدد دیں گی ، عمران خان

کورونا کے ہنگام میں کاروباری طبقے کیلئے اسٹیٹ بینک کی مراعات نہ صرف ملک بھر کئی اہم کاروباروں کو زندہ رہنے میں مددگار ثابت ہونگی بلکہ عین ممکن ہے کہ اس سے بیروزگاری کے سیلاب کے آگے بند باندھنے میں بھی مدد ملے، وزیر اعظم

اسلام آباد(الاخبار نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کاروباری طبقے کے لیے اسٹیٹ بینک کی مراعات کے اعلان کا مقصد ٹارگٹڈ لاک ڈاون کے دوران عوام کا تحفظ کرنا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا ہے کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام جاری ہے، کاروباری طبقے کو بھی مراعات دے رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا اقدام معیشت کو رواں رکھنے میں مدد دے گا، یہ اقدام بڑے پیمانے پر بیروزگاری سے بچنے میں بھی مددگار ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکس ریفنڈز اور زراعت کیساتھ تعمیرات کے شعبے کو کھولنے جیسے فیصلے بھی کئے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کورونا کے ہنگام کاروباری طبقے کیلئے  اسٹیٹ بینک کی مراعات نہ صرف کاروباروں کو زندہ رہنے میں مدد دیں گی بلکہ ان سے بیروزگاری کے سیلاب کے آگے بند باندھنے میں بھی مدد ملے گی۔ Çاسٹیٹ بین کنے نوکریاں بچانے کیلئے احسن اقدام اٹھاتے ہوئے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے کمپنیوں کو رعایتی قرضہ دینے کا اعلان کر دیا ۔کاروباری ادارے ملازمین کو برطرف کرنے کی بجائے چار اور پانچ فیصد شرح سود پر قرضہ حاصل کرسکیں گے ، گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق 20سے50 کروڑ روپے تک رعایتی قرضے دو سال کیلئے ملیں گے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے صنعتوں کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کردیا ، جس کے ذریعے صنعتکار اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کیلئے بینک سے آسان شرائط پر قرضہ لے سکیں گے۔ 92نیوز سے بات کرتے ہوئے صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کہ وجہ سے کاروباری سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں۔اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم کو ری فنانس اسکیم فار پیمنٹ آف ویجز اینڈ سیلریز ٹو ڈا ورکرز اینڈ ایمپلائز آف بزنس کنسرنس کا نام دیا ہے تاکہ کاروباری ادارے مسلسل نقصان کی وجہ سے ملازمین کو برطرف نہ کرے اور تمام افراد کا روزگار چلتا رہے۔ صنعتکار کہتے ہیں حکومت یوٹیلیٹی بلز کی ادئیگی کیلئے بھی اسکیم متعارف کرائے تاکہ ہمیں ریلیف مل سکے ۔

You might also like More from author