اگر اسی آئین کی آستین سے ایک خنجر نمودار ہو۔۔۔

تقریباً نوے برس قبل علامہ اقبال ؒ نے پیشگوئی کی تھی کہ مغربی تہذیب خود اپنے خنجر سے خود کشی کرے گی۔ وہ وقت اب شاید زیادہ دور نہیں ۔ مادہ پرستی اور بنیادی اخلاقی اقدار سے انحراف نے مغربی تہذیب کو جہاں لاکھڑا کیا ہے وہاں سے خودکشی کے لئے کود نے والی کھائی زیادہ دور نہیں۔ اور یہ بات میں پورے تیّقن کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مغربی تہذیب کے ” پرُجوش “ نقالوں کا حشر کچھ کم برُا نہیں ہوگا۔

مگر میرا موضوع یہاں کچھ اور ہے۔

میں یہاں یہ بات زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ جس ” نظام“ نے وطنِ عزیز کو حالیہ اخلاقی ¾ معاشی ¾معاشرتی اور سیاسی بحران کے دلدل میں لاکھڑا کیا ہے اسے اپنے انجام کو پہنچنے کے لئے شاید فرانس ¾ روس اور ایران جیسے خونی انقلاب کی ضرورت نہ پڑے یہ خود ہی اپنے ہی خنجر سے اپنا گلا کاٹ ڈالے گا۔ اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ یہ کرپشن اور لوٹ مار کے فروغ کا نظام ہے ۔ اس کا ڈھانچہ ہی کچھ ایسا ہے کہ تقریباً دو ہزار سے تین ہزار خاندان حکمرانی کے عمل میں ہر وقت شریک رہتے ہیںاور اختیارات کے بے دریغ ناجائز استعمال کے ذریعے اپنی دولت میں ہر ممکنہ طریقے سے اضافہ کرتے رہتے ہیں جس کا کچھ حصہ وہ انتخابی عمل میں ” دو بارہ کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے “ خرچ کرتے ہیں۔

حکمرانی خواہ شخصی ہو یا چندامراءکی ” جمہوریت“ کا لیبل بڑی باقاعدگی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ۔ دو برس قبل جب موجودہ عدلیہ کو آزادی کے ساتھ کام کرنے کا ” اختیار “ ملا تھا تو امید پیدا ہوئی تھی کہ اب شاید حکمرانی کے ڈھانچے میں مکافاتِ عمل یا احتساب کی کوئی گنجائش پیدا ہو اور بدعنوانیوں ¾بداعمالیوں اور بدقماشیوں نے معاشرے کو جتنی شدت کے ساتھ اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے اس شدت میں نمایاں کمی واقع ہو۔

لیکن بدعنوانیوں، بداعمالیوں اور بدقماشیوں کی طاغوتی قوتوں نے قوم کی امیدوں کو مٹی میں ملا کر رکھ دیا ہے۔ ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ کو حقیقی معنوں میں فعال اور موثر بننے کے لئے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کا اختیار چاہئے۔ اور یہ اختیار موجودہ نظام میں اس حکومتی ڈھانچے کے پاس ہے جس کی بدعنوانیوں ¾بداعمالیوں اور بدقماشیوں کی وجہ سے آج وطنِ عزیز خود کو مایوسی اور بربادی کے اندھیروں میں ڈوبتا دیکھ رہا ہے۔ پاکستان سٹیل کے کیس میں جو سلوک طارق کھوسہ کے ساتھ ہوا وہی سلوک نیشنل انشورنس کے کیس میں ظفر قریشی کے ساتھ ہورہا ہے۔ جہاں تک چیف جسٹس صاحب کا تعلق ہے وہ ایک طرف تو اصلاحِ احوال کے مشن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور دوسری طرف اس عزم کے اعاد ے کی ضرورت بھی بار بار محسوس کرتے ہیں کہ آئین سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ کیسا آئین ہے جو قائداعظم ؒ کے پاکستان کوتباہی و بربادی کے غار کی طرف دھکیلتا چلا جارہا ہے ؟

اگر کسی روز اسی آئین کی آستین سے کوئی خنجربرآمد ہو جو اس کا گلا کاٹ ڈالے تو کسی کو ماتم کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ قوم ایک بار پھر مٹھائیاں تقسیم کرے گی۔۔۔

)یہ کالم اس سے پہلے 06-07-2011 کو شائع ہوا تھا(

 

 

 

You might also like More from author