بڑا دہشت گرد کون ؟ اسامہ یا ٹرومین

آج کا دن دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ بڑی نفرت اور بڑے اندوہ کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔
آج کے روز انسانی خون میں رنگی سامراجی آرزوئیںپالنے والے امریکہ نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا تھا۔
جو ہزاروں جانیں وحشت وبربریت کے اس کھیل میں تلف ہوئیں ¾ جو لاکھوں گھر انسانی زندگی کو حقیر اور بے وقعت سمجھنے والے امریکہ نے اس روز اجاڑے اور جو لاتعداد لوگ تابکاری کے تباہ کن اثرات سے کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اپنی جان نہیں چھڑا سکے۔۔۔ وہ سب کے سب تب تک انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے ضمیر کا منہ چڑاتے رہیں گے جب تک واشنگٹن میں یہ احساس حکمران نہیں ہوتاکہ ” جس دہشت گردی کے خلاف ہم نے پوری دنیا میں محاذ کھول رکھا ہے ¾ اور جسے ختم کرنے کے لئے کرہ ارض کے طول و عرض میں آگ خون اور بربادی کی داستانیں لکھی جارہی ہیں اس دہشت گردی کا حقیقی مسکن ہمارے اندر ہے۔ اگر ہمیں دنیا میں امن قائم کرناہے تو سب سے پہلے دنیا پر غلبہ پانے اور قائم رکھنے کے اُن خوابوں کا گلاگھونٹنا ہوگا جو ہماری صفوں میں ڈک چینی اور رمسفیلڈ جیسے سفاک درندے پیدا کرتے ہیں ۔۔۔“
حیرت کی بات ہے کہ جس تہذیب نے اسامہ بن لادن کو عظیم ترین دہشت گرد قرار دیا ۔۔۔ وہ اس ٹرومین کا نام احترام سے لیتی ہے جس نے ہیروشیما کے بے گناہ لوگوں کو لقمہءاجل بنا ڈالنے کا فیصلہ کرنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی تھی۔
)یہ کالم اس پہلے 06-08-2011کو شائع ہوا تھا(

You might also like More from author