نئی قرار دادِ پاکستان (دوسری قسط)

معاشرے میں ہر فرد کو اس کے حصے کا فکری،روحانی اور سامان رزق اور وسائل نشوونما مساوی سہولتوں کے ساتھ میسر آتے رہیں گے بالکل جس طرح سورج کی روشنی، چاند کی چاندنی اور سانس کے لئے آکسیجن ہوا، ہر فرد اور بشر کے لئے یکساں طور پر کھلی ہے۔ اس کائنات کو پالنے والا عظیم رب اپنی سنت ربوبیت کے ذریعے انسان کو بھی ہی پیغام دے رہا ہے، کہ وہ بھی اپنی معاشرت اور ریاست میں اپنے رب کی سنت اور عادی کو جاری و ساری اور نافذ کرے۔ اسی منصب کی تکمیل کے لئے انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے

ہمارے قائد نے ہم پاکستانیوں کو اسی عظیم منصب میںسرخرو ہونے کی غرض سے برصغیر میں ایک الگ وطن کا مطالبہ اور وعدہ کیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ وہان صلوٰة سمیت تمام اسلامی مساوات کو ان کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جاسکے۔ اور یہاں بسنے والوں کو ایک ایسی جنت گم گشتہ لوٹائی جاسکے، جہاں ان کے لئے زندگی کسی عذاب کی بجائے ثواب ہو، اپنے اللہ سوہنے کی رحمت، برکت اور نعمت سمجھی جائے۔
مگر ہوا کیا؟
قائد پاکستان کے روپ میں ہمیں ایک الگ گھر ایک الگ وطن دینے کا وعدہ پورا کر کے اپنے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کے بعد اس وطن میںجاگیر شاہی، وڈیرہ شاہی، سرمایہ شاہی، نوکرشاہی اور ملاشاہی کے نمائندوں اور گماشتوں نے جو گل کھلائے اس کی روح فرسا تفصیل ہم سب کے سامنے ہے کاغذوں میں ہم آزاد ہونے کے باوجود آج بھی مختلف حوالوں سے قیدی اور غلام ہی ہیں۔ ایک نئی قسم کے استعماری نظام کے عالمی ساہوکاروں کی سفاکانہ غنڈہ گردی کے غلام، جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ شاہوں، نوکر شاہوں ، ملاشاہوں اور ان کے گماشتوں کے غلام، بدترین قسم کی غریبی، بے روزی ، بیماری اور بے گھری کے غلام۔
اب ایک طرف افتگادگان خاک کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے تو دوسری طرف ایک مختصر سی اقلیت ایسی بھی ہے جس نے ملک و قوم کی غالب ترین دولت اور وسائل کو اپنے غاصبانہ شکنجے اور قبضے میں جکڑ رکھا ہے۔ سامان رزق کی تقسیم کا یہ نظام سراسر غیر انسانی اور غیر اسلامی ہے۔ اس کا صلوٰة میں پائی جانے والی مساوات کی عظیم سچائی اور سوہنے رب کی بے مثل ربوبیت کے ساتھ رتی بھر کا بھی رشتہ و تعلق نہیں ہے۔
اسلامی نظام حیات پر مبنی اپنی جنت گم گشتہ کو پھر سے پالینے کے لئے لازم ہے کہ ہم ایک بار پھر اپنے قابل فخر روحانی وفکری ورثے اور اقبال و قائد کے وژن کے مطابق اس دور اور اس عہد کے تقاضوں کے مطابق ایک نیا عہد نامہ ایک نئی قرا ر داد پاکستان تخلیق کرنا ہوگی۔ ایک ایسی قرار داد جو پاکستان کے حقیقی وارثوں اور افتادگان خاک کے لئے ان کے روحانی، فکری اور مادی سامان رزق اور وسائل نشوونماکی باعزت اور بہ سہولت فراہمی کی ضامن(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر28
ہو اور جو اپنے دامن میں جوشش کار اور جستجوئے کمال کے جواہر فراہم کرتا پھر۔
بہار آتی ہے تو چہار سو رنگوں اور امنگوں کے پرچم لہرانے لگتے ہیں۔ نئی کونپلیں، نئی کلیاں، نئے شگوفے اور نئے پھول زندگی کی خوشبو بن کر یہاں، وہاں، تہاں پھیل جاتے ہیں۔ ٹوتی ہوئی جڑیں جڑنے لگتی ہیں۔ مایوسی آس امید میں ڈھل جاتی ہے اور زندگی کی تاریک راہوں پر روشنی کے ستارے جھلملانے لگتے ہیں۔
ہم پاکستانیوں کا نصیبہ بھی ایسی ہی خوشگوار بہار سے جڑا ہوا ہے۔ تو پھر کیوں ناں اس بہار کا سرنامہ، ایک نیا عہد نامہ، ایک نئی قرار داد پاکستان رقم کرہی دیں۔

You might also like More from author